
نوبیل انعام یافتہ سائنسدانوں کی مخالفت
نوبیل انعام یافتہ سائنسدان پروفیسر ژاں ماری لین نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولوجیکل سائنسز (آئی سی سی بی ایس) کو جامعہ کراچی سے الگ کرنے کی مجوزہ کوشش پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پروفیسر لین نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ وہ اور متعدد دیگر نوبیل انعام یافتہ سائنس دان جامعہ کراچی میں قائم آئی سی سی بی ایس کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہیں ادارے کی اعلیٰ کارکردگی اور تحقیق کے معیار نے انتہائی متاثر کیا۔
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے بھی آئی سی سی بی ایس کو جامعہ سے علیحدہ کرنے کے مجوزہ بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسی ہفتے وزیرِاعلیٰ سندھ اور متعلقہ حکام سے ملاقات کی جائے گی۔
امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی نظریں صرف کراچی یونیورسٹی کے ادارے ICCBSپر نہیں بلکہ کراچی یونیورسٹی کی سیکڑوں ایکٹر اراضی پر ہیں۔
آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کی 70 ایکڑ زمین پر قائم ہے جس میں 12 سینٹرز چل رہے ہیں۔ آئی سی سی بی ایس پر 100 ارب کا سامان موجود ہے، 25 بلڈنگز ہیں، 40 مکانات یونیورسٹی کی زمین پر ہیں، پانچ ہاسٹلز ہیں۔
نئے قانون میں بین الاقوامی سائنسدان ڈاکٹر عطاالرحمان کی جگہ وزیر اعلی سندھ کو پیٹرن انچیف بنایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عطاالرحان نے 23 ملیں ڈالر جاپان سے، 8 ملین امریکا سے، ایک ملین پاؤنڈ برطانیہ، 4.8 جرمن مارک جرمنی سے لائے ہیں۔
6 نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں نے اس ادارے کو ڈاکٹر عطاالرحمن کی کوشش سے بہترین کاوش قرار دیا ہے۔
نئے قانون میں بین الاقوامی سائنسدان ڈاکٹر عطاالرحمان کی جگہ وزیر اعلی سندھ کو پیٹرن انچیف بنایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عطاالرحان نے 23 ملیں ڈالر جاپان سے، 8 ملین امریکا سے، ایک ملین پاؤنڈ برطانیہ، 4.8 جرمن مارک جرمنی سے لائے ہیں۔
6 نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں نے اس ادارے کو ڈاکٹر عطاالرحمن کی کوشش سے بہترین کاوش قرار دیا ہے۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی بی ایس کو جامعہ سے الگ کرنے کی کوشش ناکام بنائیں گے اور اس کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر ڈاکٹر غفران نے کہا ہے کہ آئی سی سی بی ایس کے حوالے سے مجوزہ قانون کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔
منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی نظریں کراچی یونیورسٹی کی سیکڑوں ایکٹر اراضی پر ہیں اور اسے روکنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی نے 1967 میں پوسٹ گریجویشن انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کے نام سے بنیاد ڈالی اور 1990 تک ڈائریکٹر رہے، جس کے بعد ڈاکٹر عطاالرحمان 2008 تک ڈائریکٹر رہے، 2009 سے اقبال چوہدری 2022 تک ڈائریکٹر رہے تاہم ریٹائر ہونے کے باوجود جب عہدے پر قائم رہے تو معاملہ کورٹ میں چلا گیا اور عدالت کے حکم پر اقبال چوہدری کی چھٹی ہوئ۔
(آئ سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کی 70 ایکڑ زمین پر قائم ہے جس میں 12 سینٹرز چل رہے ہیں جن میں یونیسکو سائنس سینٹر، پنجوانی سینٹر، ایچ ای جے انسٹیٹیوٹ، لطیف ابراہیم جمال نینو ٹیکنالوجی سینٹر، تھرڈ ورلڈ سینٹر فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی سینٹر، بایو ایکولینس سیینٹر ( 110 بستروں کا اسپتال، وولف گینگ وولٹیج سینٹر، انٹرپنینورشپ سینٹر( دو بلڈنگ پر مشتمل)، انڈسٹریل اینالیٹیکل سینٹر، جمیل الرحمان سینٹر ، لطیف ابراہیم جمال سائنس انفارمیشن سینٹر ۔
آئ سی سی بی ایس میں)
100 ارب کا سامان، موجود ہے، 25 بلڈنگز ہیں ، 40 مکانانات یونیورسٹی کی زمین، پانچ ہاسٹلز ہیں،
آئی سی سی بی ایس) پراویٹ سیکٹر کو دے رہے ہیں اور اس حوالے سے نئے قانون میں جو سرچ کمیٹی قائم کی گئی ہے اس میں ہیں نادرہ پنجوانی جس کی ایک بلڈنگ ہے جب کہ تین بلڈنگیں عزیز جمال نے بنائی ہیں اور یہ دونوں سی ایم کے ساتھ سرچ کمیٹی کے رکن ہیں جو نئے ڈائریکٹر کا انتخاب کریں گے۔ جب کہ ایک بلڈنگ ڈاکٹر عطا الرمان نے اپنے والد کے نام پر جمیل الرحمان سینٹر فار جنومکس ریسرچ بنائی اور یونیسکو کی عمارت ڈاکٹر یاسمین نے بنائی ہے۔
آئ بی ایس ایس کو
99 فیصد فنڈنگ گورنمنٹ آف پاکستان کرتی ہے جب کہ ایک فیصد ڈونرز کا حصہ ہے
نئے ڈائریکٹر کے لیے نہ اشتہار ہے نہ سلیشن بورڈ اور یہ تینوں اراکین نان پی ایچ ڈی ہون گے جو ڈائریکٹر کا انتخاب کریں گے۔
نئے قانون میں بین الاقوامی سائنسدان ڈاکٹر عطاالرحمان کی جگہ وزیر اعلی سندھ کو پیٹرن انچیف بنایا جارہا ہے جب کہ ڈاکٹر عطاالرحان نے 23 ملیں ڈالر جاپان سے 8 ملین امریکا سے ایک ملین پاؤنڈ برطانیہ، 4.8 جرمن مارک جرمنی سے لائے اور 6 نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں نے اس ادارے کو ڈاکٹر عطاالرحمن کی کوشش بہترین کاوش قرار دیا ہے۔























