لاک ڈاءون کی وجہ سے گزشتہ 14 روز کے دوران تعمیراتی شعبے کو کھربوں روپے کا نقصان ہوا

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد ) کے سابق چیئرمین ، ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر اور یونائیٹڈ بزنس گروپ (یوبی جی ) کے رہنما محمد حنیف گوہر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے موجودہ لاک ڈاءون کی وجہ سے گزشتہ 14 روز کے دوران تعمیراتی شعبے کو کھربوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ حکومت تعمیراتی شعبے کو بچانے کے لیے بیل آءوٹ پیکج کا اعلان کرے ۔ محمد حنیف گوہر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کاروباری طبقہ، ملازمت پیشہ افراد اوردیہاڑی دار مزدوروں سمیت بے شمار لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو ماہانہ کرایہ، بجلی گیس کے بلز کے علاوہ تین وقت کی کھانے کی فکر لاحق ہوگئی ہے ۔ حنیف گوہر نے کہا کہ لاک ڈاءون کے دوران تعمیراتی سرگرمیاں رک گئی ہیں جس کے باعث بلڈرز اور ڈیولپرز کو اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں تو دوسری جانب گھر بیٹھنے والے تعمیراتی ورکروں کی کفالت بھی کررہے ہیں ۔ حنیف گوہر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے جو حکومتی امدادی پروگرام کا اعلان کیا ہے اس میں تعمیراتی شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو مستحکم کیے بغیر معاشی صورتحال میں بہتری نہیں آسکتی ۔ تعمیراتی شعبہ مدر انڈسٹری کی حیثیت رکھتا ہے ۔ تعمیراتی شعبہ ہی دیگر 70 سے زائد انڈسٹریز کا پہیہ چلانے کا موجب بنتا ہے ۔ حنیف گوہر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ایک ویژنری لیڈر ہیں اور وہ اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ تعمیراتی شعبے کو ترقی دیے بغیر پاکستان کی معیشت کو اوپر نہیں اٹھایا جاسکتا اور وہ اپنی ہر تقریر میں بھی اس حقیقت کا اظہار کرچکے ہیں ۔ حنیف گوہر نے کہا کہ گزشتہ دنوں اسٹیٹ بینک کی طرف سے جس پیکج کا اعلان کیا گیا ہے اس میں تعمیراتی شعبے اور کارپوریٹ سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ترقی یافہ ممالک نے بیل آءوٹ پیکج میں اپنے تعمیراتی شعبے کو تباہی سے بچانے کے لیے اقدامات کیے ہیں ۔ حنیف گوہر نے اس امید کا اظہار کیا کہ تعمیرات شعبے کو تباہی سے بچانے اور موجودہ معاشی صورتحال کی بہتری کے لیے وزیر اعظم عمران خان اور وزیرِ اعلیٰ سیّد مُراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ وہ لاک ڈاءون کے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں اور احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے تعمیراتی صنعت کے ساتھ ساتھ انڈسٹری کو کھلنے کا حکم صادر فرمائیں اوراحتیاطی تدابیر اختیار کرکے تمام روزمرہ کے معاملات شروع کردیئے جائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں