جو لوگ ایک دوسرے کو ڈرپوک ہونے کے طعنے دے رہے ہیں یا گھر میں بیٹھنے کو حماقت سمجھ رہے ہیں وہ یہ جان لیں

زمین سے زندگی پانچ طریقوں سے ختم ہو سکتی ہے۔ پہلا امکان یہ ہے کہ کوئی آوارہ گرد سیارہ زمین سے ٹکرا جائے اور سب کچھ فنا کر دے، ایسا آج سے 66ملین سال پہلے ہو چکا ہے جب خلا سے ایک شہابِ ثاقب گھومتا گھامتا آیا تھا اور زمین سے ٹکرا گیا تھا، اِس کے نتیجے میں زمین پر موجود تین چوتھائی مخلوق ختم ہو گئی تھی جن میں ڈائنو سار بھی شامل تھے۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ زمین اِس قابل ہی نہ رہے کہ یہاں زندگی پنپ سکے، ماحولیاتی آلودگی اِس سطح پر پہنچ جائے کہ ہمارے شہر سمندر میں ڈوب جائیں، تین کروڑ آبادی کا شہر جکارتہ ڈوبنا شروع ہو چکا ہے، گلیشیر پگھل رہے ہیں، درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اگر یہی سلسلہ رہا تو زندگی اِس کرہ ارض سے ناپید ہو سکتی ہے۔

تیسرا امکان یہ ہے کہ عالمی جنگ چھڑ جائے جس کے نتیجے میں دنیا کے جنونی حکمران ایک دوسرے پر ایٹم بم برسا کر انسانیت کو ملیا میٹ کر دیں۔

چوتھا امکان یہ ہے کہ انسان کوئی ایسی تباہ کُن مشین ایجاد کرلے جو خود کار ذہانت کے تابع ہو اور پھر کسی وجہ سے اُس کی مصنوعی ذہانت کا کنٹرول انسان کے ہاتھ سے نکل جائے جس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو روکا نہ جا سکے۔

پانچواں طریقہ جس سے زندگی ہر صورت اِس زمین سے ختم ہو جائے گی یہ ہے کہ قیامت آ جائے۔ کورونا وائرس سے زندگی کا خاتمہ، بہرحال، اِن پانچوں طریقوں میں شامل نہیں ہے، سو خاطر جمع رکھیں، دنیا ابھی ختم نہیں ہو رہی، انگریزی میں جسے کہتے ہیں Surely, this is not end of the world۔

چلیں تصویر کا مثبت رُخ دیکھتے ہیں۔ آج کی تاریخ تک امریکہ، اٹلی، اسپین، فرانس، جرمنی، سوئٹزر لینڈ، برطانیہ، ہالینڈ اور بلجیم میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 29,295ہے۔

یہ دنیا میں ہونے والی کل اموات کا 77.4%ہے، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش میں، جہاں ایک ارب ستر کروڑ لوگ رہتے ہیں، اب تک کورونا سے صرف 62اموات ہوئی ہیں، اسی طرح افریقہ کے اعداد و شمار بھی ملتے جلتے ہیں۔

اِس سے پہلے کہ میں اِن اعداد و شمار کی بنیاد پر کوئی دعویٰ کروں، ایک فلم کا مکالمہ سنا دوں، رنبیر کپور کی فلم ’راکٹ سنگھ، سیلز مین آف دی ائیر‘ میری پسندیدہ فلموں میں سے ایک ہے، اس فلم کے ایک سین میں رنبیر کپور کمپیوٹر کی دکان سے ہارڈ ڈسک کی کوٹیشن لیتا ہے، دکاندار کوٹیشن دیتے ہوئے کہتا ہے ’سردار جی، یہ آج کا ریٹ ہے، یہاں دنیا روز ایسے ایسے بدلتی ہے، کسی بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے‘۔

سو، آج جس تیزی سے دنیا بدل رہی ہے اُس میں کوئی بات بھی حرفِ آخر نہیں مگر آج کے اعداد و شمار یہ بتا رہے ہیں کہ یہ وائرس دنیا کے مختلف حصوں میں الگ طریقے سے اثر دکھا رہا ہے۔ فی الحال یہ ایک اچھی خبر ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اگلے پندرہ دنوں میں ہمارے جیسے ملکوں میں اموات کی شرح غیرمعمولی طریقے سے نہ بڑھی تو پھر پتا چلانا پڑے گا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

اِس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ ہر وائرس پھیلنے کے لیے مخصوص ماحول درکار ہوتا ہے، ممکن ہے ہمارا جسم اِس وائرس کے لیے اچھا ’میزبان‘ ثابت نہ ہورہا ہو، ہم جیسے غریب ممالک جہاں پہلے ہی لوگ ملیریا اور دیگر وباؤں سے نبرد آزما رہے ہوں وہاں لوگوں میں ایسا مدافعاتی نظام پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں جو اِس وائرس سے بھی لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ہر وائرس کی طرح کورونا بھی mutationکے نتیجے میں کمزور ہو گیا ہو جس کی وجہ سے اِن ممالک میں شرح اموات کم ہو رہی ہوں جبکہ دنیا میں جس تیزی سے اِس وائرس پر کام ہو رہا ہے اسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ اِس کا کوئی نہ کوئی علاج (ویکسین نہیں) جون جولائی تک دریافت ہو جائے گاجس سے کم از کم لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں گی۔

تیسری اچھی خبر ہم جیسے غریب ملکوں کا موسم ہے، قیاس ہے کہ شدید گرمی میں شاید اِس وائرس سے چھٹکارا مل جائے، گو کہ تحقیق کے تمام سائنسی ادارے ابھی ایسی کوئی بھی بات کرنے کی حتمی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

چوتھی اچھی خبر یہ ہے کہ اِس وائرس کی ویکسین بہر حال ایک سال کے اندر اندر آ جائے گی کیونکہ یہ کوئی نیا وائرس نہیں، یہ کورونا فیملی کا ہی ایک وائرس ہے اور اِس سے پہلے SARSاور MERSبھی کورونا وائرس کا ہی کارنامہ تھے، ظاہر کہ یہ بیماریاں اب تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔

یہ تمام اچھی خبریں میں نے اِس لیے نہیں سنائیں کہ آپ احتیاط چھوڑ کر گھروں سے نکل کر پٹھورے کھانے چل پڑیں، احتیاط بےحد ضروری ہے کیونکہ کورونا وائرس جب پھیلتا ہے تو پھر دنوں میں مرنے والوں کی تعداد دگنی اور تگنی ہوتی چلی جاتی ہے۔

اگلے پندرہ دن بےحد اہم ہیں، اگر ہم نے سماجی دوری کی احتیاط جاری رکھی اور خود کو گھروں میں ہی محصور رکھا تو شاید ہمارے ملک میں یہ وبا پھیلنے سے رُک جائے۔

یاد رکھیں، جو لوگ ایک دوسرے کو ڈرپوک ہونے کے طعنے دے رہے ہیں یا گھر میں بیٹھنے کو حماقت سمجھ رہے ہیں وہ یہ جان لیں کورونا سے ہونے والی موت کوئی عام موت نہیں بلکہ شدید اذیت کی موت ہے جس میں انسان سانس لینے کے قابل نہیں رہتا اور اسے لگتا ہے کہ اُس کے پھیپھڑوں میں کوئی شیشے سے زخم لگا رہا ہے، وینٹی لیٹر اس کی آخری امید ہوتی ہے۔

موت کا بےشک ایک دن معین ہے مگر گھر سے باہر نکل کر اذیت ناک موت خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں!Yasir-Pirzada-Jang

اپنا تبصرہ بھیجیں