سوچا بھی نہ تھا کہ یہ اُن کا آخری پیغام ہو گا۔

سوچا بھی نہ تھا کہ یہ اُن کا آخری پیغام ہو گا۔ میر جاوید رحمٰن کے آخری پیغام میں کامیابی کی دُعا تھی۔ وہ مجھے لطیفے بھی بھیجتے اور دُعائیں بھی، لیکن اُن کی آخری دُعا ایک ایسی جنگ میں کامیابی کیلئے تھی جس میں اپنی علالت کے باعث وہ خود عملی طور پر شریک نہ تھے لیکن اس جنگ کے عروج میں اپنی موت کو احتجاج بنا کر وہ جنگ میں عملی طور پر شریک ہو گئے۔

جنگ گروپ کے پبلشر اور ہفت روزہ اخبارِ جہاں کے ایڈیٹر انچیف میر جاوید رحمٰن ایک ایسے وقت میں دنیا سے رخصت ہوئے جب پوری دنیا کورونا وائرس جیسی موذی وبا سے لڑ رہی تھی لیکن پاکستان کے اربابِ اختیار میڈیا سے جنگ میں مصروف تھے۔

اُن کی وفات نے پوری دنیا کو یہ چیخ چیخ کر بتایا کہ جب ہر طرف موت ناچ رہی ہے تو پاکستان کے کچھ طاقتور لوگوں کو اپنی موت بھول چکی ہے وہ انتقام کی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

اُن کے چھوٹے بھائی میر شکیل الرحمٰن نے اپنے وکلا کے ذریعے 30مارچ کو دو عدالتوں میں استدعا کی کہ اُن کے بھائی میر جاوید رحمٰن شدید علیل ہیں خدارا! بھائی کی عیادت کیلئے کراچی جانے کی اجازت دی جائے لیکن یہ اجازت نہ ملی اور 31مارچ کو میر جاوید رحمٰن دنیا سے رخصت ہو گئے۔

12مارچ کو شام ساڑھے پانچ بجے اُنہوں نے وٹس ایپ پر مجھے پیغام بھیجا ’’شکیل کو نیب لاہور نے گرفتار کر لیا ہے، ابھی اے آر وائی پر خبر نشر ہوئی ہے‘‘۔ پیغام بھیجنے کی وجہ شاید یہ تھی کہ یہ خبر جیو نیوز پر نشر نہیں ہو رہی تھی۔

تھوڑی دیر میں یہ خبر جیو نیوز پر بھی نشر ہو گئی۔ اگلے دن 13مارچ کو میں نے جاوید صاحب کو پیغام بھیجا کہ آپ کو مبارک ہو کیونکہ شکیل صاحب ایک ہیرو بن چکے ہیں، اللہ آپ کو اور آپ کے خاندان کو اس مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ جاوید صاحب نے 14مارچ کو اپنے پیغام میں شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ اس مشکل وقت میں آپ سب کو میر شکیل الرحمٰن کی طاقت اور استقامت کا ذریعہ بنائے۔

مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کینسر کا شکار ہیں اور ہاسپٹل میں داخل ہیں۔ اہلِ خانہ نے اس خبر کو عام نہیں کیا کہ یہ تاثر نہ ملے کہ میر شکیل الرحمٰن کیلئے ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جب مجھے اُن کی علالت کا پتا چلا تو وہ اپنے ہوش کھو چکے تھے۔ 29مارچ کو میں نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ اُن کیلئے دعائے صحت کی اپیل کی تو آصف زرداری صاحب نے فون پر پوچھا کہ جاوید صاحب کو کیا ہوا ہے؟

میں نے بتایا کہ پھیپھڑوں کا کینسر ہے تو وہ حیران ہوئے اور کہا کہ جاوید تو بڑا نیک آدمی ہے، اُس کے پھیپھڑوں کو کیا ہوا؟ زرداری صاحب دونوں بھائیوں کو کالج اسکول کے زمانے سے جانتے ہیں۔

جب وہ حکومت میں تھے تو جنگ اور جیو کے ساتھ ویسی ہی لڑائی تھی جیسی آج کل عمران خان کی حکومت کے ساتھ ہے لیکن یہ لڑائی جھوٹے مقدمات میں گرفتاری تک نہیں پہنچی تھی۔

میر جاوید رحمٰن کی موت نے آج کے حکمرانوں کے دامن پر ایک ایسا داغ لگایا ہے جو وہ قبر میں اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔ تاریخ میں یہی لکھا جائے گا کہ جنگ کا پبلشر میر جاوید رحمٰن کراچی کے ایک ہاسپٹل میں آخری سانسیں لے رہا تھا، جنگ کا ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن سلاخوں کے پیچھے قید تھا وہ فریادیں کرتا رہا کہ مجھے بھائی سے آخری دفعہ ملاقات کی اجازت دے دو۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے نیب کو خط بھی لکھ دیا لیکن نیب نے کہا کہ اجازت عدالت دے گی اور نیب عدالت کے جج نے کہا کل آنا اور جب کل آئی تو جاوید صاحب دنیا سے رخصت ہو گئے۔

