لوگوں نے زمین میں سرکشی کی اور بھاگ نہ سکے ہم نے ان میں سے ہر ایک کو اس کے گناہ کی سزا میں پکڑ لیا

ہم ابھی تک سیکھ رہے ہیں اور ہمیں ہر بار پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایک عام آدمی کی غلطی کا خسارہ انفرادی ہوتا ہے جبکہ سربراہان ملت کی غلطیاں اجتماعی طور پر اثر انداز ہوتی ہیں کیونکہ خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتاہے اس وقت معاملہ زیادہ گھمبیر ہو جاتا ہے جبکہ غلطی کی گنجائش نہ ہو۔ناتجربہ کاری سے کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور حفاظتی اقدامات میں ہمیں یقینی پھرتی دیکھنے کو کم ملتی جو اس مہلک مرض سے لڑنے کے دوران دوسری اقوام اپنا رہی ہیں ۔حیرت ہے کہ وہ سارے ارکان اسمبلی کدھر غائب ہوگئے ہیں جو ٹاک شوز میں ایک دوسرے کی دھجیاں اڑاتے تھے ؟ وہ اکثر علماء جو ٹی وی پر مذہبی اور سیاسی اختلاف رائے کا ماحول پیدا کرتے تھے وہ کہاں بھاگ گئے ہیں ؟ وہ انسانی حقوق کے سفیر اور وزیرکدھر ہیں جنھیں ایوارڈ اور خصوصی خطابات سے نوازا جاتا رہا ؟ وہ گانے بجانے والے کدھر ہیں جنھوں نے موسیقی کواس حد تک روح کی غذا قرار دیا کہ دنیاکلام الہی کوطاقوں میں سجا کر بھول گئی ؟وہ نامورشخصیات کدھر ہیںجنھیں رول ماڈل بنا کرمارننگ شوز میں پیش کیاجاتاتھا ؟ وہ لبرلز کدھر گئے جو مرد و زن کے اختلاط اورخرافات کو فروغ دے رہے تھے ؟ اسلامی روح سے متنازعہ قوانین بنانے والے کدھر ہیں جنھوں نے قوانین توحید و رسالت کو پس پشت ڈال کر خدا کے شریک بنائے ، خود ساختہ قوانین نافذ کئے جس کی پاداش میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دنیاکو عبرت گاہ بنا دیا ہے اگر ہم قوموں کی تباہی و بربادی کا جائزہ لیں تو ہم پر واضح ہوگا کہ قومیں تب برباد ہوئیں جب ان میں اجتماعی طور پر خدا کی وحدانیت سے انکار، منافقت،برائی اور آپسی انتشار گھر کر گیا کہ انھوں نے کھلے عام ا حکام خداوندی سے انحراف کیا ، اللہ کی آیتوں اور نبیوں کی سیرت کو چھوڑا اور ان کا مذاق اڑایا۔یعنی جب قومیں قانون قدرت کو توڑ کر خود ساختہ اور اسلام سے متصادم نظام حیات پر عمل پیرا ہوئیں توتباہ ہوئیں کہ ان میں خود سری اس قدر بڑھ گئی کہ وہ اپنی اچھائیوں پر اتراتیں اور برائیوں پر بھی فخر کرتیں اور اسی پر بس نہیں بلکہ خدا کی عطا کردہ نعمتوں اور کامیابیوں کو اپنی محنت کا صلہ اور خود ساختہ تراشیدہ بتوں کی عطا قراردینے لگیں حتی کہ جب انجام سے ڈرایاجاتا تو ریاکاری کرتی تھیں ایسی تمام اقوام خدا کے غیظ و غضب کا شکار ہوئیں اور آج ان کا نام و نشان بھی با قی نہیں ہے ۔ کیا اللہ نے ایسی تمام اقوام کی حالت اور ممکنہ انجام کو کتاب ہدایت میں کھول کھول کر بیان نہیں کیا ؟سورۃ ابراہیم میں ارشاد ہوتا ے کہ :کیا تمھیں ان کی خبر پہنچی جو تم سے پہلے تھے ؟قوم نوح ،عاد اور ثمود کی اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ‘‘ اورسورۃ العنکبوت میںفرمایا :
’’ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کے حمایتی بنا رکھے ہیں مکڑی کی سی مثال ہے جس نے گھر بنایا ،بے شک سب سے کمزور گھروں سے گھر مکڑی کا ہے کاش وہ جانتے بے شک اللہ جانتا ہے جسے وہ اس کے سوا پکارتے ہیں ۔‘‘
مجھے کہنے دیجئے کہ ہر وہ برائی جو پچھلی اقوام کی بربادی کی وجہ بنی وہ آج دنیا میں اجتماعی طور پر پھیل چکی ہے الغرض ہر وہ کام عام ہوگیا جو اللہ کے غیظ و غضب کو دعوت دے رہاہے پھر بھی کچھ نادان کہتے ہیں کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے اور کچھ نہیں کر رہا تو اللہ پاک نے ایسے ہی نادانوں اور سرکشوں کے لیے سورہ العنکبوت میں فرمایا ہے کہ’’ ہم نے قارون ،فرعون اور ہامان کو بھی ہلاک کیا البتہ ان کے پاس موسیؑ دلیلیں لیکر آئے تھے پھر ان لوگوں نے زمین میں سرکشی کی اور بھاگ نہ سکے ہم نے ان میں سے ہر ایک کو اس کے گناہ کی سزا میں پکڑ لیا سو ان میں سے بعضوں پر ہم نے تند ہوا بھیجی اور ان میں سے بعض کو ہولناک آواز نے آدبایا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ڈبو دیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن یہی لوگ اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے ۔‘‘بے شک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اوراگر اللہ نے ہمیں معاف نہ کیا تو ہم مزید خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بزنس کلاس اور تنخواہ دارطبقہ ہر جگہ قربانی پیش کرتا ہے مگر اکثر نام نہاد تنظیمیں اور سیاست دان عطیات اور فنڈ اکٹھا کر کے اتنی خدمت نہیں کرتے جتنی اپنے فنڈ بنا کر سیاست کرتے ہیں جبکہ سیاست دانوں کے پاس بے پناہ دولت ہے انھیں چاہیے کہ اگر آئندہ سیاست کرنی ہے تو اپنے مال و دولت کا بیشتر حصہ غریبوں ،محتاجوں اور متاثرین کی خدمت کے لیے عطیہ کر دیں اپوزیشن بھی سیاست چھوڑ دے کیونکہ یہ سیاست اور دشنام طرازی کا وقت نہیںہے بلکہ یہ اخلاص اور ایثار و قربانی کا وقت ہے۔آج ہم اپنے طبیبوں ،پیرامیڈیکل سٹاف،فوجی جوانوں ،پولیس جوانوں اور رضاکارانہ ایثار کرنے والوں کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیںاور ان صحافیوں کو جو حقیقی معنوں میں اخلاص سے قومی نفع بخش بات لکھ رہے ہیں یا بیان کر رہے ہیں۔
Ruqaya-Ghazal-nawaiwaqt

اپنا تبصرہ بھیجیں