ببلو ٹھیک کہتا تھا!

اس خدائی آفت کورونا وائرس کے طفیل زندگی کی چھ دہائیاں گزارنے کے بعد علم ہوا کہ ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ اس سے پہلے تو ہم ہاتھ دھونے کے نام پر جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ ہاتھ دھونے کے نام پر تہمت محسوس ہو رہی ہے۔ اس ہاتھ دھونے کے درست طریقے نے یقینا ببلو کے دل کو بڑا حوصلہ دیا ہوگا۔
ہم تجسس کے مارے ہوئے لوگ ہیں۔ ایسے متجسس کہ کسی ستم ظریف نے کہا کہ اگر ہمیں جنت میں بھیج دیا گیا تو کئی منچلے صرف یہ دیکھنے کیلئے دوزخ کو چل پڑیں گے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے؟ میں نے دوستوں کی ایک تقریب میں اپنا ایک آنکھوں دیکھا واقعہ بیان کیا۔ یہ واقعہ میں برسوں پہلے ایک قومی اخبار میں‘ جہاں میں پہلے کالم لکھتا تھا‘ اپنے ایک کالم میں لکھ چکا تھا مگر اس تقریب میں بیٹھے ہوئے ایک کالم نویس دوست نے ہفتہ‘ دس دن بعد مقامی اخبار میں چھپنے والے اپنے کالم میں اسے اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بنا کر بڑے اعتماد سے لکھ دیا۔ اسے یہ بھی خیال نہ رہا کہ کم از کم چالیس پچاس لوگوں نے ابھی چند دن بیشتر یہ واقعہ میری زبانی سنا ہے اور یہ کالم نگار دوست وہاں موجود تھا۔
میں تب قاسم پور کالونی میں واقع ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کی اس سرکاری رہائشگاہ میں رہتا تھا‘ جو میری ماں جی کو بطور پرنسپل گورنمنٹ کی جانب سے ملی ہوئی تھی۔ میں تب بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں پڑھتا تھا اور یونیورسٹی آنے جانے کیلئے عموماً یونیورسٹی کی بس میں سفر کرتا تھا۔ یونیورسٹی سے گھر واپس آنے کے بعد اگر شہر جانا ہوتا تو عام طور پر اپنی پرانی ریلے سائیکل استعمال کرتا‘ جو ابا جی اور بھائی طارق مرحوم سے ہوتا ہوا مجھ تک پہنچی تھی۔ ‘ملا کی دوڑ مسجد تک‘ والا معاملہ تھا اور میں سہ پہر کو اس سائیکل پر چڑھ کر منیر چودھری کے پاس گلی کمنگراں اندرون دہلی گیٹ جاتا یا ندیم گجر کے پاس نواں شہر جاتا اور ان دونوں دوستوں کے ساتھ پھر آگے روانہ ہو جاتا۔ یہ چیزیں بھی طے تھیں۔ ندیم کے ساتھ میں اقبال کے کھوکھے پر پل شوالہ چلا جاتا اور رات گئے تک کھوکھے کے پھٹے پر بیٹھے رہتے۔ منیر چودھری کی بیٹھک میں تھوڑی دیر بیٹھے کے بعد ہم وہاں سے پیدل نکلتے اور کینٹ سے گھوم کر واپس آ جاتے۔ اگر جیب میں پیسے ہوتے تو درباری کباب پراٹھے والے سے کباب پراٹھا یا لیگ پیس کھاتے اور پیدل واپس آ جاتے۔ اس ساری چلت پھرت میں سب کچھ گھر پہنچنے سے پہلے ہی ہضم ہو جاتا۔
