دنیا کی دولت مند خاتون

کل پرسوں کے اخبار میں 2خبریں بہت دلچسپ ہیں۔ ایک یہ کہ امریکہ کو کرونا کا نیا مرکز بنا دیا گیا ہے۔ اس کا مرکز کچھ اور بھی ہوگا۔ دوسری خبر یہ ہے کہ پولیس نے کئی نوجوانوں کو موٹرسائیکل چلاتے ہوئے کسی کارروائی کے بغیر مرغا بنا دیا، وہاں جمع لوگوں نے مرغا بنے لوگوں کو دیکھ کر خوب تالیاں بجائیں ۔ ہماری پرہجوم روٹین میں ایسا کرنے پر کم از کم یہ تو ہو سکتا ہے یا پھر لڑائی کرا دی جاتی ہے۔ پولیس لوگوں کو اس طرح روک رہی تھی جیسے ملزموںکو روکا جاتا ہے۔ اس طرح ایک تماشا بنا دیا گیا۔ ہماری انتظامیہ اکثر ایسا کرتی ہے۔ بہرحال یہاں لاک ڈائون کا مرکز بن گیا اور ہماری پولیس بھی ایک قوم کی صورت میں نظر آئی۔ یہ سب کچھ گھروں میں دودھ پہنچانے والوں کے ساتھ ہوا تھا۔ اس کے بعد کوئی خاص لاک ڈائون نہیں ہوا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ کچھ دن بعد یہ معاملہ ختم ہو جائے گا۔ یہ امریکہ اور روس کی چھیڑچھاڑ کیلئے کافی نہیں۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ کچھ ایسا کر دیا جائے کہ دو آدمی ذرا سا بول پڑیں‘ ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے کی نوبت نہ آئے۔ بس لوگوں کی توجہ اس طرف ہو جاتی ہے۔
یہ بات دنیا والوں کیلئے حوصلہ افزا ہے کہ کرونا کی تعداد میں امریکہ کے اندر اضافہ نظر آیا ہے، یوں ایک صوبے کے گورنر نے اسے بلٹ ٹرین سے تشبیہ دی ہے مگر سٹیشن مسافروں کے نہ ہونے کی وجہ سے صحرا کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں کیلئے یہ منظر سیرسپاٹے سے کم نہیں۔ دوسرے دن بھی خاصی پریشانی دیکھنے میں آئی۔ یہ صورتحال اتنی بھی تشویشناک نہ تھی کہ لوگ چھتوں پر چڑھ کر دادا دیتے رہے۔ لوگوں نے احتیاطاً برآمدہ میں کھڑے ہو کر اذانیں دیں۔ عمران خان نے یہ اچھا کیا کہ فوری طور پر قوم سے خطاب کیا کہ لاک ڈائون سے بیروزگاری ہو جائے گی اوربھوک کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ یہ بات عمران خان نے اپنی تقریر میں بھی کہی۔ یورپی ممالک نے اپنی سرحدیں بھی بند کر دیں۔ ہرطرف افراتفری سے ہڑبونگ کا خطرہ تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔ تقریر کے ساتھ لوگ رات کو سکون سے سو گئے۔ صبح اٹھے تو پھر اسی طرح تھا اور وہی سب کچھ کسی کو اپنی مصروفیت تھی۔ ہر کوئی اپنے کام پر چلا گیا مگر ناشتہ کرنا نہ بھولا۔ اس کے بعد بھی رات دن اسی طرح گزررہے ہیں مگر ’’کرونا‘‘ کا کہیں اتہ پتہ نہیں شاید وہ پیدل سفر کر رہا ہے۔ ان دنوں میں ہر کام پیدل سفر کرنے والوں کی طرح تھا۔


