نوعمر خودکشی کیس میں اوپن اے آئی کا عدالت میں اہم موقف

سان فرانسسکو میں 16 سالہ ایڈم رین کی خودکشی کے معاملے میں چیٹ جی پی ٹی کے مبینہ کردار کی عدالتی تحقیقات کے بعد اوپن اے آئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نوجوان کی جان لیوا کارروائی کا ذمہ دار پلیٹ فارم کو ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔

اوپن اے آئی کے مطابق نوجوان نے نو ماہ کے دوران متعدد مرتبہ پلیٹ فارم سے رہنمائی حاصل کی، اور اس عرصے میں چیٹ جی پی ٹی نے اسے پیشہ ورانہ مدد، ہیلپ لائنز اور معاون اداروں کا رابطہ 100 سے زائد بار تجویز کیا، مگر وہ ہدایات نظرانداز کی گئیں۔

کمپنی نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف بھی اپنایا ہے کہ نوجوان پہلے سے ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور ادویات کے استعمال جیسے مسائل کا شکار تھا اور یہ عوامل خودکشی کی بنیادی وجوہات ہو سکتے ہیں۔

والدین نے اپنے مؤقف میں ایک انتہائی خوفناک تصویر پیش کی ہے۔ ان کے مطابق لڑکے نے حفاظتی رکاوٹیں عبور کرکے چیٹ جی پی ٹی سے خودکشی کے مخصوص طریقے پوچھے، جن میں منشیات کی خطرناک مقدار، ڈوب کر مرنے کے طریقے اور کاربن مونو آکسائیڈ کے استعمال تک کی تفصیلات شامل تھیں۔

لڑکے کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے نہ صرف خودکشی کے طریقے تجویز کیے بلکہ مبینہ طور پر خوبصورت خودکشی جیسی گمراہ کن تجاویز بھی دیں اور خودکشی نوٹ تحریر کرنے میں مدد فراہم کی۔

اس واقعے کے بعد عدالت میں اوپن اے آئی کے خلاف مزید سات مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں، جن میں تین مزید خودکشیاں اور چار ایسے واقعات شامل ہیں جن میں ذہنی دباؤ کے واقعات میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