ڈینیئل پرل کیس: عمر شیخ کی سزائے موت ختم، 3 ملزمان بری

سندھ ہائی کورٹ نے 18 سال بعد امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے لیے کام کرنے والے صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کیس کے چار ملزمان کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے تین ملزمان کو بری اور مرکزی ملزم عمر سعید شیخ کی سزائے موت کو ختم کر کے سات سال قید میں بدلنے کا حکم صادر کیا ہے۔
عدالت کا دو رکنی بنچ جسٹس محمد کریم آغا کی سربراہی میں کیس کی سماعت کر رہا تھا، ملزمان کی جناب سے سزا کے خلاف دائر اپیل پر تمام کیس ریکارڈ کے مطالعے اور بیانات قلمبند کرنے کے بعد عدالت نے گذشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو آج سنایا گیاامریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے ساؤتھ ایشیاء بیورو چیف ڈینیئل پرل کو 2002 میں کراچی میں اغواء کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ اس وقت کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے کیس کے مرکزی ملزم برطانوی شہری عمر شیخ کو سزائے موت اور ان کے تین ساتھیوں فہد ندیم، سلمان ثاقب اور شیخ محمد علی کو عمر قید کی سزا کے علاوہ فی کس پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
ملزمان کی جانب سے فاصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی مگر معاملہ طوالت کا شکار رہا اور 10 سال اس کیس کی سماعت نہ ہوسکی۔
ملزمان کے وکیل رائے بشیر اور خواجہ نوید احمد نے عدالت کے سامنے مؤقف اپنایا کہ اس کیس کے تمام ملزمان پولیس اہلکار ہیں اور استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وکیل صفائی کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کا کوئی چشم دید گواہ بھی نہیں۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سلیم اختر نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کی تائید کی اور کہا کہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت ہو چکا ہے لہٰذا ان کی اپیلوں کو خارج کیا جائے۔

ڈینیئل پرل کراچی میں رہائش پذیر تھے (فوٹو: فیس بک)

عدالت نے ملزمان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے عمر شیخ کے خلاف سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور سات سال قید کا حکم دیا جبکہ دیگر تین ملزمان جن کے خلاف عمر قید کی سزا کا حکم تھا، انہیں با عزت بری کرنے کا حکم جاری کیا۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مرکزی ملزم عمر شیخ 18 سال سے پابند سلاسل ہے اور سات سال قید کی سزا پہلے ہی پوری کر چکا لہٰذا عدالتی فیصلے کی روشنی میں اسے رہا کردیا جائے گا۔urdunews-report

اپنا تبصرہ بھیجیں