چین میں کورونا وائرس کے بعد ‘ہنٹا وائرس’ سے پہلا شخص جاں بحق

کراچی :  چین میں کورونا وائرس کے خاتمے کے بعد ہنٹا وائرس سے ایک شخص جانبحق ہوگیا۔ چین کے گلوبل ٹائمز کے مطابق پیر کے روز چین کے صوبہ یونان سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بس میں کام کے لئے صوبہ شینڈونگ واپس جارہا تھا اور بس میں فوت ہوگیا۔ جس کا بعد اس کے جسم کا ٹیسٹ کیا گیا اور ٹیسٹ میں ہنٹا وائرس کی مثبت تشخیص ہوگئی۔ اس طرح یہ ہنٹا سے چین میں پہلی ہلاکت ہے۔ چینی حکومت نے بس میں سوار دیگر 32 افراد کا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ کورونا وائرس پھیلنے سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اسی طرح دوسری بیماریاں بھی ساتھ سات پھیل رہی ہے جس پر کوئی ملک توجہ نہیں دے رہا۔ ہندوستان، پاکستان اور دوسرے ممالک میں سوائن فلو، کانگو وائرس اور برڈ فلو کے کیس پہلے ہی رپورٹ ہوچکے ہیں۔ اب چین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص میں ہنٹا وائرس کے ٹیسٹ میں مثبت کی تشخیص ہوئی ہے۔

‘ہنٹا وائرس’ کیا ہے؟
سینٹر فار ڈزیز کنڑول اینڈ پریونشن کے مطابق ہنٹا وائرس، وائرسوں کا ایک خاندان ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کے ذریعہ پھیلتا ہے اور یہ دنیا بھر کے لوگوں میں مختلف بیماریوں کے سنڈروم کا سبب بن سکتا ہے۔ کسی بھی ہنٹا وائرس سے انفیکشن لوگوں میں ہنٹا وائرس کی بیماری پیدا کرسکتا ہے۔ امریکہ میں ہنٹا وائرس کو “نیو ورلڈ” ہینٹا وائرس کے نام سے جانا جاتا ہے اور ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم (ایچ پی ایس) کا سبب بن سکتا ہے۔ دیگر ہنٹا وائرس جنھیں “اولڈ ورلڈ” ہنٹا وائرس کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر یورپ اور ایشیاء میں پائے جاتے ہیں اور گردوں کے سنڈروم (HFRS) سے ہیمرج بخار کا سبب بن سکتے ہیں۔
ہنٹا وائرس سیرو ٹائپ میں ایک مخصوص چوہا ہے اور یہ لوگوں کو یئروسولائزڈ وائرس کے ذریعہ پھیلاتا ہے جو پیشاب، عضو اور تھوک میں بہایا جاتا ہے اور کسی متاثرہ کے کاٹنے سے کم ہرکت سے ہوتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ کا سب سے اہم ہنٹا وائرس ہے جو HPS کا سبب بن سکتا ہے۔
بھارتی کالام سینٹر کے سربراہ سریجن پال سنگ کالام کا ہنٹا وائرس کے متعلق کہنا ہے کہ براہ کرم خود کو ہنٹا وائرس سے خوفزدہ نہ ہونے دیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کا علاج کیسے کریں یہ ہوا میں نہیں پھیلتا ہے لیکن جب کوئی شخص متاثرہ چوہا کے گرنے/ پیشاب کرنے سے ہوتا ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ ہم اس وائرس کو 1976 سے جانتے ہیں اور یہ انسان سے انسان میں نہیں پھیلاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں