آج ہمیں انصار مدینہ کی طرح اپنی دولت کو ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے

ہم کیوں مدد کے لیے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، گورنر، انتظامیہ، فلاحی تنظیموں کی طرف دیکھیں۔ ہم خود کیوں یہ کام نہیں کر سکتے۔ کیا وزیراعظم، وزیر اعلیٰ، گورنر، وزرائ، مشیر، انتظامیہ کے افسران اور این جی اوز والے ہم سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ ہمارے اردگرد کون ضرورت مند ہے۔ کون ہے جسے روزانہ کی بنیاد پر اشیاء خوردونوش کی ضرورت ہے۔ کون ہے جس کے گھر کا کرایہ رہتا ہے۔ کون ہے جس کے گھر میں کھانے کی اشیاء کم ہو چکی ہیں، کون سا گھر ہے جہاں بچوں کی ضرورت کی اشیاء ختم ہیں۔ یہ ہم سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا کیوں کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں بارے سب سے بہتر علم رکھتے ہیں۔ آج وقت ہے کہ ہم خود اس ذمہ داری کا احساس کریں۔ حقیقت یہ ہے ہم ایک قوم بن کر اپنی مدد آپ کے تحت کام کریں تو اس مشکل وقت میں کسی بھی اندرونی و بیرونی مدد کے بغیر نکل سکتے ہیں۔ ناصرف ہم اس مشکل سے نکل سکتے ہیں بلکہ ہم ایک متحد و طاقتور قوم بن کر سامنے آ سکتے ہیں۔ اس ملک میں صاحب حیثیت افراد کی کوئی کمی نہیں ہے آج ہمیں انصار مدینہ کی طرح اپنی دولت کو ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ہمیں ریاست مدینہ کے حقیقی ماننے والوں کی طرح اپنے کمزور بھائیوں بہنوں، بیٹوں، بیٹیوں اور بزرگوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ ہمیں ایثار و قربانی کی نئی تاریخ رقم کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس ملک کے مالداروں کے پاس اتنی رقم موجود ہے کہ اگر وہ دو دو تین تین گھروں کی دو دو تین تین ماہ کی ذمہ داری اٹھا لیں تو ان کی دولت میں کمی نہ ہونے کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرما چکے ہیں۔ اس مشکل وقت میں جو خرچ کرے گا وہ یاد رکھے کہ ہر خرچ کرنے والے کو اسکی سوچ سے بڑھ کر جزا ملے گی۔ ہم کیوں اپنے جاننے والی این جی اوز کو فون کرتے ہیں کہ دو گھروں میں راشن پہنچا دیں ہم یہ ذمہ داری خود کیوں نہ اٹھائیں۔

