بعض خفیہ ہاتھ سندھ کو لاقانونیت کی طرف لے جارہے ہیں – شاہ محمد شاہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ نے کہا ہے کہ بعض خفیہ ہاتھ سندھ کو لاقانونیت کی طرف لے جارہے ہیں کراچی سے کشمور تک ہم سب ایک ہم کسی قسم کا لسانی جھگڑا نہیں چاہتے اگر سندھ میں لسانیت کی آگ بھڑک اٹھی تو اسے ٹھنڈا کرنا مشکل ہوجائے گا،اس معاملے پر سندھی ، پختون اور دیگر قومیتوں کے دانشوروں سنجیدہ طبقے کو آگے آنا چاہئے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملیر میں ارشاد رنجھانی کے قتل اور لاڑکانہ میں تین پختونوں کے قتل پر جوڈیشئل کمیشن بناکر ان واقعات کی تحقیقات کی جائے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ علی اکبر گجر، خالد شیخ، اور دیگر ہنما بھی موجود تھے ۔ شاہ محمد شاہ نے کہا کہ میں سندھ کے تمام لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ وہ ارشاد رنجھانی کے قتل کو لسانیت کی طرف لیکر نہ جائیں اس لئے کہ بڑی مشکل سے نواز شریف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں سے کراچی اور اندرون سندھ میں امن قائم ہوا ہے اور سندھ ویسے بھی امن کی دھرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ میں نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے استدعا کی ہے کہ وہ اس حساس مسئلہ پر اپنا رول ادا کریں ان واقعات کی چھان بین کریں اور اس معاملے کو آگے نہ بڑھنے دیں، انھوں نے کہا کہ ارشاد رنجھانی اگر ملزم بھی تھا تو اسے اسپتال لے جایا جانا تھا ہم اس وقعہ کی مذمت کرتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں شاہ محمد شاہ نے کہا کہ کشکول توڑنے کی باتیں کرنے والے آج دنیا بھر میں بھیک مانگتے پھر رہے ہیںاور جس وزیر اعظم ہاﺅس کو یونیورسٹی بنایاجارہا تھااب وہاں شہزادے ٹھیریں گے۔جبکہ سندھ خصوصا کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور دھشت گردی کی وارداتیں بھی بڑھ رہی ہیں، بجلی ، گیس کا بحران بھی بڑھ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں