پاکستان میں شہر اقتدار کے اہم راز ۔ڈی جی آئی ایس آئی کے فون کون ٹیپ کر رہا تھا ؟

پاکستانی سیاست میں اقتدار کے نشیب و فراز کی کہانیوں میں بہت سے راز چھپے ہوئے ہیں عوام سے بہت کچھ پایا جاتا رہا ہے اور اصل حقائق وہ نہیں تھے جو مختلف ادوار میں عوام کے سامنے پیش کئے گئے ۔
سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو ایک ٹی وی انٹرویو میں خود بتا چکی ہیں کہ اہم شخصیات کے فون آئی ایس آئی ٹیپ کرتی تھی اور نام آئی بی کا لگا کر سیاستدانوں کو بد نام کیا جاتا تھا کہ سیاستدان فون ٹیپ کرواتے ہیں ۔بے نظیر بھٹو نے یہ بھی کہا تھا کہ میرے بھائی میر مرتضی بھٹو کے قتل میں انٹیلی جنس کے لوگوں کا ہاتھ ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب ڈی جی آئی ایس آئی کے اپنے فون کوئی ٹیپ کر رہا تھا آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے فون کون اور کیوں ٹیپ کر رہا تھا اور ایسا کس کے حکم پر ہو رہا تھا ؟

یہ بات ہے سابق وزیراعظم نواز شریف کے دوسرے دور حکومت کی ۔جب نواز شریف اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے درمیان معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ چکے تھے اس وقت بھی عوام کو اصل صورت حال سے بے خبر رکھا گیا تھا بظاہر اہم شخصیات کے درمیان تعلقات ٹھیک ہو صورتحال نارمل تھی آرمی چیف اور وزیراعظم آپس میں ملتے بھی تھے آرمی چیف وزیراعظم کو سلوٹ بھی کرتے تھے اور ہاتھ بھی ملاتے تھے لیکن اندر ہی اندر حالات کارگل جنگ کے معاملات کی وجہ سے بہت بگڑ چکے تھے ۔دونوں طرف یہ خطرہ بھانپ لیا گیا تھا کہ اگر ایکشن نہ لیا گیا تو دوسرا فریق پہل کرکے میری چھٹی کرا دے گا ۔
نوازشریف کی دوسری حکومت کا تختہ 12 اکتوبر 1999 کو کیسے الٹا گیا تھا اور 12 اکتوبر سے پہلے کیا کیا واقعات ہوچکے تھے اس حوالے سے جب نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو دنیا نیوز نے اپنی ایک دستاویزی رپورٹ قیدی نمبر 1500 نشر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ نوازشریف کو ایک آڈیو سنایا گیا تھا جس میں آرمی چیف نے وزیراعظم کے بارے میں نازیبا انداز میں بات چیت کی تھی وزیراعظم ہاؤس کے مخصوص عملے کے پاس عجیب و غریب حالات کی موجودگی نے بھی وزیراعظم کو پریشان کردیا تھا وزیراعظم کے قریبی جرنیلوں کی نگرانی بھی سخت کر دی گئی تھی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیاءالدین بٹ کے فون ٹیپ کیے جارہے تھے ۔
دوسری طرف ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس میجر جنرل احسان الحق کم از کم دو مواقع پر آرمی چیف جنرل پرویز مشرف اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل عزیز احمد خان اور ڈی جی ملٹری آپریشنز جنرل شاہد عزیز کو بتا چکے تھے کہ نواز شریف جنرل مشرف کو برطرف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں ۔جنرل پرویز مشرف تو ہمیشہ بعض رہے کہ ان کا اقتدار پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ تو سری لنکا کے دورے پر گئے ہوئے تھے واپسی کے سفر پر تھے کہ جب قدم فوج نے انتہائی حالات کے پیش نظر یہ اقدام اٹھایا اور طیارہ لینڈ کرنے کے بعد انہیں ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے کا کہا گیا ۔
مذکورہ دستاویزی رپورٹ میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ لازمی یہ منصوبہ پہلے سے ہی بنا ہوا تھا۔اور بعد کے حالات اور واقعات نے اس کی تصدیق بھی کر دی لیکن جنرل مشرف انکار کرتے رہے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو میں سری لنکا کیوں جاتا ؟میں تو ہوا میں تھا جب آرمی نے یکدم یہ کاروائی کر لی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جنرل مشرف چاہے کچھ بھی کہیں لیکن جنرل مشرف کے گھر پر بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے سے پہلے ہونے والی ملاقاتیں بڑی اہمیت کی حامل تھی جن کی تفصیلات کو چھپایا گیا لیکن وہاں چار ایسی ملاقاتیں ہوئیں جن میں ڈی جی ایم آئی میجر جنرل احسان الحق ۔جنرل عزیز جنرل محمود اور جنرل شاہد عزیز ۔برگیڈئیر راشد قریشی بھی شریک ہوئے وہاں جو کچھ طے ہوا وہ اسے جنرل شاہد عزیز نے اپنے لیپ ٹاپ میں محفوظ کرلیا ۔

اس طرح واضح ہوگیا کہ یہ بات بہت پہلے طے کرلی گئی تھی کہ حکومت جنرل مشرف کو برطرف کرنے کا اعلان کرے گی تو اس کے ردعمل میں کس جرنیل نے کیا کام کرنا ہے ۔
یہ طے پا چکا تھا کہ ٹرپل ون برگیڈ کو حرکت میں لایا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر ایس ایس جی کمانڈوز اور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جائیں گے ۔

ڈی جی ایم آئی بتا چکے تھے کہ وزیراعظم نے جنرل مشرف کو برطرف کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف بنانے پر غور کیا جا رہا ہے یہ ایکشن کب لیا جائے اس کا وقت ابھی طے نہیں کیا گیا ۔جرنیلوں نے اپنی جوابی حکمت عملی مرتب کر لی تھی ۔ایس ایس جی بریگیڈ کے کمانڈر برگیڈیئر فیصل علوی کو طلب کیا گیا چیف آف جنرل اسٹاف جنرل عزیز نے برگیڈیر فیصل علوی کو بتایا کہ وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کی حفاظت کے لیے سکیورٹی بڑھانا ہوگی ۔ فیصل علوی کو ایس ایس جی کمانڈوز اور ہیلی کاپٹر تیار رکھنے کا حکم دیا گیا اگلے ہی روز دھمیال ایئربیس پر ایوی ایشن ٹریننگ کے نام پر ایس ایس جی کمانڈوز کی ایک کمپنی بھجوادی گئی ۔راولپنڈی میں ٹرپل ون برگیڈ کی صرف دو بیٹا لین موجود تھیں جو کہ والے صدر اور وزیراعظم ہاؤس کی حفاظت پر مامور تھیں ۔
پانچویں ملاقات
۔ولو بائی روڈ راولپنڈی کے ریسٹ ہاوس میں پانچویں اور انتہائی اہم ملاقات ہوئی ۔جس میں ڈی جی ملٹری آپریشنز جنرل شاہد عزیز ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر صلاح الدین ستی ایس ایس جی بریگیڈ کے کمانڈر فیصل علوی اور وزیراعظم ہاؤس کی حفاظت پر تعینات ٹرپل ون بٹالین کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل شاہد اور ایس ایس جی ضرار کمپنی کے کمانڈر ہارون اسلام بھی موجود تھے ۔اس ملاقات میں جنرل شاہد عزیز نے سب کو منصوبے کے مطابق ہدایت جاری کی کرنل شاہد کو وزیراعظم ہاؤس پر قبضے کی ڈیوٹی دی گئی کیونکہ وہ وزیراعظم ہاؤس کی حفاظت پر مامور تھے اور قبضہ کرنے کے بعد کرنل شاہد نے کور کمانڈر راولپنڈی جنرل محمود کو آگاہی دینا تھی اور جنرل محمود نے یہ معلومات آرمی چیف جنرل مشرف تک پہنچانی تھی ۔
رپورٹ کے مطابق نوازشریف کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کو تو ایک بہانہ چاہیے تھا انکے اور جنرل عزیز اور جنرل محمود کے درمیان پہلے سے یہ طے ہوچکا تھا کہ جب کبھی وزیراعظم کی طرف سے مجھے ہٹایا جائے تو آپ نے یہ کام کرنا ہے یہ مشرف صاحب کے اسٹینڈنگ آرڈر تھے تھے ان کی پہلے سے تیاری تھی اور ان کا آپس میں پورا پلان بنا ہوا تھا ۔
رپورٹ کے مطابق یہ ملاقاتیں 18 ستمبر سے پہلے ہوچکی تھی اور تمام تیاریاں مکمل کی جاچکی تھی ٹرپل ون برگیڈ کو اسٹینڈبائی رکن رہنے کی ہدایت دی جاچکی تھی ۔
لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ سلیم حیدر نے اس دستاویزی رپورٹ میں بتایا کہ یہ سب کچھ دو سے تین لوگوں نے کیا جنرل عزیز جنرل محمود مرکزی کردار تھے باقی کسی سے بھی نہیں پوچھا گیا تھا ۔
وزیراعظم نواز شریف کو ان خفیہ ملاقاتوں کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں تھا جبکہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیاءالدین بٹ لندن اور روم کے تین ہفتے کے دورے پر تھے یہ ان تمام حالات سے وزیراعظم کی لاعلمی ہی تھی کہ انہوں نے ستمبر کے آخری ہفتے میں جنرل مشرف سے تعلقات اچھے کرنے کی آخری کوشش کے طور پر انہیں رائیونڈ اپنی رہائش گاہ پر مدعو کیا اور ان کی ملاقات اپنے والد میاں شریف سے بھی کرائی ۔

حمزہ شہباز بتاتے ہیں کہ میں اس میٹنگ میں موجود تھا میرے دادا میاں شریف نے کہا کہ آپ سب کے درمیان جو بھی غلط فہمی ہے اس کو بلا کر ایک نئی شروعات کرنی چاہیے وہاں سب ایک دوسرے سے گلے ملے اور ایک ساتھ کھانا بھی کھایا پھر مشرف صاحب چلے گئے ۔

تو جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ مجھے عمرے پر ساتھ لے کر گئے گھر پر کھانے پر بلایا ان لوگوں کے ذہن میں کوئی سازش چل رہی تھی لیکن مجھے کنفیوژن میں ڈالا ہوا تھا ۔

رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں بھی نواز شریف اور مشرف کے درمیان برف نہ پگھل سکی نواز شریف نے ایک کوشش کے طور پر مشرف کو ان کی اہلیہ کے ہمراہ عمرے پر ساتھ لے جانے کی دعوت دی ۔
عمرہ سے واپسی پر راولپنڈی میں آرمی ہاؤس پر پھر تمام جرنیل اکٹھے ہوئے کچھ دن بعد مشرف کو سری لنکا کے دورے پر روانہ ہونا تھا مشرف کو حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاریوں سے آگاہ کیا گیا اس ملاقات میں مشرف نے ہدایات جاری کیں کے اگر ان کی غیر موجودگی میں حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی کرتی ہے تو فوری طور پر اقتدار پر قبضہ کر لیا جائے یہ حکم دینے کے بعد مشرف سری لنکا کے دورے پر روانہ ہوگئے ۔
10 اکتوبر کو رائیونڈ میں نواز شریف نے اپنے بیٹے حسین نواز کو رات کے کھانے کے بعد چند نقاط لکھوائے جسے ایک تقریر کی شکل دینے کے لیے کہا گیا یہ ایک ایسی تقریر تھی جو مشرف کو ہٹانے کی وجوہات بیان کرنے سے متعلق ٹی وی پر نشر ہونی تھی ۔

