سندھ میں سیاحت کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے، جب حکومت نے محکمہ سیاحت کے لیے صرف 15 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جس میں تنخواہیں بھی شامل ہیں

کراچی (نامہ نگار خصوصی ) سندھ کے وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا ہے کہ ان کا محکمہ اپنے محدود مالی وسائل کے باوجود صوبے کے فنکاروں کی ہر ممکن مدد کررہا ہے , صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے کام جاری ہے۔ وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی میں محکمہ ثقافت سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔ ذوالفقار شاہ نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق براہ راست فنڈنگ نہیں کرتا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں وزارتیں تقسیم ہوئی تھیں۔ ایم کیو ایم کے رکن عبدالوسیم نے نشاندہی کی کہ جہاں پر سیاح آتے ہیں وہاں پر سہولیات مکمل نہیں ہیں۔ ذوالفقار علی شاہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سیاحت کے وزارت کا بجٹ بہت کم ہے۔ اب ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ تحت کام کر رہے ہیں۔ ذوالفقار علی شاہ موہن جو دڑو سے جو اشیائ ملی ہیں وہ محفوظ ہیں اور بہت سی قدیم اشیائ سندھ میوزیم اور نیشنل میوزیم میں بھی رکھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل میوزیم اس وقت وفاق کے پاس ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ محکمہ سیاحت کا سالانہ مجموعی بجٹ پندرہ کروڑ روپے کا ہے جس میں تنخواہیں بھی شامل ہیں ، وزیر سیاحت زوالفقار شاہ نے وزیراعلی سندھ سے درخواست کءہے کہ سیاحت کے لئے بجٹ بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے محکمہ کو کوئی اسپیشل گرانٹ نہیں دی جاتی۔، وزیر ثقافت سندھ نے کہا کہ عمران خان دور حکومت میں نیشنل میوزیم کا کنٹرول سندھ سے لیا گیاتھاہمارے وہ ساتھی جو وفاق میں حکومت میں ہیں سندھ میوزیم واپس دلوانے کے لئے ملکر کوشش کریں ۔ ذوالفقار علی شاہ نے بتایا کہ سندھ کے مختلف مقامات پر نئی لائبریریاں بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن فنکاروں کی مدد ہوتی ہے چیک ان کے اکاو¿نٹس میں جاتے ہیں۔امدادی رقم کی فراہمی میں کوئی گڑ بڑ نہیں ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی گڑ بڑ ثابت کرے تو استعفیٰ دینے کے لیئے تیار ہوں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی ترجیح نہیں کہ مرد یا عورت فنکار ہو،جس کسی بھی فنکار کی درخواست آتی ہے اس کی مدد کی جاتی ہے۔