
ڈی جی آئی ایس پی آر کا سندھ بھر کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور اکادمیا کے ساتھ اہم انٹرایکٹیو سیشن
یونیورسٹی سربراہان کا کہنا تھا کہ ایسے سیشن مسلسل ہونے چاہییں تاکہ نوجوان حقائق اور قومی بیانیے سے براہِ راست آگاہ رہیں۔
شرکاء نے کہا کہ مئی 2025 کے بعد ملک میں حبُ الوطنی کا جذبہ مزید مضبوط ہوا ہے اور اس شعور کو تعلیمی اداروں میں بھی فروغ دینا ضروری ہے۔
اکادمیا نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ہائبرڈ وار کو سمجھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ طلبہ دشمن پروپیگنڈا کا حصہ بننے سے بچ سکیں۔
کہا گیا کہ نوجوانوں کو ملک اور افواجِ پاکستان سے محبت اور وفاداری کا پیغام واضح انداز میں دیا جانا چاہیے۔
وائس چانسلرز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کرنے اور مستند ذرائع پر انحصار کرنے کی تربیت دی جائے۔

شرکاء نے کہا کہ غلط بیانی، مس انفارمیشن اور پراپیگنڈا سے بچنے کے لیے ایسے سیشن اُن کے لیے رہنمائی کا مضبوط ذریعہ ہیں۔
اکادمیا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی سلامتی اور فکری استحکام کے لیے جامعات اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرتی رہیں گی۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ جب ملک اور فوج کے خلاف سازشیں ہوں تو قوم، خصوصاً طلبہ، افواجِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا سندھ بھر کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور اکادمیا کے ساتھ اہم انٹرایکٹیو سیشن
– ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے سندھ بھر کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور اکادمیا کے ساتھ ایک اہم انٹرایکٹیو سیشن کا انعقاد کیا، جس میں قومی بیانیے کو فروغ دینے اور ہائبرڈ وار کا مقابلہ کرنے پر زور دیا گیا۔

اس سیشن میں، جس میں ملک بھر سے استادان اور وائس چانسلرز نے شرکت کی، نوجوانوں میں وطن سے محبت اور قومی یکجہتی کے جذبات کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ ایسے سیشنز کو مسلسل ہونا چاہیے تاکہ نوجوان حقائق اور قومی بیانیے سے آگاہ رہیں۔
اکادمیا نے کہا کہ مئی 2025 کے بعد ملک میں حب الوطنی کا جذبہ مزید مضبوط ہوا ہے اور اس شعور کو تعلیمی اداروں میں بھی فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ ہائبرڈ وار کو سمجھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ طلبہ دشمن پروپیگنڈا کا حصہ بننے سے بچ سکیں۔
وائس چانسلرز نے کہا کہ طلبہ کو ملک اور افواج پاکستان سے محبت اور وفاداری کا پیغام واضح انداز میں دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کرنے اور مستند ذرائع پر انحصار کرنے کی تربیت دی جائے۔
شرکاء نے اس انٹرایکٹیو سیشن کو رہنمائی کا ایک قیمتی ذریعہ قرار دیا، جس سے وہ غلط بیانی، مس انفارمیشن اور پروپیگنڈا کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اکادمیا نے قومی سلامتی اور فکری استحکام کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنے کا عزم کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی جامعات کے دوروں کا اثر: طلبہ اور اساتذہ میں جوش و خروش
انٹرایکٹیو سیشنز اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی جامعات کے دوروں کا اثر طلبہ اور اساتذہ پر واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ طلبہ میں وطن سے محبت اور قومی یکجہتی کا جذبہ بڑھ رہا ہے، اور وہ ملک کی ترقی اور سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگے ہیں۔
اساتذہ اور وائس چانسلرز نے ان دوروں کو نہایت مفید قرار دیا ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ سیشنز طلبہ کو دشمن پروپیگنڈا سے بچانے اور انہیں قومی بیانیے سے آگاہ رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسے سیشنز کا سلسلہ جاری رہے گا، تاکہ نوجوانوں میں وطن سے محبت اور فخر کا جذبہ مزید مضبوط ہو۔
وائس چانسلرز نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی کاوشوں کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ ان کی یہ کوئششیں جامعات اور افواج پاکستان کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیشنز طلبہ کو حقیقت پسند بننے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
اس سیشن میں اتفاق کیا گیا کہ جب ملک اور فوج کے خلاف سازشیں ہوں تو قوم، خصوصاً طلبہ، افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔
By Salik Majeed Editor Jeeveypakistan.com Karachi

فیلڈ مارشل سے مصری وزیر خارجہ کی ملاقات،دفاعی تعاون پر تبادلہ خیالات
اسلام آباد( -)فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے ملاقات کی،اس موقع پردفاعی تعاون پر تبادلہ خیالات ہوا۔پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے دفاع اور وسیع تر اسٹریٹجک شعبوں میں ہم آہنگی کو مزید مضبوط اور دیرینہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور مصر کے برادرانہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دفاع اور سیکیورٹی تعاون، عسکری روابط، ٹریننگ کے اشتراک اور علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔



























