نیدرلینڈز نے سندھ میں جدید زراعت، آبپاشی، فلڈ مینجمنٹ اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو سے نیدرلینڈز کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ہاجو پرووو کلوئٹ نے کراچی میں ملاقات کی۔ترجمان کے مطابق ملاقات میں سندھ کے آبپاشی نظام، ڈیلٹا کے سکڑنے، سمندر کے پانی کے دراندازی (Sea Intrusion) اور مجموعی پانی کے انتظام کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

کراچی

مور خہ 26نومبر 2025

کراچی26 نومبر ۔ نیدرلینڈز نے سندھ میں جدید زراعت، آبپاشی، فلڈ مینجمنٹ اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو سے نیدرلینڈز کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ہاجو پرووو کلوئٹ نے کراچی میں ملاقات کی۔ترجمان کے مطابق ملاقات میں سندھ کے آبپاشی نظام، ڈیلٹا کے سکڑنے، سمندر کے پانی کے دراندازی (Sea Intrusion) اور مجموعی پانی کے انتظام کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ کا ڈیلٹا صرف 36 فیصد رہ گیا ہے جبکہ دریاؤں میں سلٹ کم آنے کے باعث زمینوں کی زرخیزی اور ماہی گیری بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔اجلاس میں ایل بی او ڈی اور آر بی او ڈی کی ناکافی ڈرینیج صلاحیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ سندھ کو سب سے بڑا خطرہ سیلاب سے ہے، لہٰذا آبپاشی اور ڈرینیج کے نظام کو جدید سائنسی بنیادوں پر ازسرِنو ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ مضبوط فلڈ مینجمنٹ اور مربوط ڈرینیج پلان کے بغیر صوبہ مسلسل سیلابی خطرات سے دوچار رہے گا۔ملاقات میں لائیو اسٹاک، سیمین و ایمبریو ٹیکنالوجی، فوڈ پراسیسنگ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ ڈچ ٹیکنالوجی کی مدد سے سندھ میں 7 سے 8 لاکھ مویشیوں کی بہتری ممکن ہے۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ ملک میں فی الحال صرف دو سیمین پراسیسنگ پلانٹس موجود ہیں اور مزید پلانٹس کے قیام سے درآمدی انحصار کم ہوگا۔اس موقع پر وندر/وہاڑی میں پیسچرائزنگ پلانٹ قائم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔ نیدرلینڈز کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے پانی کے انتظام، جدید فوڈ پراسیسنگ اور کلائمیٹ ریزیلینس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا. فریقین کے درمیان ڈچ کمپنیوں کے ساتھ ورکنگ گروپ یا ایم او یو تشکیل دینے اور سندھ ڈیلٹا کی بحالی سمیت آبپاشی کے ماحولیاتی اثرات پر مشترکہ رپورٹ تیار کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے یقین دہانی کرائی کہ نیدرلینڈز سندھ کی زرعی ترقی، پانی کے انتظام اور لائیو اسٹاک سیکٹر کی بہتری کے لیے مکمل تعاون کرے گا، جبکہ ڈچ کمپنیاں زرعی، پانی، لائیو اسٹاک اور فوڈ پراسیسنگ سیکٹرز میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔

ہینڈآؤٹ نمبر 1328۔۔۔

ڈائریکٹوریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ 26نومبر 2025

سیکریٹری ماحولیات زبیر چنہ سے نیدرلینڈز کے ڈپٹی سفیر کی ملاقات،صوبے کے لیے جامع ایئر اور واٹر کوالٹی مانیٹرنگ نیٹ ورک کے قیام پر اتفاق

اصلاحات سے ماحول میں بہتری، عالمی معیار کےمطابق مانیٹرنگ سسٹم ہاٹ اسپاٹس پر درست ڈیٹافراہم کرےگا،سیکریٹری ماحولیات زبیر چنہ

