
(برسی پر خصوصی تحریر)
تحریر: نعیم اختر

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کسی ایسے گھرانے کا ذکر آئے جس نے نہ صرف اپنی سرزمین بلکہ وفاقِ پاکستان کی سالمیت اور مضبوطی کے لیے نسل در نسل کردار ادا کیا ہو تو جمالی خانوادے اس فہرست میں سب سے نمایاں نظر آتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد بلوچستان کو عملی طور پر پاکستان کا حصہ بنانے میں فدائے ملت میر جعفر خان جمالی نے جو تاریخی کردار ادا کیا وہ محض ایک سیاسی خدمت نہیں بلکہ قومی وحدت کی بنیادوں میں رکھی گئی وہ اینٹ ہے جسے بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے خود سراہتے ہوئے میر جعفر خان جمالی کو “بلوچستان میں داخلے کا دروازہ” قرار دیا۔
یہی وہ پس منظر ہے جس نے جمالی خاندان کو پاکستان کی سیاست میں ایک سنجیدہ، محب وطن اور وفاق پرست قوت کے طور پر پہچان بخشی۔ بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں متعدد بار وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز رہ کر صوبے کی پسماندگی کے خاتمے، تعلیم کے فروغ اور امن و امان کی بہتری کے لیے میر تاج محمد خان جمالی، میر جان محمد خان جمالی اور بالخصوص میر ظفر اللہ خان جمالی نے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔
ظفر اللہ خان جمالی المعروف جبل خان جمالی ایک باوقار، شائستہ اور غیر متنازعہ سیاست دان تھے
الحاج میر ظفر اللہ خان جمالی وہ سیاسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنے قد، کردار، تحمل اور بردباری سے پاکستان کی سیاست میں وہ مثال قائم کی جو آج کے سیاسی ماحول میں ناپید ہوتی جا رہی ہے۔
23 نومبر 2002 سے 26 جون 2004 تک پاکستان کے 15ویں منتخب وزیرِاعظم کے طور پر ان کی مدتِ حکومت مختصر ضرور رہی مگر اُن کی سیاسی فہم، قومی یکجہتی کے لیے کوششیں اور اداروں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی سعی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
1 جنوری 1944 کو ڈیرہ مراد جمالی میں پیدا ہونے والے میر ظفر اللہ جمالی نے ایچی سن کالج اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تعلیم حاصل کی وہ انگریزی، اردو، بلوچی، سندھی، سرائیکی، پنجابی اور پشتو زبانون پر عبور رکھتے تھےیہ زبان دانی اُن کی وسیع القلبی اور مختلف قومی ثقافتوں سے شناسائی کا ثبوت تھا یہ حقیقت ہے کہ وہ پاکستان کی 7 دہائیوں پر مشتمل تاریخ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے واحد منتخب وزیرِاعظم تھے اس صوبے کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک تاریخی حوالہ بھی۔ انہوں نے اپنے منصب کے دوران صوبائی ہم آہنگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بلوچ نوجوانوں میں سیاسی اعتماد کو بحال کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں۔
ان کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ کسی محاذ آرائی کے قائل نہ تھے۔ ان کا لہجہ نرم اور باوقار ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جدائی نے ملکی سیاست کو شائستگی کے اُس باب سے محروم کر دیا جس کی آج اشد ضرورت ہے
2 دسمبر 2020 کو 76 برس کی عمر میں راولپنڈی میں دورہ قلب کے باعث ان کا انتقال ہوس یہ خبر پورے ملک میں ایک افسوسناک خلا چھوڑ گئی جو آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔ ان کی رحلت ایک ایسے رہنما کی رخصتی تھی جو نفرتوں کے اس دور میں محبت، تحمل، برداشت اور شائستگی کی علامت تھا۔
جمالی خاندان سیاست کا روشن مینار جس کی کرنیں
آج بھی بلوچستان سے نکل کرملکی سطح پر پھیل رہی ہے
بلوچستان ہو یا وفاق، جمالی خاندان نے جس تسلسل کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں اور دے رہی ہیں وہ کم ہی خاندانوں کے حصّے میں آتا ہے۔ آج بھی یہ خانوادہ سیاست، قبائلی قیادت اور قومی یکجہتی میں ایک مضبوط بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔
سابق وزیراعظم ظفر اللہ جمالی کی شخصیت کا سب سے بڑا وصف یہ تھا عشق رسول ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا انہوں نے وزارت عظمی کے خاتمے کے بعد بحیثیت رکن قومی اسمبلی منتخب ہوتے ہوئے توہین رسالت سے متعلق ایک قانون کی منظوری پر اپنی رکنیت سے استعفی دے دیا انہوں نے کہا کہ جو پارلیمنٹ حضور کی شان کی حفاظت کرنا نہ جانتی ہو وہاں بیٹھنا میرے لیے مجرم ہونے کے مترادف ہے جب میں مروں گا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا منہ لے کر جاؤں گا مجھے موت قبول ہے مگر ایسی قانون سازی قبول نہیں تو وہ سچے عاشق رسول تھےاُن کی سیاست میں سخت گیری نہیں وقار تھا
جذباتیت نہیں عزم تھا
محاذ آرائی نہیں لیکن اصول تھے انہوں نے ساری زندگی اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ایک سوال ہمیشہ گونجتا ہے کیا ہماری سیاست دوبارہ کبھی اتنی شائستہ، اتنی بردبار اور اتنی باوقار ہو سکے گی؟
جمالی صاحب یقیناً تاریخ کے ان رہنماؤں میں شمار ہوں گے جنہیں آنے والی نسلیں ہمیشہ احترام سے یاد کریں گی۔



























