جس عمارت پر تم کھڑے ہو اس کی بنیاد کس نے رکھی تھی؟

تم بھول گئے، تمہاری یادداشت بڑی ہی کمزور ہے۔ تم تو یہ بھی بھول گئے کہ جس عمارت پر تم کھڑے ہو اس کی بنیاد کس نے رکھی تھی؟ کرپشن کے خلاف مہم کس نے شروع کی تھی۔

بےنظیر بھٹو اور نواز شریف کی دو دو حکومتیں کرپشن کے الزام میں گھر بھیجی گئیں، الزام لگا تھا کہ یہ سارا کیا دھرا آزاد میڈیا کا تھا۔ بےنظیر بھٹو اور آصف زرداری میڈیا سے ناراض، نواز شریف میڈیا سے ناراض، جنرل مشرف میڈیا سے ناراض اور اب ہمارے محبوب خان صاحب بھی ناراض۔

آخر ایسا کیوں؟ ذرا سوچو؟ آف شور کمپنیوں کی بنیاد پر پانامہ کیس بنا اور نواز شریف گھر بھیجے گئے۔ وہ مقدمہ کوئی سیاسی جماعت نکال کے نہیں لائی تھی، میڈیا لایا تھا۔ یاد کرو آخر یہ ساری کہانیاں باہر نہ آتیں تو تمہیں کانوں کان بھی خبر ہوتی کہ اس ملک میں ہو کیا رہا ہے۔

تم تو یہ بھی بھول گئے ہو کہ ایک وقت میں آمر پرویز مشرف نے آزاد عدلیہ کی چھٹی کرا دی تھی۔ پورے ملک میں ہُو کا عالم تھا کہ ایسے میں میڈیا نے اس کاز کو پکڑا، اُٹھایا اور آزاد عدلیہ کے حق میں تحریک کا ساتھ دیا۔

میر شکیل الرحمٰن خود پھولوں کے ہار لے کر نظر بند چیف جسٹس کے گھر کے باہر کھڑے ہو گئے۔ آج اگر آزاد عدلیہ ہے تو اس میں تھوڑا سا خون پسینہ میڈیا کا بھی ہے مگر وہی میڈیا عدالتوں کے سامنے انصاف کے لئے ملتمس ہے مگر انصاف کو یاد بھی نہیں کہ ایک مشکل وقت میں کس نے انہیں سہارا دیا تھا؟

تمہیں تو یہ بھی یاد نہیں کہ تمہیں قومی اتحاد کی تحریک کے دوران سچ سننے کے لئے بی بی سی اور وائس آف امریکہ سننا پڑتا تھا۔ تمہیں تو یہ بھی بھول گیا ہوگا کہ سقوطِ ڈھاکہ کی خبر غیرملکی نشریاتی اداروں سے سنی گئی تھی۔ آج کا سچ میڈیا کا عطا کردہ ہے۔

تمہارا شعور، تمہاری معلومات، تمہارا سچ یہ سب اسی میڈیا نے دیا ہے تم جس پر ہر وقت تنقید کرتے ہو، کبھی اس کی حمایت نہیں کرتے، نہ ہی کبھی اس کی مشکل میں مدد کرتے ہو۔ نہ کرو احسان کا بدلہ کب ملتا ہے چلو دل ہی دل میں احساس کرو کہ تمہارا بھلا کرنے والے کا خدا بھلا کرے۔

تمہیں تو یہ احساس تک بھی نہیں کہ آزاد میڈیا اگر آمروں کے تلوے چاٹتا، حکمرانوں کی خوشامد کرتا، حکومتوں کی تعریفیں کرتا، وزیراعظم اور وزرا کو آسمان پر چڑھاتا اور کرپشن اور عوامی استحصال کی خبریں نہ چھاپتا تو ہر کسی سے انعام پاتا، تعریف کا مستحق ٹھہرتا اسے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ مل چکے ہوتے۔

عوامی مشکلات، مہنگائی، نوکر شاہی کی لوٹ کھسوٹ اور صحت و تعلیم کی خرابیاں بیان نہ کرتا، عوام کے ساتھ کھڑا نہ ہوتا تو آج اس کی داد و تحسین ہو رہی ہوتی۔ مگر میڈیا یہ قصور جان بوجھ کر کرتا ہے تاکہ معاشرہ آگے بڑھے۔ شعور ترقی کرے، سیاست بہتر ہو اور معیشت مضبوط۔

تم بھول گئے مگر ذرا سوچو کہ دہشت گردی کے حوالے سے عوامی ذہن کس نے بدلا، ایک وقت تھا کہ 80فیصد لوگ کنفیوژڈ تھے۔ میڈیا نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کی۔

صحافی شہید ہوئے، میڈیا کے دفاتر اور گاڑیوں پر حملے ہوئے، دھمکیاں ملیں مگر عوامی اور ملکی مفاد میں میڈیا پیچھے نہیں ہٹا۔ تم یہ بھی بھول گئے کہ کشمیر لاک ڈائون اور بھارتی جارحیت کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ خبریں کون دیتا رہا؟