کراچی26 نومبر۔ سیکریٹری ماحولیات،موسمیاتی تبدیلی وساحلی ترقی سندھ زبیر چنہ سے نیدرلینڈز کے ڈپٹی سفیر ہاجو پرووو کلائٹ کی اہم ملاقات ہوئی جس میں صوبے کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ملاقات میں کاربن کریڈٹ و کاربن فنانسنگ اور صوبائی کاربن رجسٹری کے قیام پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ صوبے کے لیے جامع ایئر اور واٹر کوالٹی مانیٹرنگ نیٹ ورک کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر سیکریٹری ماحولیات زبیر چنہ نے بتایا کہ ماحول کو بہتر کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حالیہ برسوں میں ماحولیات کے شعبے میں اصلاحات سے نمایاں بہتری آئی ہے۔اب سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کو مکمل ڈیجیٹلائز کرنے جارہے ہیں جس سے آپریشن، انسپیکشنز، این او سیز کے حصول، لیبارٹری رپورٹس اور ایمیشن کنٹرول کے نظام میں شفافیت ہوگی اور عالمی معیار کی انوائرنمنٹل گورننس ممکن ہوگی۔صوبے میں پلاسٹک بیگز پر پہلے ہی مکمل پابندی نافذ لگا چکے ہیں۔ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ٹائر جلانے اور پائرو لائسز پلانٹس پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔ سندھ میں فضائی آلودگی کی صورتحال معلوم کرنے کے لیے جامع ایئر کوالٹی مانیٹرنگ نیٹ ورک کی ضرورت ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ عالمی معیار اور تعاون سے مانیٹرنگ سسٹم نصب ہوں تاکہ ٹریفک جنکشنز، ساحلی پٹی اور انڈسٹریل ہاٹ اسپاٹس پر درست، فوری اور قابلِ بھروسہ ڈیٹا حاصل کیا جاسکے۔ ساتھ ہی ساتھ ارلی وارننگ سسٹمز سے قدرتی آفات اور متوقع نقصانات کا جائزہ ممکن ہو اور حکمت عملی مرتب کی جاسکے۔ ڈچ ڈپٹی سفیر نے استفسار کیا کہ ماحولیاتی بہتری کے لیے صوبے کو لینڈفل منصوبے سندھ کی اشد ضرورت ہیں۔ جس پر سیکریٹری ماحولیات نے جواب دیا کہ سندھ حکومت نے سالڈ ویسٹ کلیکشن، لینڈفل سائٹس کی بہتری، انسنریشن پلانٹس، اور جدید فضلہ تلفی نظام پر عملی اقدامات جاری ہیں۔ کراچی کی دو بڑی لینڈفل سائٹس پر میتھین کنٹینمنٹ نصب کی جا رہی ہے اوراس منصوبے سے سندھ قابلِ فروخت کاربن کریڈٹس حاصل کرے گا جو ایک مستقل مالیاتی ریٹرن ثابت ہوگا۔ سیکریٹری ماحولیات زبیر چنہ نے بتایا کہ کاربن مارکیٹ، ڈیٹا بیس لائن اور کاربن فنانسنگ کے طریقہ کار سے متعلق عالمی مارکیٹ میں حکومتی سطح پر کریڈٹ فروخت پیچیدہ عمل ہے۔ سندھ حکومت نجی شعبے، پی پی پیز اور پبلک فسیلٹیز کے ذریعے ایسے پروجیکٹس چلائے گی جن سے قابلِ تصدیق کاربن کریڈٹس پیدا ہوں گے۔اس موقع پر ڈچ وفد نے ڈیلٹا بلیو کاربن منصوبے کو مثال قرار دیا اور کہا کہ سندھ میں مینگرووز پر مشتمل ماڈل پہلے ہی دنیا میں کامیاب مثال بن چکا ہے۔ سیکریٹری ماحولیات نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ صوبائی کاربن رجسٹری کا قیام جلد مکمل ہو تاکہ سندھ بین الاقوامی کاربن ٹریڈنگ، آرٹیکل 6 میکانزم، اور آئی ٹی ایم اوز کے ساتھ مؤثر طور پر جڑ سکے۔ رجسٹری کے قیام سے کاربن کی درست مقدار اور عالمی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ ہمارے پاس حکمت عملی ہے لیکن پائیدار ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔ ایسا ہائبرڈ سسٹم چاہتے ہیں جو ہوائی آلودگی، پانی کے بہاؤ اور ہنگامی صورتحال میں فوری الرٹ جاری کر سکے۔ سندھ کے تمام شہروں، نہری نظام اور دیہی علاقوں کو اس ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ ڈچ ڈپٹی سفیرنے یقین دہانی کرائی کہ نیدرلینڈز سندھ کے ساتھ کلائمٹ چینج، ایئر کوالٹی اور کاربن مارکیٹ، جیسے منصوبوں پر تعاون بڑھانے میں سنجیدہ ہے اور سندھ حکومت کی ترجیحات، ضرورتوں اور پہلے سے جاری پراجیکٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وزارتِ خارجہ کو سفارشات پیش کریں گے تاکہ مشترکہ پراجیکٹس پر عملی پیش رفت ہو سکے۔ ملاقات میں دونوں جانب سے ماحولیات، کلائمٹ ریزیلینس اور کاربن مارکیٹ کے شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