گیارہ اکتوبر کو نواز شریف متحدہ عرب امارات کے ایک روزہ دورے پر چلے گئے بظاہر یہ معمول کا دورہ تھا متحدہ عرب امارات کے امیر کی عیادت کرنی تھی وزیراعظم کے جہاز میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیاءالدین بٹ چیئرمین پی ٹی وی پرویز رشید اور وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز بھی موجود تھے جہازمیں نواز شریف نے مشرف کے خلاف شدید تحفظات ظاہر کرکے جنرل ضیاء الدین بٹ کو کہا کہ وہ آرمی چیف کی ذمہ داری ان کو سونپنا چاہتے ہیں حسین نواز کو تقریر میں چند نکات کا اضافہ کرنے کے لئے کہا گیا جنرل ضیاء الدین بٹ نے نیا آرمی چیف بننے کی حامی بھر لی تھی ۔
12 اکتوبر کی صبح وزیراعظم نے ملتان کا دورہ کرنا تھا جہاز میں پرویز رشید .حسین نواز اور چند فوجی اہلکار موجود تھے دوران سفر نواز شریف کی تقریر کے متن پر بات چیت ہوتی رہی لیکن نواز شریف تنہا جہاز سے باہر گئے پرویز رشید کی سربراہی میں تقریر کو دوبارہ لکھا گیا اسلام آباد واپسی کے بعد سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل افتخار کو چکلالہ ایئر پورٹ پر ملاقات کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تین بجے نوازشریف چکلالہ ایئر پورٹ پہنچے سیکرٹری دفاع کو اپنے ساتھ لیا اور وزیراعظم ہاؤس چلے گئے چار بجے پرنسپل سیکریٹری سعید مہدی اور سیکریٹری دفاع چودھری افتخار علی خان کو آرمی چیف کے عہدے سے جنرل مشرف کی برطرفی اور جنرل ضیاء الدین بٹ کی تقرری کا نوٹیفیکیشن تحریر کرنے کے لئے کہا گیا چار بج کر بیس منٹ پر وہ نوٹیفیکیشن وزیراعظم کے پاس پہنچا جو اس حکومت کا جاری کردہ آخری نوٹیفیکیشن ثابت ہوا چار بج کر چالیس منٹ پر ایوان صدر میں صدر رفیق تارڑ سے وزیراعظم نے دستخط لیے اور ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر جاوید اقبال کو نئے آرمی چیف سے وزیراعظم کی ملاقات کے فوٹو سیشن کی ہدایت کی گئی پانچ بجے آرمی چیف کی تبدیلی کی خبر پی ٹی وی پر نشر کردی گئی خبر چلنے کے محض بیس منٹ کے اندر برگیڈ ٹرپل ون کےاہلکار پی ٹی وی اسٹیشن پہنچ گئے اور خبر رکوادی۔
سعید مہدی کے مطابق چھ بجے کی خبر میں آرمی چیف کی تبدیلی کی خبر دوبارہ آنی تھی لیکن اس سے پہلے فون آیا پی ٹی وی سے کہ یہاں پر فوج آ گئی ہے اور انھوں نے یہ خبر رکوا دی ہے ۔وزیراعظم ہاؤس کو احساس ہو گیا کہ جس عمل کو وہ آسان سمجھ رہے تھے وہ اتنا آسان نہیں تھا رات9بجے کور کمانڈر راولپنڈی جنرل محمود و جنرل علی جان اورکزئی وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے جنرل محمود نے نواز شریف سے کہا کہ میں خدا سے دعا کرتا تھا کے حالات بہتر ہوجائیں اور ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑے ۔
رپورٹ کے آخر میں بتایا گیا کہ کہ سری لنکا سے پاکستان کے لیے چلنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 805 جب پاکستان میں پہنچی تو اس وقت تک فوج حکومت پر قبضہ کر چکی تھی اور بڑے ڈرامائی انداز میں جنرل پرویز مشرف کی فلائٹ کراچی میں لینڈ کرسکی۔
رپورٹ کے آخر میں بتایا گیا کہ جنرل پرویز مشرف اب قیدی نمبر 1500 بن چکے ہیں اور اپنے ہی بنائے ہوئے فام ہاؤس کے قیدی ہیں جبکہ نواز شریف کی قسمت کا ستارہ ایک مرتبہ پھر چمکا اور وہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بن چکے ہیں ۔
شہر اقتدار میں اور کیا کچھ ہوتا رہا اور کیا کچھ عوام سے چھپایا جاتا رہا اس بارے میں آئندہ قسطوں میں بتایا جائے گا ۔(جاری ہے )


اپنا تبصرہ بھیجیں