ادب دوست، مشاعرہ، نئی نسل کی شاعری کا تازہ سفر۔

سچ تو یہ ہے۔
بشیر سدوزئی
===========

ادب کی دنیا میں کبھی کبھی ایسا لمحہ بھی آتا ہے جو آنے والے برسوں تک یاد رہ جائے۔ گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج، سیکٹر 7C اورنگی ٹاؤن میں منعقدہ مشاعرہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھا، ایسا ہی ایک ادبی پروگرام تھا، جہاں ہال میں سجی سادگی، ادب دوست دانشوروں کی آمد، اساتذہ اور طالبات کی چہل پہل، اور شاعروں ادیبوں اور نقادوں سے کھچا کھچ بھرے اسٹیج پر سفید یونیفارم میں ملبوس ایک نوجوان لڑکی مستقبل کی شاعرہ بننے کے عزم سے، روشن آنکھوں کے ساتھ مائیک کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس کی انگلیاں آپس میں جُڑی ہوئی تھیں اور نظریں ہال میں اپنی ساتھیوں پر پیوست تھیں، مگر آواز میں اعتماد اور مستقبل کے سنہرے گہرے خوابوں کی حرارت تھی۔ بچی بھر پور اعتماد کے ساتھ اپنا تازہ کلام سنا رہی تھی وہ بھی استاد الاساتذہ پروفیسر سحر انصاری کی صدارت اور اپنی پرنسپل پروفیسر طلعت حنیف کی موجودگی میں۔ پنڈل میں سفید یونیفارم میں بیٹھی سیکڑوں بچیاں اور شہر کے کونے کونے سے آئے ادب دوست تالیوں کے شور میں “واہ واہ کیا شعر کہا” کہتے جاتے تھے۔ اور نوجوان شاعرہ کو داد دیتے جاتے تھے
یہ ماحول تو بظاہر ایک مشاعرے کا تھا مگر یہ مشاعرہ عام مشاعروں جیسا نہیں تھا جہاں اکثر شاعر خود ہی کلام پڑتے، خود ہی کلام سنتے اور ایک دوسرے کو داد دیتے دیکھائی دیتے ہیں، بلکہ یہ مشاعرہ نسل نو کی ادبی و تہذیبی تربیت کی ایک کوشش تھی، جہاں اساتذہ اور طلباء کا ملاپ تھا۔ گرلز کالج میں ہونے والے اس پروگرام میں کالج جیسا پروٹوکول نہیں بلکہ دوستانہ ماحول تھا اور اسی دوستانہ ماحول میں نوجوانوں طالبات اہل علم اساتذہ کے سامنے اپنے فن شاعری کا کھل کر اظہار کر رہی تھیں۔ یہی مشاعروں کا حسن ہے اور ہہی مشاعروں کا مقصد اور کامیابی بھی کہ فن شاعری آنے والی نسل تک پہنچائی جائے اس کے لیے ان کو بہتر موقعے مہیا کئے جائیں ۔
اس مشاعرے کا اہتمام ادبی تنظیم ادب دوست کراچی نے کالج انتظامیہ کے تعاون سے کیا۔ صدارت وہ شخصیت کر رہی تھی جنہیں پاکستان کی علمی و ادبی دنیا میں استاد کا درجہ حاصل ہے۔ وہ تھے پروفیسر سحر انصاری۔ ان کی موجودگی ہی اس نوجوان طالبہ کے لیے ایک اعزاز تھی۔ مشاعروں اور ادبی تقریبات کے سرپرست اور مختلف لب و لہجے کے شاعر مہمانِ خصوصی افتخار ملک ایڈوکیٹ اور مہمانِ اعزازی محترمہ شبنم امان اپنی پوری توجہ کے ساتھ اس نئے لہجے اور نئی سوچ کی پیشکش سن رہے تھے۔ نظامت پروفیسر شاہ فہد اور نامور و منفرد شاعر یاسر سعید صدیقی نے خوب صورتی سے نبھائی۔ اور وقفے وقفے سے بچیوں کے شاعری شوق و ذوق کی تعریف کرتے رہے، جو ایک ایک شعر پر کھل کر شور اور داد دے رہی تھیں۔ ایک طویل عرصے بعد مشاعرے کا ماحول دیکھ کر طبیعت میں تازگی آ گئی جیسے ہر شاعر آج اپنا تازہ کلام سنا رہا ہو اور ہر سامع ہر شعر کو سمجھ کر داد دے رہا ہو۔