ہینڈآؤٹ نمبر 1329۔۔۔ایم۔ڈبلیو

ڈائریکٹوریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ 26نومبر 2025

کراچی 26 نومبر ۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین حکومت سندھ کے اہم اہداف قرار دیتے ہوئے عالمی بینک سے کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین کے لئے تعاون کی اپیل کردی ہے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبے سندھ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گے، حکومت سندھ چاہتی ہے کہ عالمی بینک ان منصوبوں میں اپنا کردار ادا کرے۔ کراچی میں عالمی بینک کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کی سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے بھر میں اربن موبلٹی کی بہتری، ٹرانسپورٹ سسٹم کی مضبوطی اور مختلف ماڈلز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات کے موقع پر سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے عالمی بینک کے تعاون سے جاری یلو لائن بی آر ٹی منصوبے پر وفد کو بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ یلو لائن کے اہم حصے تاج حیدر پل کے ایک حصے کا کام مکمل ہو گیا ہے ، دوسرے حصے پر کام تیزی سے جاری ہے، یلو لائن بی آر ٹی سے متعلق فیصلے عوام اور منصوبے کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جا رہےہیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے عالمی بینک کے مزید اور بروقت تعاون کی ضرورت ہے، عوام کو سستی اور تیز ترین سفری سہولیات فراہم کرنا حکومت سندھ کا واضح عزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سال وفاقی حکومت کی جانب سے گرین لائن بی آر ٹی کا آپریشن سندھ حکومت کے حوالے کیا گیا ہے، حکومت سندھ کے زیر انتظام گرین لائن بی آر ٹی کی یومیہ رائڈرشپ میں 33 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں اربن موبلٹی کے لیے مزید بسوں کی ضرورت ہے، اس شعبے میں عالمی بینک کی معاونت اہم ہو سکتی ہے، نہ صرف یلو لائن بی آر ٹی بلکہ مستقبل کے ٹرانسپورٹ منصوبوں میں بھی عالمی بینک کا تعاون درکار ہے۔ عالمی بینک کے وفد نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں حکومت سندھ کے اقدامات کی تعریف کی اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے درخواست کی کہ ریلوے کے منصوبوں میں بھی وہ اپنا کردار ادا کریں۔ عالمی بینک کے وفد کا کہنا تھا کہ کراچی خطے کا اہم شہر ہے، کراچی کو سینٹرل ایشیا تک رسائی کے لیے کلیدی مقام حاصل ہے۔