نیوز میڈیا پر بھارتی پروپیگنڈے کا سامنا کون کرتا رہا؟ اور تمہیں تو یہ بھی یاد نہیں کہ سماجی مہم چاہے زبردستی کی شادی کے خلاف ہو، عورت کی وراثت کے حق میں ہو یا ملک کی بہتری کے لئے قانونی یا معاشی اصلاحات کی ہو میڈیا نے سر دھڑ کی بازی لگا کرترقی کی مخالف قوتوں سے لڑائی لڑی۔ کورونا آگہی ہو، طوفان، بارش یا سیلاب ہو یا کوئی اور بحران، میڈیا ہمیشہ عوام کے ہم قدم ہوتا ہے۔

تم خود تو جو چاہو کرتے پھرتے ہو مگر میرے ذمہ حکمرانوں کے احتساب کا ناخوشگوار فریضہ لگا رکھا ہے۔ جب میں یہ فرض ادا کرتا ہوں تو حکمران ناراض ہوتے ہیں، الزام لگاتے ہیں مگر اس کے باوجود پچھلے 70سال سے کونسی بات ایسی ہے جو اقتدار کی راہداریوں میں سرگوشی کی شکل میں ہی سنی گئی ہو اور ہم اسے تمہارے سامنے نہ لائے ہوں، کبھی اس جرم پر کوڑے پڑے تو کبھی جیل جانا پڑا۔

کبھی بےروزگاری کی سزا ملی اور کبھی اشتہار بند کئے گئے مگر اے میرے پیارے عوام ہم نے کبھی اپنے فرائض سے پہلو تہی نہیں کی۔

یہ بھی یاد دلا دوں کہ جب بھی حکمرانوں نے ملک و قوم کے لئے اچھا کیا میڈیا نے سب سے آگے بڑھ کر تالیاں بجائیں۔ خان صاحب نے ٹیکس اصلاحات شروع کیں تو مخالفت کی پروا کیے بغیر میڈیا نے اس کو سراہا کیونکہ یہ ملک و قوم اور معیشت کے لئے بہتر اقدام تھا۔

نواز شریف نے اتحاد اور اتفاق کے لئے قدم بڑھایا تو اس پر سرِعام ان کی تعریف کی۔ زرداری صاحب نے سب کو ملا کر چلنے کی کوشش کی تو اس کا بھی خیر مقدم کیا۔ پھر بھی گلہ ہے کہ میڈیا صرف تنقید کرتا ہے۔

حکمران بھلے کام کریں تو تعریف اور بھلے کام نہ کریں تو تنقید۔ یہی تو ہمارا کام ہے۔ ہمارے لئے بےشک تالیاں نہ بجائو مگر ہم پر تیر تو نہ برسائو۔

میڈیا فرشتہ نہیں، میڈیا لیڈر بھی نہیں اور نہ ہی میڈیا غلطیوں سے مبرا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ میڈیا نے کس طرح مشکل ترین حالات میں اپنا کام انجام دیا ہے، عوام کے ساتھ خیر خواہی کو کس طرح نبھایا ہے، سنسر شپ ہو، اطلاعات پر پابندیاں کسی نہ کسی طرح سے سچ آپ عوام کو پہنچایا ہے۔

پاکستان کے بارے میں اب کسی نے کچھ جاننا ہے تو اسے بی بی سی یا کسی غیرملکی نشریاتی ادارے سے اطلاع لینے کی ضرورت نہیں پاکستانی میڈیا ہی سب کچھ بتا دیتا ہے۔

یہ تہی دست رپورٹر، یہ گلیوں بازاروں میں پھرتے نامہ نگار، یہ ہر واقعے کی تصویر بنانے والے فوٹو گرافر اور پھر ٹی وی چینلز کی کوریج کے لئے مارے مارے پھرنے والے کیمرہ مین اور صحافی یہ سب عوام کو باخبر رکھنے کے لئے جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔

کبھی پولیس کی لاٹھیاں کھاتے ہیں تو کبھی مشتعل ہجوم کی گالیاں، کبھی انتہا پسندوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے ہیں تو کبھی طاقتور انہیں سرِبازار مار دیتے ہیں۔ بےشک ان کی خدمات کو نہ مانو، ان کی خدمت کو ہی تسلیم کرو ان کو ذاتی طور پر عزت نہ دو ان کے کام ہی کو عزت دے دو۔

تم بھول گئے ہو۔ اس لئے بھی بھول گئے کہ تمہیں بھلایا جاتا ہے، بہکایا جاتا ہے، تم ہماری طرح کیوں مشکل میں پڑو، جائو تمہیں آسانیاں نصیب ہوں، ہم تمہیں مشکل میں ڈالنا بھی نہیں چاہتے۔ تم بےشک ہمیں بھلائے رکھو مگر تاریخ ہمیں نہیں بھولے گی۔

تم بےشک ہمارے دکھوں کا مداوا نہ کرو، ہماری آزادی کی حفاظت میں ہمارا ساتھ نہ دو، اگلی نسلیں ہمیں نہیں بھولیں گی۔ سن لو وہ جو آج ظالم ہیں اور جو پابندیاں لگا رہے ہیں وہ تاریخ کے اندھیرے میں گم ہوں گے اور وہ جو آج گرفتار ہیں، آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، تاریخ کے صفحات پر سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے۔Sohail-Waraich-Jang

اپنا تبصرہ بھیجیں