مشاعرے میں شریک سب ہی شاعر کافی سنئیر اور صاحب اسلوب تھے اور دن کے پہلے پہر خاصے تازہ و نکھرے ہوئے لگ رہے تھے، لیکن مشاعرے کی اصل جان وہ نوخیز شاعرہ تھی جو اپنے تازہ کلام کے ساتھ منچ پر آ بیٹھی تھی۔ جب اس نے پہلا شعر پڑھا تو ہال میں بیٹھے ہر شخص نے اپنی سانس روک لی۔ گویا سب کو معلوم تھا کہ وہ اس لمحے کے تاریخی بن جانے کے گواہ ہیں۔ ایسے مشاعرے یادداشتوں کی الماری میں نہیں رکھے جاتے، بلکہ نئی نسل کے مستقبل میں لکھے جاتے ہیں۔ اور ادب کی تاریخ میں آج کا مشاعرہ بھی لکھا جائے گا کہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج 7C اورنگی ٹاؤن کی طالبات نے پروفیسر سحر انصاری کی صدارت میں کلام سنایا تھا۔
یہ بات ہم بھول جاتے ہیں کہ ایک نوجوان شاعر یا شاعرہ کے لیے کسی مستند نقاد یا استاد کے سامنے کلام پیش کرنا محض ایک مشق نہیں۔ یہ اعتماد کا سب سے مضبوط ستون ہوتا ہے۔ پروفیسر سحر انصاری جیسے معتبر شاعر کی صدارت میں کلام سنانا اس طالبہ کے ادبی سفر میں وہ باب ہے جو آنے والے وقت میں اس کی شناخت کا حوالہ بنے گا۔ اب اس کی سی وی میں صرف چند اشعار نہیں بلکہ ایک ادبی اعزاز درج ہو چکا، جو اسے یہ کہنے کا حق دیتا ہے کہ آج نہیں تو کل میں ایک مستند شاعرہ تسلیم کی جاوں گی۔
اور یہ سب کس نے ممکن بنایا؟
وہی تنظیم جس کی بنیاد کاغذ اور قلم کی محبت پر رکھی گئی، ادب دوست کراچی۔ سحر انصاری صاحب جس کے سرپرست ہیں اور افتخار ملک ایڈوکیٹ سمیت شہر کی نامور شخصیات ادب دوستی کے قافلے میں شامل ہو چکی۔
یہ ادبی تنظیم صرف مشاعرے کرانے پر اکتفا نہیں کرتی۔ یہ نوجوانوں کو قد آور ادیبوں کے قریب لاتی ہے۔ یہ تنظیم وہ پل ہے جس کے ایک سرے پر کالجوں کی تازہ ذہنیت ہے اور دوسرے سرے پر سحر انصاری جیسے دانشور، محقق اور شاعر گھڑے ہیں ۔ اس پل سے گزرتے ہوئے نسلِ نو فقط اچھے شعر ہی نہیں سیکھتی بلکہ تربیت، تہذیب، مکالمے اور سماجی شعور کا درس بھی پاتی ہے۔
آج جب نوجوان موبائل اسکرینوں میں گم ہیں، کتابوں سے فاصلہ بڑھ رہا ہے، اور زبانوں کا ذائقہ بدل رہا ہے، ایسے میں ادب دوست کراچی جیسے اداروں کا وجود امید کی کرن ہے۔ یہ نوجوانوں کو صرف مشقِ سخن نہیں سکھاتی، انہیں اپنی آواز پہچاننے میں مدد دیتی ہے۔ یہ انہیں بتاتی ہے کہ شعر کہنا اور شعر سہنا دو الگ باتیں ہیں، اور دونوں کی تربیت محفلوں میں ہوتی ہے۔ ایسی ہی محفلوں میں جو اورنگی ٹاؤن کے اس گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں سجی۔
کہا جاتا ہے کہ ایک اچھے استاد یا بڑے شاعر کا ایک لمحہ بھی شاگرد کی زندگی بدل سکتا ہے۔ آج اس نوخیز شاعرہ نے جو کلام پیش کیا، شاید وہ وقت آئے جب یہی لڑکی کسی بڑے اسٹیج کی روشنی میں کھڑی ہو کر کہے گی:
“میری پہلی پہچان اس کالج اور اس مشاعرے سے بنی تھی۔ جہاں، مقبول زیدی، گل آفشاں، ڈاکٹر فیاض شائین، غالب ماجدی، سحر علی، آفتاب عالم قریشی، یاسمین یاس، آئرین فرحت، حسن رضا بخاری ایڈاکیٹ، محمد علی سوز، فرحان پیکر جعفری، سلمٰی رضا سلمٰی، شگفتہ یاسمین، تاجور شکیل، فرحانہ اشرف فرحانہ جیسے عبقری شعراء اور اس سے بھی زیادہ پروفیسر سحر انصاری نے داد دی تھی۔”
یہ محض مشاعرہ نہیں تھا۔ یہ ایک ادبی بیج تھا جو کسی دل کی زمین میں بو دیا گیا ہے، اور یقین رکھیے، یہ بیج پھول بنے گا۔ کیوں کہ اسے سینچنے میں اساتذہ، ادیب اور ادب دوست کراچی
محترمہ صالحہ صدیقی، صابر حسین صابر، شاہد محی الدین ، عظمٰی کمال،
نجمہ اکبر، احمد جاوید، سید محمد خلیق(خالد)۔ جیسے لوگ موجود ہیں۔
ادب کی شمعیں یوں ہی روشن رہتی ہیں
جب کوئی چھوٹا سا چراغ کسی بڑے مینار کی روشنی محسوس کرتا ہے۔