ہینڈآؤٹ نمبر 1330۔۔۔

ڈائریکٹوریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ 26نومبر 2025

ایکسپو سینٹر کراچی میں 60 دیہی کاروباروں کی نمائش کے ساتھ GRASP پروگرام اختتام پذیر

کراچی26 نومبر ۔ایکسپو سینٹر کراچی میں تین روزہ تیسری انٹرنیشنل فوڈ اینڈ ایگریکلچر نمائش میں 60 سے زائد دیہی کاروباروں نے اپنے مصنوعات اور اختراعات GRASP پویلین میں پیش کیں، جس کے ساتھ یورپی یونین کے مالی تعاون سے چلنے والا گراؤتھ فار رورل ایڈوانسمنٹ اینڈ سسٹینیبل پروگریس (GRASP) پروگرام باضابطہ اختتام کو پہنچا. وزیر آبپاشی، منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں شریک ہوئے اور ایکسپو سینٹر میں لگے اسٹالز کا دورہ کر کے کاروباروں سے معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی سید نجم احمد شاہ بھی موجود تھے. جام خان شورو نے کہا کہ GRASP پروگرام نے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا، 15,560 کسانوں کو تربیت دی، 201 فارمر مارکیٹ کلیکٹیو قائم کیے اور 1,616 SMEs کو فوڈ سیفٹی اور SPS معیارات کے مطابق سپورٹ فراہم کی۔ اس پروگرام نے سٹوریج اور پروسیسنگ کی صلاحیت بڑھانے، لیبارٹریوں کی اپ گریڈیشن اور مارکیٹ سسٹمز کو مضبوط بنانے میں بھی مدد کی۔ جام خان شورو نے آم، کیلا، کھجور، ٹماٹر، پیاز اور لائیو اسٹاک کی ویلیو چینز میں پروگرام کی کامیابی اور دیہی خواتین کی اقتصادی شمولیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ سندھ حکومت GRASP کے کامیاب ماڈلز کو مزید وسیع کرے گی تاکہ پائیدار، جامع اور کلائمٹ ریزیلینٹ دیہی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر ریمونڈس کاروبلس اور ITC کے چیف رابرٹ اسکیڈمور نے بھی تقریب میں شرکت کی اور پروگرام کی کامیابی اور شراکتی نقطہ نظر کی تعریف کی۔ دیہی ترقی اور پائیدار ترقی کے پروگرام پویلین میں کھجور، پیاز، ٹماٹر، ڈیری، زیتون، شہد، جڑی بوٹیوں کی مصنوعات اور دیگر ویلیوایڈڈ دیہی مصنوعات پیش کی گئیں، جس نے سندھ اور بلوچستان میں دیہی ترقی کے لیے گراؤتھ فار رورل ایڈوانسمنٹ اینڈ سسٹینیبل پروگریس (GRASP) کا مضبوط وراثت قائم کی۔

ہینڈآؤٹ نمبر 1331۔۔۔

ڈائریکٹوریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ 26نومبر 2025

درخواست برائے ٹکرز

· کلفٹن چائنہ پورٹ کے قریب سے خاتون کی تشدد زدہ لاش ملنے کا واقعہ

· صوبائی وزیر ترقئ نسواں سندھ شاہینہ شیر علی کا واقعے کا سخت نوٹس

· ایس ایس پی کلفٹن سے واقعے سے متعلق تفصیلات طلب

· ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون کو قتل کرکے لاش چائنہ پورٹ کے قریب پھینکی گئی، ایس ایس پی کلفٹن

· خاتون کی چہرے اور انگلیوں کی شناخت بھی مٹائی گئی، ایس ایس پی کلفٹن

· افسوسناک واقعے کی تمام پہلوؤں سے مکمل شفاف انکوائری کی جائے، صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی

· خاتون کے قتل میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، صوبائی وزیر ترقئ نسواں سندھ

Download all attachments as a zip file