اس روز اتوار تھا اور میں صبح دس گیارہ بجے ہی منیر چودھری کی طرف چلا گیا۔ دوپہر کے بعد گھر واپس آ رہا تھا کہ راستے میں آنے والے ریلوے پھاٹک پر رکنا پڑ گیا۔ ٹرین کی آمد کی وجہ سے پھاٹک بند تھا اور گاڑیاں موٹرسائیکل وغیرہ پھاٹک کھلنے کے انتظار میں کھڑے تھے۔ میں بھی پھاٹک کے سامنے پہنچ کر کھڑا ہو گیا۔ تبھی دیکھا کہ ایک طرف سے ٹرین پوری رفتار سے آ رہی ہے اور ہارن پر ہارن بجا رہی ہے تاکہ پھاٹک سے گزرنے والے لوگ محتاط ہو جائیں۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بندہ پھاٹک کے ساتھ سائیڈ میں موجود چھوٹے سے گزرگاہ ٹائپ راستے کے پاس آ کر اپنی سائیکل سے اترا۔ اس نے اس تنگ سے راستے‘ جس میں بطور رکاوٹ لوہے کے ڈنڈے پر گھومنے والے دھرے پر چار عدد رکاوٹی سریے تھے‘ کے درمیان سے گزرتے ہوئے اپنی سائیکل سر سے اوپر اٹھائی‘ سامنے سے آتی ہوئی ٹرین سے بے خوف ہو کر بھاگ کر ریلوے لائن عبور کی اور دوسری طرف چلا گیا۔ لمحہ بھر بعد وہاں سے ٹرین گزری تو مجھے احساس ہوا کہ اس شخص کے پاس بس دو چار لمحوں کا ہی وقت تھا اور وہ لمحہ بھر تاخیر کرتا تو کوئی جان لیوا حادثہ رونما ہو سکتا تھا۔ تب میرے دل میں آیا کہ خدا جانے اسے کیا مجبوری تھی اور اللہ جانے اسے کیا ضروری کام تھا کہ وہ یوں جان تلی پر رکھ کر اس طرح افراتفری میں ٹرین کے سامنے سے گزر گیا۔ دو چار منٹ کے بعد پھاٹک کھل گیا اور میں بھی دیگر ٹریفک کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ پھاٹک سے ایک فرلانگ بعد بائیں ہاتھ پر نیشنل سلک ملز کا بڑا سا خالی پلاٹ تھا۔ مل بند ہو چکی تھی۔ دیوار گر چکی تھی اور خالی پلاٹ میں بچے کھیلتے رہتے تھے۔ اس پلاٹ میں بندر والا تماشا دکھا رہا تھا اور پھاٹک کو بھاگ دوڑ میں جان ہتھیلی پر رکھ کر پار کرنے والا وہ شخص ایک طرف سائیکل کھڑی کرکے اس کے کیریئر پر چڑھ کر بندر کا تماشا دیکھ رہا تھا۔
فی الوقت لاک ڈائون کا یہ عالم ہے کہ بعض منچلے صرف یہ دیکھنے کیلئے کہ لاک ڈائون کیسا چل رہا ہے‘ شہر میں گھنٹہ دو گھنٹہ گھوم کر آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آپ لوگوں نے ہمیں خواہ مخواہ گھر میں پابند کر رکھا ہے۔ شہر بھر میں لوگ مزے سے گھوم پھر رہے ہیں۔ اب بھی شہر میں بلاوجہ گھومنے والوں کی تعداد مجبوراً گھر سے نکلنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ یہاں ملتان میں تو لاک ڈائون تقریباً مذاق بنا ہوا ہے۔ درمیان میں ایک دو دن پوچھ تاچھ اور سڑکوں پر رکاوٹیں رکھ کر تھوڑی سختی کی تھی‘ مگر اب سب کچھ نارمل ہے۔ صرف محتاط اور بقول ایک نوجوان کے ”بزدل‘‘ لوگ اس کی پابندی کر رہے ہیں؛ تاہم یہ بھی خاصی بڑی تعداد ہے جو احتیاط اور ”بزدلی‘‘ کے باعث بلاوجہ گھر سے نہیں نکل رہی۔ وگرنہ تماش بینوں نے اس لاک ڈائون کو بھی ایک طرح سے تفریح کا ذریعہ بنا لیا تھا۔
چودھری بڑا مزیدار کریکٹر تھا۔ الٹی سیدھی حرکتیں کرنا اس پر ختم تھا۔ ایک دن ہمارے ساتھ ڈیرہ اڈا پر ٹیسٹی کڑاہی والے سے کڑاہی گوشت کھا کر کینٹ کی طرف چل پڑا۔ ہم سب بھی اس کے ساتھ تھے۔ کینٹ بازار میں جا کر چلتے چلتے اچانک بیچ بازار کھڑا ہو گیا اور ہاتھ کو آنکھوں کے اوپر ماتھے پر رکھ کر آسمان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ ہم تو سمجھ گئے کہ کسی فضول حرکت پر مچل گیا ہے اس لیے اسے کچھ کہے بغیر شرافت سے ایک طرف ہو گئے۔ اب اس نے باقاعدہ تجسس آمیز لہجے میں ”اوئے ہوئے‘‘ ”اوئے ہوئے‘‘ کرنا شروع کر دیا۔ اس کی دیکھا دیکھی آس پاس سے گزرنے والے لوگوں نے بھی رک کر اوپر دیکھنا شروع کر دیا۔ جونہی آٹھ دس لوگوں نے اوپر دیکھنا شروع کیا چودھری نے جگہ بدل بدل کر اور گھوم گھوم کر آسمان کی طرف بغور دیکھنا شروع کر دیا۔ اردگرد والوں نے بھی جگہ بدل کر دیکھنا شروع کر دیا کہ شاید اس طرح انہیں وہ چیز نظر آ جائے جو چودھری تو دیکھ رہا ہے مگر وہ اسے دیکھنے سے محروم ہیں۔ ایک آدھ منٹ کے بعد چودھری نے ہاتھ نیچے کیا اور خاموشی سے ایک طرف کھسک گیا۔ باقی لوگ تو ابھی اوپر ہی دیکھ رہے تھے؛ تاہم ایک شخص نے چودھری کے کندھے کو ہلا کر پوچھا۔ بھائی! اوپر کیا ہے؟ چودھری کہنے لگا: کچھ بھی نہیں۔ وہ شخص کہنے لگا: تو آپ اوپر کیا دیکھ رہے تھے۔ چودھری کہنے لگا: میں تو یہ دیکھ رہا تھا کہ آسمان پر آج بھی کوئی پتنگ نہیں اڑ رہی۔ اس شخص نے چودھری کو گھور کر دیکھا اور زیر لب ”درفٹے منہ‘‘ کہہ کر چل پڑا۔
بعد میں ہم نے چودھری سے اس حرکت کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا: میں نے کہیں یہ واقعہ پڑھا تھا کہ لوگ اس طرح کرتے ہیں تو میں نے سوچا ذرا آزما کر دیکھوں‘ کہیں اس بندے نے جھوٹ تو نہیں گھڑا تھا۔ پس ثابت ہوا کہ وہ بندہ سچا تھا۔ ہماری قوم کو تماش بینی کا بڑا ہی شوق ہے۔
میں بھول گیا۔ کالم کے آغاز پر میں نے کہا تھا کہ ہاتھ دھونے کے اس طریقے نے ببلو کو بڑا حوصلہ دیا ہوگا تو بات یوں ہے کہ ٹی وی میں ایک اشتہار آتا تھا کہ ایک بچہ اپنا ہاتھ دھوئے جا رہا ہے۔ ایک بچی اس سے وجہ پوچھتی ہے تو وہ بتاتا ہے کہ میری امی کہتی ہے کہ ہاتھ ایک منٹ تک دھونے چاہئیں۔ وہ بچی اسے بڑے طنز سے کہتی ہے: ببلو! تیرا صابن سلو ہے کیا؟ اب کورونا کے طفیل ثابت ہوا کہ ببلو کا صابن سلو نہیں تھا۔ اس بچی کو بھی دراصل اسی طرح ہاتھ دھونے نہیں آتے تھے جیسے کورونا کی آمد سے پہلے ہمیں نہیں آتے تھے۔ ہم سب غلط تھے البتہ ‘

ببلو‘‘ ٹھیک تھا۔ یہ زندگی ایسی ہی ہے۔ بعض اوقات بڑی تاخیر سے پتہ چلتا ہے کہ ہم غلط تھے اور ببلو ٹھیک ت

Khalid- Masood-dunya

اپنا تبصرہ بھیجیں