جاوید صاحب کے ساتھ میری پہلی باقاعدہ ملاقات لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی۔ 1993ء میں دی نیوز میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محبوب احمد کے بارے میں میری ایک خبر شائع ہوئی تو مجھ سمیت ایڈیٹر اور پبلشر کو توہین عدالت کا نوٹس آگیا۔

میرے پاس تمام دستاویزی ثبوت موجود تھے لیکن ادارے نے مقدمہ بازی میں الجھنے کے بجائے معافی مانگنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے منو بھائی سے مشورہ کیا۔ اُنہوں نے مجھے ایک سینئر وکیل طالب حسین رضوی کے پاس بھیج دیا۔

رضوی صاحب نے میرے پاس موجود دستاویزات کا جائزہ لیا اور کہا کہ کوئی معافی نہیں مانگنی، میں تمہارا کیس لڑوں گا۔ اس کیس کی سماعت ایک پانچ رکنی بنچ کر رہا تھا۔ جاوید صاحب بطور پبلشر کراچی سے آئے اور ایم اے نیازی بطور ایڈیٹر پیش ہوئے۔

دونوں نے وکیل کے ذریعہ معافی نامہ دیدیا لیکن میرے وکیل طالب حسین رضوی نے کہا کہ حامد میر معافی نہیں مانگے گا، ہماری خبر درست ہے۔ جج صاحبان نے بار بار کہا، آپ سوچ لیں۔ جاوید صاحب حیران کن نظروں سے کبھی مجھے کبھی جج صاحبان کو دیکھتے اور پھر مقدمے کی سماعت ملتوی ہو گئی۔

دوبارہ یہ سماعت کبھی نہ ہوئی لیکن جاوید صاحب نے کسی ناراضی کا اظہار کیا نہ کبھی پوچھا کہ جب میں نے معافی مانگ لی تو آپ نے کیوں نہ مانگی؟ 1994ء میں اس ناچیز نے روزنامہ پاکستان میں کالم لکھنا شروع کیا تو جاوید صاحب نے متعدد بار اسلام آباد میں ملاقات کر کے مجھے کچھ کالموں پر خصوصی مبارکباد دی جو میرے لئے غیر متوقع تھی۔

پھر 2002ء میں جیو کا آغاز ہوا تو جاوید صاحب نے اخبارِ جہاں کیلئے کالم کا تقاضا کیا لیکن مصروفیات آڑے آتی رہیں۔

ایک دن انہوں نے اپنی والدہ محترمہ سے کہلوایا اور میں نے کالم شروع کر دیا لیکن 2014ء میں کراچی میں قاتلانہ حملے کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ جن دنوں میں آغا خان ہاسپٹل کراچی میں زیر علاج تھا تو جاوید صاحب، اُن کی والدہ اور اہلیہ روزانہ ہاسپٹل آتے۔

اُن دنوں میں زیادہ بول نہ پاتا تھا لیکن جاوید صاحب بولتے رہتے اور اپنی کہانیاں سناتے رہتے۔ یہ میری دلجوئی کا ایک طریقہ تھا اور مجھے پتا چلا کہ وہ کتنے خداترس اور عاجز انسان ہیں۔

اُنہوں نے اپنی محنت اور ذہانت سے اخبارِ جہاں کو دنیا کا مقبول ترین اردو جریدہ بنا دیا۔ اُنہوں نے مجھ سے اخبار جہاں کے لئے آصف زرداری، اسفند یار ولی، شوکت عزیز، ملالہ یوسفزئی اور اُسامہ بن لادن کے بارے میں ایسے مضامین لکھوائے جو کوئی دوسرا ایڈیٹر نہیں لکھوا سکتا۔

جب بھی مجھ پر کوئی جھوٹا مقدمہ بنتا یا کوئی سازش ہوتی تو وہ مجھے بتائے بغیر میرے کہے بغیر اخبارِ جہاں میں میرے حق میں کچھ نہ کچھ ضرور شائع کر دیتے۔

ایک دفعہ اُنہوں نے میرے ایک ٹی وی پروگرام میں طرزِعمل پر بڑی لطیف تنقید بھی کی۔ 2017ء میں انہوں نے فاروق اقدس صاحب کے ذریعہ اخبارِ جہاں کے لئے میرا ایک تفصیلی انٹرویو کرایا اور کئی قسطوں میں شائع کیا۔

اس انٹرویو کے ذریعہ اُنہوں نے مجھ سے کئی خبریں نکلوا لیں، یہ وہ صلاحیت تھی جو آج بہت سے ایڈیٹروں میں نہیں ہے۔ وہ اپنے جریدے اور خبر کیلئے بھکاری تک بن جاتے تھے اور اسی عاجزی نے اُنہیں کامیابیاں عطا کیں۔ موت سے چند دن قبل اُنہوں نے فاروق اقدس کو فون کیا اور کہا ’’کوئی کہا سنا ہو تو معاف کرنا، اچھا بھائی خدا حافظ‘‘۔Hamid-Mir-Jang

اپنا تبصرہ بھیجیں