کرونا نے ہمیں ہلایا ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ جب تمام تر دولت، طاقت، اقتدار و اختیار کے باوجود ہم گھروں میں قید ہو سکتے ہیں اور کوئی دولت کام نہیں آ رہی تو پھر ایسی دولت کا کیا کرنا ہے۔ ہمیں موقع ملا ہے کہ اس مشکل کو آسان بنانے کے لیے کام کریں۔ یہ مشکل وقت ہماری تاریخ بدل سکتا ہے، ہماری سوچ بدل سکتا ہے، ہمارے رویے بدل سکتا ہے، ہمارے روزمرہ کے معمولات کو مثبت انداز میں بدل سکتا ہے۔ حکمرانوں، سیاستدانوں، این جی اوز کے لیے مدد کر کے دکھانا ضروری ہے۔ اتنی مدد نہیں کرتے جتنی تصاویر اترواتے ہیں۔ جس کی مدد کی جا رہی ہوتی ہے اس کی عزت نفس کو بیس کلو آٹے کے نیچے دفن کر دیا جاتا ہے۔ یہی کام جب ہر صاحب استطاعت اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کریں تو کسی کی عزت نفس مجروح ہو گی نہ اشیاء خوردونوش کے لیے چوراہوں میں لائنیں لگیں گی، نہ سڑکوں پر لائنیں لگیں گی نہ خوراک کے لیے بچے گاڑیوں کے پیچھے بھاگیں گے۔
جب ہم مدد کرنا ہی چاہتے ہیں تو یہ کام خود کیوں نہ کریں کیوں حکومت کی طرف دیکھیں کیوں یہ بوجھ حکومت پر ڈالیں جتنی دیر میں حکومت ہماری دی گئی امداد پر ضرورت مندوں تک پہنچائے گی اس وقت تک نجانے کتنا نقصان ہو چکا ہو گا۔ سو سب سے آسان، بہترین اور موثر ذریعہ یہی ہے کہ ہم یہ ذمہ داری خود اٹھائیں۔ خود باہر نکلیں، لوگوں کی مدد کریں۔ اس ملک نے ہمیں سب کچھ دیا ہے۔ بڑے بڑے گھر، بڑی گاڑیاں، ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں اربوں روپے دیے ہیں یہ ساری نعمتیں اس ملک کی وجہ سے ہی ہیں۔ جب ہم مالی حیثیت میں کمزور افراد سے ہر وقت کام لیتے ہیں تو آج ان پر مشکل وقت ہے تو ہم انہیں حکومت کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیں۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے گھر صاف ہوتے ہیں، ہمارے بچے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں، مرد حضرات کی گھروں میں غیر موجودگی میں ہمارے خاندان کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہماری زندگی ان لوگوں کی وجہ سے ناصرف چلتی بلکہ آسان رہتی ہے آج ان کی زندگی مشکل میں ہے تو ہم گھروں میں بند ہو کر بیٹھ جائیں، اپنے پیسے گننا شروع کر دیں یہ کہاں کی انسانیت ہے۔ ہمیں باہر نکلنا ہے۔ آگے بڑھنا ہے ایک حقیقی مسلم معاشرے کی تصویر دنیا کو دکھانی ہے۔

قارئین کرام یاد رکھیں دولت، عزت، شہرت، طاقت، اختیار اور اقتدار ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے وہ مالک ہے جب چاہے واپس لے سکتا ہے۔ یہ تمام چیزیں ہمارا امتحان ہیں اور جن جن کے پاس یہ نعمتیں موجود ہیں انہیں ان تمام چیزوں کو ضرورت مندوں تک پہنچانا ہے۔ اس سے بہتر وقت نہیں ہو گا جب کاروبار بند ہیں، دکانیں بند ہیں، مارکیٹیں بند ہیں، ہر طرف مندی ہے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے پاس کوئی کام نہیں ہے، گھروں میں کام کرنے والے اپنے گھروں میں بند بیٹھے ہیں تو ہمیں آگے بڑھنا ہے ان سب کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ دوسروں سے فنڈ اکٹھے کر رہے ہیں تو سب سے پہلے اپنا حصہ ڈالیں۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور مختلف اہم شخصیات کے ساتھ مل کر فلاحی کاموں کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہیں ذاتی حیثیت میں بھی قوم کی خدمت میں آگے آنا چاہیے بلکہ انہیں فرنٹ سے لیڈ کرنا چاہیے ان کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمود قریشی بھی خاصے متحرک ہیں۔ صحافیوں اور ضرورت مندوں کے گھروں تک راشن پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں ہمیں انفرادی حیثیت میں کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا میں ایثار و قربانی کا ایک نیا انداز متعارف کروائیں یقیناً مدد کے اس جذبے کا بنیادی خیال حقیقی معنوں میں تاجدارِ انبیاء خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عملی زندگی سے لیا گیا ہے۔ نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ہے۔ یہ وقت ہے کہ جب ہمیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طریقے پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ یقیناً مدد کرنے والوں کی عزت، شہرت اور دولت میں اضافہ ہو گا۔ ہم مل کر ہی اس مشکل وقت سے نکل سکتے ہیں۔ ہم ضرور نکل سکتے ہیں۔ یاد رکھیں مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا۔ ہمیں مسلمان بننا ہے جو دل و جان سے مان لے کہ سب کچھ اللہ کی امانت ہے اور ہم نے لوٹ کر اسی کی طرف جانا ہے۔
Mohammad-Akram-Choudhary-Nawaiwaqt

اپنا تبصرہ بھیجیں