خاتون وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن سکتی ہیں تو گھر میں بیٹھی عورت بھی سب کچھ کرسکتی ہے ، ایڈوکیٹ حسان صابر

آئین میں ہے کہ 6 سے 15 سال کے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے مگر ایسا نہیں ہورہا ، ایسا کہنا ہے رکنِ قومی اسمبلی حسان صابر کا ۔ ویمن میڈیا سینٹر کے زیرِ اہتمام پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کے پہلے روز مہمانِ خصوصی رکنِ قومی اسمبلی ایم کیو ایم پاکستان ایڈووکیٹ حسان صابر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں پر تنقید کرنے والے کو کامیاب صحافی تصور کیا جاتا ہے ۔ ہم کتاب سے دور اور مصنوعی ذہانت سے قریب ہوگئے ہیں ۔ خبر دینے سے پہلے اُس کی تصدیق کرنی چاہیے ۔ اے آئی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حسان صابر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت بہت سالوں سے موجود ہے مگر اُس کا غلط استعمال اب ہورہا ہے ۔ مغربی ممالک میں بچوں کے اسکرین ٹائم کرنے کرنے لیے قوانین بنائے گئے ہیں ۔ خطاب کے دوران خواتین پر بات کرتے ہوئے رہنماء ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ خاتون وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن سکتی ہیں تو گھر میں بیٹھی عورت بھی سب کچھ کرسکتی ہے ۔ پارلیمنٹ میں خواتین کا اہم کردار ہے ۔ تمام حقوق آئین میں ہیں ، آئین حقوق کی ماں ہے ۔
26 نومبر کو شروع ہونے والی اس ورکشاپ میں مختلف جامعات کی میڈیا کی طالبات نے شرکت کی ۔”اے آئی کے دور میں میڈیا اور سیاست پر اثر” کے موضوع سے جاری اس ورکاپ کا مقصد صحافت کی طالبات کو تربیت دینا اور عملی طور پر بااختیار بنانا
ہے۔ یہ ورکشاپ 30 نومبر تک جاری رہے گی ۔