ٹاپ ٹین ممالک : جب یہ آفت ان کے دروازے پر دستک دے رہی تھی

دانش کدہ کے مکین فرماتے ہیں سچائی بیان کرو لیکن اس ڈھنگ اور اس نرمی کے ساتھ کہ معاشرہ اْسے ہضم کر لے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا کی ناگہانی آفت اس وقت جس پیمانے پر جس سْرعت کے ساتھ اپنے شکار میں لگی ہوئی ہے اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ایک خوف کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ حیرانگی کی بات کہ ابھی جب یہ وباء اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اسکے ڈیٹا کو لیکر فیوچر کے متعلق کوئی پلاننگ کی جائے ہمارے ہاں بہت سے ارسطو دوست اسکے بارے کانسپریسی تھیوریاں بتانا شروع ہو گئے ہیں جس پر پھر کبھی بات کرنا مناسب ہو گا سردست زمینی حقائق کی طرف ایک نظر ڈالیں تو یہ بات ماننی پڑے گی کہ چائنہ کو جیسے ہی اس بیماری بارے جانکاری ہوئی اسی لمحے ایک منٹ ضائع کیے بغیر اسکے بارے ایک سٹریٹجی پلان تیار کیا اور اس پر عمل کیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ دو مہینے یعنی کہ اْٹھ ہفتے کے اندر اندر تقریباً وہ اس بیماری سے چھٹکارہ پاتے نظر آ رہے ہیں اسکے برعکس اگر ڈبلیو ایچ او کے مہیا کردہ ڈیٹا پر ایک نظر ڈالیں تو اس میں ٹاپ ٹین ممالک پر ایک نظر ڈالیں تو اس میں چین کو چھوڑ کر امریکہ سمیت اْٹھ یورپی ممالک سرفہرست نظر آتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ جاننے کی کوشش کریں تو حقائق اس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ یہ ٹاپ ٹین ممالک اگر اس گھڑی جب یہ آفت ان کے دروازے پر دستک دے رہی تھی اس خطرے کی گھنٹی پر قبل از وقت توجہ دے لیتے تو شائد آج وہ اس گھمبیر صورتحال سے دوچار نہ ہوتے۔

آج پورا عالم جس کربناک صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اس پر مجھے کسی کے یہ الفاظ بڑی شدت سے یاد آ رہے ہیں کہ بعض اوقات انسان کیا پوری کی پوری قوم ” لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا” کی صورت میں بھگتتی ہے۔ قارئین دنیا کی authenticated ویب سائٹ کورونا وائرس کے متعلق جو ڈیٹا دے رہی ہیں انکے مطابق اس وقت پوری دنیا کے 199 ممالک اس مہلک بیماری کا شکار ہو چکے ہیں جنکی مجموعی تعداد جب یہ کالم لکھا جارہا ہے اْس وقت 7,40,235 ہے۔ ان کْل 7,40,235 افراد میں ابتک صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 1,56,588 بنتی ہے جبکہ فوت ہونے والے افراد کی تعداد 35,035 ہے اس لحاظ سے صحتیاب ہونے والے اور مرنے والے مریضوں کا تناسب دیکھیں تو وہ بالترتیب 82% اور 18% فیصد بنتا ہے اسکے مقابل دیکھیں تو جو افراد اس وقت زیر علاج ہیں ان میں سیریس مریضوں کی تعداد 28,471 ہے جو کہ اس وقت موجود مریضوں کا 5 فیصد بنتی ہے باقی جو 5,20,141 مریض ہیں اور جنکی شرح 95 فیصد بنتی ہے انکی حالت خطرے سے باہر ہے۔ قارئین ان اعدادو شمار پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ مرض مہلک ضرور ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو اس کا شکار ہو گیا وہ جان سے گیا۔
جب ان اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور جسطرح جس سْرعت اور جس پیمانے پر اسکی ہولناکیاں بیان کی جا رہی ہیں اسے دیکھ کر کسی کانسپریسی تھیوری کو ماننے کا دل نہ بھی کرے تو ذہن 2000ء میں نائن الیون اور 2008ء میں جے بی مورگن والے ڈراموں کے متعلق جو تحفظات پائے جاتے ہیں اْن کے پیش نظر ایک حْجت ضرور جنم لیتی ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ انجینئرنگ یا ڈیزائننگ ضرور ہے اور جس طرح اکنامک ڈیزاسٹر معاشی تباہی ہو رہی ہے۔

دل کہتا ہے کہ کورونا کی یلغار تو شائد رْک جائے لیکن اسکے نتیجے میں بھوک نے جو “چن چڑھانے” ہیں اور جو آگ بھڑکنی ہے اْسکی حدت ہماری تیسری آنکھ ابھی سے محسوس کرنا شروع ہو گئی ہے اس سے پناہ ابھی سے مانگنی شروع کر دینی چاہئے اور ابھی سے کوئی پلاننگ شروع کر دینی چاہئے۔ اس مرض میں مبتلا چائنا کو چھوڑ کر باقی ٹاپ نو ملکوں کے زمینی حقائق جہاں اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ان ممالک نے اس کورونا کی آفت کو سمجھنے میں تساہل سے کام لیا وہاں یہ حقیقت بھی ہر کسی پر آشکار ہے کہ اس سارے معاملے میں ہمارے ہاں بھی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے تاآنکہ کہ کچھ ذمہ داروں نے معاملات کو اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ سمجھدار اقوام اپنی پالیسیاں ترتیب دینے میں جہاں تاریخ اور اعداد و شمار کا سہارا لیتی ہیں وہیں وہ زمینی حقائق پر بھی بہت زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈیٹا پر ایک نظر ڈالیں تو ٹاپ ٹین ممالک کے برعکس اگر باٹم ٹین پر نظر ڈالیں تو آپکو وہ ممالک نظر آ رہے ہیں جہاں یا تو موسم بہت گرم رہتا ہے وہاں پر اکثر ملیریا کی بیماری رہتی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں کے لوگوں کا قوت مدافعت کا سسٹم اس وائرس کے مقابلے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس بات کو دیکھا جائے تو اپنے ملک پاکستان کے حالات اس سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ اس حقیقت کو اگر درست مان لیا جاتا ہے تو پاکستان کی موجودہ حالت اور اس بیماری کے پھیلاؤ کو کسی صورت بے احتیاطی سے مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس آفت کے نتیجے میں جس بلا کی طرف اس خاکسار کی تیسری آنکھ اشارہ کر رہی ہے اس بھوک سے نمپٹنے کیلیئے ہماری قیادت کیا کرتی ہے یا پھر وہی” لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا”
Tariq-Amin-nawaiwaqt

اپنا تبصرہ بھیجیں