حسیب جمالی ایڈووکیٹ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے عہدے پر ایک سخت مقابلے کے بعد کامیاب ہوگئے ، اہم خاندان کے چشم و چراغ ہیں،،انکے والد انور ظہیر جمالی چیف جسٹس پاکستان رہ چکے ہیں،

Asghar Umar
حسیب جمالی ایڈووکیٹ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے عہدے پر ایک سخت مقابلے کے بعد کامیاب ہوگئے ، حسیب جمالی کیلیے یہ کامیابی کوئی نئی نہیں ہے،وہ اس سے پہلے اس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری بھی کامیاب ہوچکے ہیں، وہ شعبہ قانون سے تعلق رکھنے والے اہم خاندان کے چشم و چراغ ہیں،،انکے والد انور ظہیر جمالی چیف جسٹس پاکستان رہ چکے ہیں، انکی والدہ بھی عدلیہ سے وابستہ رہیں اور بھائی بھی وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں،
تاہم 2025-26میں حسیب جمالی ایڈووکیٹ کی کامیابی انکی ذات یا خاندان کے پس منظر میں اہم نہیں، بلکہ ملک کے آئین کے ساتھ جو کھلواڑ ہورہا ہے، بلا کسی طویل غور و خوض کے جلد بازی میں ماہانہ بنیادوں پر آئین میں جو ترامیم کی جا رہی ہیں ،تاحیات استثنیٰ دیئے جا رہے ہیں ،ائین کو ہاتھ کی چھڑی اورجیب کی گھڑی سمجھا جارہا ہے ،یہ تشویش ناک صورتحال ہے،اس میں حسیب جمالی کی کامیابی ایک ریفرنڈم ہے، 26ویں ترمیم سے قبل بلاول بھٹو نے سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا دورہ کیا تھا، ایک وکیل رہنما ضیاء لنجار کو وزیر قانون ہی نہیں صوبائی وزیرِ داخلہ بھی بنایا ہوا ہے، وکلاء پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے،انکو مراعات کا جھانسہ دیا جارہا ہے ،،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب بھی اپنے اثرات استعمال کررہے ہیں، اٹارنی جنرل آفس،ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کے افسز آئینی ترامیم کی حمایت حاصل کرنے کے کیمپس بنے ہوئے ہیں ،ایسے میں تمام سنجیدہ اور وکالت کے پیشے پر انحصار کرنیوالے وکلاء نے آخری مورچہ سمجھتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا اور قانون کی حکمرانی کیلیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے ،
اب بینچ پر بیٹھے ججوں کو بھی انداذہ ہو جائیگا کہ وکلاء کیا چاہتے ہیں، سرکاری و ریاستی دباؤ کے نتیجے میں جس طرح سندھ ہائیکورٹ کی انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے آل سندھ لائرز ایکشن کمیٹی کے کنونشن کیلیے جو پابندیاں عائد کی تھی اور وکلاء کو بار رومز تک پہنچنے اور آئین کی بالادستی کے نعرے لگانے والوں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی تھی،وہ اوچھا وار ثابت ہوا اور وکلاء نے اپنے عزم،حوصلے اور اتحاد کے باعث بار رومز کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے ، حسیب جمالی ایڈووکیٹ کو کامیابی کی مبارکباد کے ساتھ یہ یاد دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ کاووٹرز کے اعتماد پر پورا اترنا ہی انکا ٹارگٹ ہونا چاہیے اور آئندہ سال کا الیکشن آپ کی کارکردگی کا اظہار ہوگا۔۔۔۔