چوہدری اسلم کی بیوہ کا اظہار برہمی، ’دھریندر‘ کے خلاف قانونی کارروائی پر غور

سندھ پولیس کے شہید افسر چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے بھارتی فلم ’دھریندر‘ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے فلم سازوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

حال ہی میں نورین اسلم نے جیو ڈیجیٹل کو خصوصی انٹرویو دیا ہے، جس میں انہوں بھارتی فلم دھریندر میں چوہدری اسلم کے کردار، رحمٰن ڈکیت کو ہیرو دکھانے اور سیاسی جماعت پی پی پی کی مبہم عکاسی کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی۔

نورین اسلم نے نامناسب ڈائیلاگ پر بھارتی فلم سازوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلم کے ٹریلر میں کہا گیا کہ شیطان اور جن سے پیدا ہونے والے بچے کو چوہدری اسلم کہتے ہیں۔ میرے مطابق اس جملے سے چوہدری کی والدہ کی کردار کشی ہوتی ہے۔ ہم مسلمان ہیں، اسلامی ملک میں رہتے ہیں، ہمارے یہاں شیطان اور جنوں سے عورتوں کے تعلقات نہیں ہوتے، چوہدری کی والدہ پاکیزہ اور نیک خاتون تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اداکار کبھی غلط نہیں ہوتا یہ رائٹر کا کمال ہے، بھارتی رائٹرز نے ہمیشہ پاکستان کو دہشتگرد ملک دکھایا ہے، جبکہ اُس بھارتی کرنل پر خاموشی اختیار کرلی جس نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے چوہردی اسلم پر جوا کھیلا ہے۔ چوہدری ہیرو ہے یا وِلن یہ سب کا اپنا اپنا نظریہ ہے مجھے اس سے اختلاف نہیں، آپ ہر ایک کے لیے اچھے نہیں ہوسکتے لیکن چوہدری نے اپنی مٹی سے وفا کی ہے۔‘

نورین اسلم نے کہا کہ بھارتی فلم میں چوہدری کے کردار کو کیسا دیکھایا ہے یہ تو 5 دسمبر کو پتہ چلے گا لیکن اگر انہوں نے چوہدری کے خلاف کوئی پروپیگنڈا کرنے کی کوشکش کی تو میں قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹی پی دہشتگرد تنظیم ہے، رحمٰن ڈکیت تو اتنا بڑا دہشت گرد نہیں تھا جتنا بڑا اسے دکھایا گیا۔ چوہدری نے رحمٰن سے بڑے بڑے دہشت گردوں کا انکاؤنٹر کیا ہے، اس کی تو سمجھ آتی ہے لیکن یہ تو بھتہ خور تھا، منشیات میں ملوث تھا، اتنا بڑا تو ڈان نہیں تھا، ایسا کیوں کیا؟ یہ تو وہی (فلم بنانے والے) جانتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فلم ریلیز ہوگی تو پتہ چلے گا کہ کیا ٹی ٹی پی کا ترجمان سنجے دت کو کال کرتا ہے یا نہیں اور اگر کرتا ہے تو وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں، کیونکہ چوہدری نے کیا کہا تھا وہ تو پوری دنیا جانتی ہے آج بھی وہ کلپ یوٹیوب پر موجود ہے۔‘

نورین اسلم نے بھارتی فلم میں پی پی پی کی مبہم عکاسی پر بلاول بھٹو سے ردعمل کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فلم کے ٹریلر میں ایک جلسہ دیکھایا گیا ہے جس میں ایک طرف شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویر ہے، ایک طرف عوام ہے اور ایک طرف رحمٰن ڈکیت ہے، اس سے یہ لوگ کیا دیکھانا چاہتے ہی؟ مجھے لگتا ہے کہ اس کے خلاف ترجمان پی پی اور بلاول بھٹو کو بیان دینا چاہیے۔