ایک معزز خاتون اپنے حساب سے دنیا کی واحد خاتون ہے وہ ملکہ برطانیہ ہے، اس کے پاس بڑے اختیارات ہیں مگر ایک اختیار بھی استعمال نہیں کر سکتی۔ اس کے پاس بہت دولت مند ہے، دروغ برگردن راوی عورتوں میں سے سب سے زیادہ دولت ہے۔ یہ بات درست ہو گی ہمارے کئی مردوں کی طرح وہ اس کا اعلان نہیں کرتیں اور ملکہ ایلزبتھ نے تو کبھی اس کا ذکر بھی نہیں کیا۔ یہ واقعہ واقعی ہو گیا تو اسے قیامت صغرا کہا جائے گا تو پھر قیامت کیا ہو گی۔ قیامت کا ذکر قیامت صغرا ہے۔ بہت ہوتا ہے مگر اپنے لوگوں کو پرواہ ہی نہیں، جب قیامت آ جائے گی تو سب کو پتہ چل جائے گا۔ وہ جو مر گئے ہیں انہیں بھی پتہ چل جائے گا۔ مجھے دکھ ہوا ہے کہ کرونا نے دیر کیوں کر دی۔ یہ امریکہ اور یورپ کے کسی ملک کی طرف سے کوئی مذاق تھا اور اگر مذاق اس طرح کا ہوتا ہے تو اصل صورتحال میں لوگوں کا کیا بنے گا، اب اللہ کے ڈر کا ذکر بہت ہوتا ہے، قسمیں بھی کھائی جاتی ہیں مگر ہوتا کچھ نہیں ہے مگر میری طرح لاکھوں لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ ہو گا اور جب ہو گا تو لگ پتہ جائے گا۔ لکھا گیا کہ کرونا ہو گیا ہے امریکہ کو اور جب اسے ’’لکھونا‘‘ ہوا اور اس طرح دوسرے الفاظ بھی استعمال ہوئے تو امریکہ کا کیا بنے گا۔ یہ تو ہو گا کہ امریکہ کا کچھ نہ کچھ بنے گا۔ یہ ضرب المثل نجانے کتنی پرانی ہے۔ ہرکمال کو زوال ہوتا ہے۔ امریکہ کا زوال دیکھنے کی چیز ہو گی مگر افسوس کہ تب ہم نہیں ہونگے شاید کسی نہ کسی شکل میں ہوں مگر ہمیں کچھ یا د نہ ہو گا۔ مگر کرونا کا کچھ پتہ نہیں ۔ کرونا بھی شاید ایک دھمکی ہے یا امریکہ کا پرانا عمل کہ لوگوں کو اپنے گھروں میں کس طرح ڈرا کے رکھا جائے مگر یہی حال رہا تو لوگوں کو اس چیز کا عادی بنا دیا جائے گا کہ کچھ نہیں ہو گا۔ کچھ نہیں لوگوں کو نڈر بنا دے گا اور امریکہ سے کوئی ڈرے گا نہیں۔ یہ تو بڑے فائدے کی بات ہے۔ لوگ مطمئن ہو کے کام کریں گے اور امریکہ کی کسی بات کی طرف دھیان نہیں دیں گے ۔ حالات تو اب بھی کچھ اسی طرح کے ہیں۔ لوگوں نے اس طرح باتوں کی طرف دھیان چھوڑدیا ہے۔

کرونا اللہ کے عذاب کی کس شکل کی طرح ہے مگر جب یہ ہوا تولگ پتہ جائے گا سب کو ۔ اللہ کے عذاب کی کوئی نشانی بھی کافی ہے زمین والوں کیلئے، اب بھی زمین پر ذرا سی غیر معمولی بات ہوتی ہے تو لوگ توبہ استغفار کرتے ہیں، چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دیتے ہیں اور اللہ سے معافی مانگتے ہیں۔ کرونا امریکہ کی طرف سے کوئی شرارت تھی اور کچھ نہ تھا۔ مگر اب حالات زمین والوں کی طرف سے ہیں تو انہیں کسی نہ کسی عذاب کی ضرورت ہے اور وہ اس کے منتظر ہیں۔ا ب جب کسی کے ساتھ زیادتی ہو تو وہ ضرورکہتا ہے کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو مگر اللہ بڑا حلیم ہے اور جب اس کی طرف سے کچھ ہوا تو لوگوں کو محسوس ہوگا کچھ ہوا ہے اور اب سب لوگ اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب کسی کمزور اور مسکین پر ظلم ہوتا ہے تو ایک ہی آواز آتی ہے کہ اللہ تو موجود ہے اور جب اس نے اپنی موجودگی کو ثابت کیا تو ان لوگوں کا بھی حال دیکھنے والا ہوتا ہے۔ جو غلطی یا گناہ کے ذمہ دار نہیں ہوتے، عذاب ان لوگوں کیلئے بھی ہوتا ہے جو ظلم کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں، اس لئے اللہ سے معافی مانگنا بہت ضروری ہے ۔ اس طرح عذاب کے ٹل جانے کا امکان ہوتا ہے۔ منت سماجت سے بات کرنا اچھا ہے، اس طرح ماحول اچھا بنتا ہے اور زندگی بھی اچھی گزرتی ہے۔
Dr-Mohammad-Ajmal-Niazi-nawaiwaqt

اپنا تبصرہ بھیجیں