قوم عاد کی عبرت انگیز داستان

دنیا میں حوادث آتے رہتے ہیں ۔ ان سے گھبرانا نہیں بلکہ مقابلہ کرنا ہے۔ قوم نوحؑ کی تباہی سیلاب سے ہوئی۔ اسکے بعد قوم عاد، ثمود اور قوم لو ط کی تباہی زلزلہ کے جھٹکوں، کوہ آتش فشاں کی چنگاریوں او ر آندھی کے جھکڑوں وغیرہ سے ہوئی یعنی خارجی کائنات کے طبعی حوادث ان کی تباہی کا موجب بنے۔ زلزلے آج بھی آتے ہیں، آتش فشاں پہاڑ پھٹتے ہیں۔ سیلاب بڑے بڑے ملکوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ آندھیوں کے طوفان چلتی ہوئی ریل گاڑیوں کو الٹا کر دریاؤں میں پھینک دیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ آج کل کرونا وائرس نے دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے۔ یہ حوادث کسی قوم کی بدعملیوں کا نتیجہ نہیں ہوتے، اس لیے کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کسی خاص خطہ زمین کے انسانوں نے اخلاقی بدعملیاں شروع کیں اور ان پر اس قسم کا طبعی حادثہ وارد ہو گیا یا یہ کہ اس قسم کے حوادث میں صرف بدعمل لوگ ہی تباہ ہوتے ہوں، نیک اعمال والے اس سے محفوظ رہتے ہوں۔ یہ طبعی حوادث دنیا کے ہر خطے میں آتے رہتے ہیں۔ ان میں اچھے اور بُرے ہر قسم کے انسان تباہ ہو جاتے ہیں۔ قرآن کریم نے غلط اعمال کے نتائج کو عذاب الیم کہہ کر پکارا ہے۔ یعنی وہ زندگی جس میں انسان تمام خوشگواریوں سے محروم رہ جائے۔ خواہ وہ اس دنیا میں ہو خواہ آخرت میں۔
سورہ البقرہ کی آیت 10 کا ترجمہ ہے۔ ’’ان کے دلوں میں بیماری ہے تواللہ نے انکی بیماری اور بڑھائی اور ان کیلئے درد ناک عذاب ہے‘‘ حضرت نوحؑ کو آنے والے طوفان کا علم قبل ازوقت دے دیا گیا تھا اور کہہ دیا گیا تھا کہ وہ اس سے بچنے کیلئے کشتی بنا لیں۔ وہ اپنے مخالفین کے سامنے کشتی بنانے میں مصروف تھے لیکن مخالفین انکی ہر بات کو غلط سمجھتے۔ الٹا ان کا مذاق اڑانے لگے۔ چنانچہ سیلاب اپنے وقت پر آیا۔ حضرت نوحؑ اور ان کی جماعت اس کشتی کے ذریعے اس تباہی سے محفوظ رہ گئے اور باقی قوم غرق ہو گئی۔ جو قوم اپنے نظم و نسق کو درست رکھے وہ اس قسم کے نقصانات سے محفوظ رہ سکتی ہے یا اس کا ازالہ بعجلت کر لیتی ہے۔ حضرت ہودؑ کے بارے میں بھی آپ جانتے ہوں گے کہ آپؑ نے اپنی قوم کو پہلے سے آگاہ کر رکھا تھا۔ مگر انھوں نے ہٹ دھرمی اور سرکشی اختیار کی نتیجہ یہ کہ قوم عاد دنیا سے نیست و نابود ہو گئی۔ قوم عاد کی عبرت انگیز داستان کے متعلق کہا کہ جاؤ دیکھو، انکے اجڑے ہوئے مسکن میں تمہارے لیے کون کون سے سامان بصیرت مدفون ہیں۔ حضرت لوطؑ جب مبعوث ہوئے تو آپ نے اپنی قوم کو انکی بدکرداریوں سے منع کیا تو انکی طرف سے جواب ملا۔ وہ انکی فطرتِ خبیثہ کا صحیح آئینہ دار ہے۔ مہلت کا عرصہ یونہی گزر گیا حتٰی کہ وہ وقت آ پہنچا جب قانون مکافات کے مطابق ان کے اعمال کی کھیتی پک گئی اور نتائج کا وقت آ گیا۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کا ذکر کئی مقامات پر کیا ہے۔ قوم سدوم کا علاقہ آتش فشاں پہاڑوں اور گندھک کی کانوں سے پٹا پڑا تھا۔ آتش فشاں پہاڑوں کا شق ہونا ہلاکت انگیز عذاب تھا۔ کبھی تو آتش فشاں سیال مادہ (لاوا) کی شکل میں ایک بہتا ہوا جہنم بن کر گرد و پیش کے علاقوں کو دہکتے ہوئے انگاروں کی بھٹی بنا دیتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ پہاڑ کے دہانہ سے راکھ اور پتھروں کا مینہ برستا ہے۔ جس کی بوچھاڑ دور دور تک جاتی ہے۔ پمپیائی کی تباہی اس قسم کی ’’بارش‘‘ سے ہوئی تھی اور کہا جاتا ہے کہ ان پتھروں کی زد سینکڑوں میل تک تھی۔ قوم لوطؑ کی تباہی کے وقت بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اسی قسم کی سنگ باری ہوئی۔ گندھک کی کانوں میں آگ بھڑک اٹھی اور پھر ایسے زلزلے آئے کہ زمین نیچے دھنس گئی اور جھیل (Dead Sea) کا پانی اوپر آ گیا۔ سورہ شعرا میں اس عذاب کے متعلق فرمایا کہ حضرت لوطؑ اور انکے متعبین کو تو بچا لیا گیا اور دوسروں کو تباہ کر دیا۔ قوم لوطؑ کے واقعہ میں عبرت کا سامان موجود ہے۔ ان تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈرات اپنی لٹی ہوئی عظمتوں اور چھنی ہوئی ثروتوں کے زندہ مرثیے ہیں۔ قوم لوط کی حیا سوز فحاشی دنیا میں بطور ضرب المثل مشہور ہے۔ قرآن کریم نے قوم لوط کی جن بستیوں (سدوم اور عمارہ وغیرہ) کی بربادی کا ذکر کیا ہے وہ بحرمیت (Dead Sea) کے اردگرد واقع تھیں۔ حضرت عیسیٰؑ بنی اسرائیل کی طرف سے خدا کے قانون کی آخری حجت کے اتمام کیلئے آئے تھے۔ قوم نے انکے ساتھ جو کیا، وہ آپکے سامنے ہے۔ انکی سرکشی کی وجہ سے گرجتے ہوئے بادل اور کڑکتی ہوئی بجلیوں کی صورت میں انکے سر پر آئی جس سے اب نجات کی کوئی راہ نہ تھی۔ یہودیوں کو ’’ایک آنیوالے‘‘ کا انتظار تو تھا ہی، ہر فریب کار نے اس عقیدہ سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور ان میں کتنے ہی جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوئے۔ ملک میں بدامنی اس درجہ بڑھ گئی کہ اس شورش کو ختم کرنے کیلئے ایک جرنیل متعین کرنا پڑا۔ اس سے بھی کام نہ چلا تو ایک دوسرے جرنیل کو بھیجا۔ انسائیکلو برٹانیکا کے الفاظ میں ’’70ء اب مہینے کی دسویں تاریخ کو ایسے خوف و ہراس کے عالم میں جس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی، سقوطِ یروشلم عمل میں آیا۔ ہیکل کو جلا دیا گیا اور اس طرح یہودی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا‘‘ اس طرح ڈیڑھ ہزار برس کے عروج و زوال کے بعد بنی اسرائیل کا نام زندہ قوموں کی فہرت سے مٹ گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب نوعِ انسانی کا خاتمہ ہونے والا ہے یا اس درد و کرب کے بعد دنیا کو ایک نئی زندگی (نشاۃ ثانیہ) ملنے والی ہے۔ اس سوال کا جواب دنیا اپنی اپنی عقل سے کچھ ہی دے لیکن ہمارا ایمان ہے کہ یہ انسانیت کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک اور قدم اٹھ رہا ہے، اس منزل کی طرف جو تمدن انسانیت کی معراج ہے۔Tanweer-Zahoor-nawaiwaqt

اپنا تبصرہ بھیجیں