وژن 2030 ،ٹریفک اہلکاروں کی بجائے خود کار طریقے سے نظام چلایا جائے گا، پیر محمد شاہ کراچی ٹریفک مینجمنٹ کمپنی کے قیام کی تجویز دی تاکہ چالان کی رقم سے سڑکوں کا انفرااسٹرکچر بہتر بنایاجائے، ڈی آئی جی ٹریفک

وژن 2030 ،ٹریفک اہلکاروں کی بجائے خود کار طریقے سے نظام چلایا جائے گا، پیر محمد شاہ

کراچی ٹریفک مینجمنٹ کمپنی کے قیام کی تجویز دی تاکہ چالان کی رقم سے سڑکوں کا انفرااسٹرکچر بہتر بنایاجائے، ڈی آئی جی ٹریفک

ای چالان کے نفاذ سے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد میں نمایاں بہتری ، چالان کی رقم کم ، انفرااسٹرکچر بہتر کیا جائے، صدر کاٹی محمد اکرام راجپوت

کالے شیشوں کے خلاف مساوی کارروائی،نئے نظام میں کچھ خامیاں ہیں ،امید ہے جلد سب دور کردی جائیں گی، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا

کراچی ( ) ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ ہے ای چالان سے ٹریفک کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے، ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ اور سنگل پر رکنے کا رجحان بڑھا ہے۔ ای چالان کا اعلان کاٹی میں ہی کیا تھا، گزشتہ ایک ماہ میں 58 فیصد چالان لگژری گاڑیوں کے ہوئے جبکہ ٹریفک کا 60 فیصد حصہ موٹرسائیکلوں پر مشتمل ہے ان کے صرف 23 فیصد چالان ہوئے۔ سندھ کے بارے میں غلط تاثر دیا جارہا ہے کہ لاہور کے مقابلے چالان کی رقم زیادہ ہے۔ لاہور میں موٹرسائیکل کا چالان 2000 روپے کا ہے جبکہ سندھ میں 2500 کا چالان ہے۔ سندھ میں چالان کی قیمت 5000 رکھی گئی ہے لیکن 14 دن کے اندر ادائیگی کرنے پر 50 فیصد ڈسکاؤنٹ ہے جو لاہور میں موجود نہیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں صنعتکاروں سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، سینئر نائب صدر زاہد حمید، نائب صدر محمد طلحہ،سابق چیئرمین و صدور جنید نقی، گلزار فیروز، سلیم الزماں، طارق ملک،شیخ فضل جلیل، جوہر قندھاری، رزاق پراچہ، یاسر گلزار، ایس پی ٹریفک کورنگی مجنوں خان انڑ، ٹریفک پولیس کے اعلیٰ افسران اور ممبران و صنعتکار موجود تھے۔ پیر محمد شاہ نے مزید کہا کہ پیر سے شہریوں کی سہولت کیلئے چیٹ باٹ کا آغاز کیا جارہا ہے جو چالان سمیت تمام معلومات فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تجویز دی ہے کہ کراچی ٹریفک مینجمنٹ کمپنی (کے ٹی ایم سی) کا ایک ادارہ قائم کیا جائے جسے چالان سے جمع ہونے والی رقم کا حصہ دیا جائے جو شہر کے انفراسٹرکچر کو ٹھیک کرنے میں استعمال کیا جائے گا تاکہ شہریوں کی شکایات دور ہوسکیں۔ ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ شہر میں اب تک 1 ہزار 76 کیمرے نصب ہیں جنہیں بڑھا کر 12ہزار تک لے جانا ہے، شہر میں اس وقت 400 سگنلز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2030 کا وژن ہے کہ شہر میں کوئی ٹریفک پولیس اہلکار شاہراہوں پر ڈیوٹی نہ دے بلکہ سارا نظام خود کار طریقے سے چلایا جائے۔پیر محمد شاہ نے کہا کہ ای چالان سے جن لوگوں کے نام گاڑی نہیں یادیگر مسائل ہیں ان کی علیحدہ لسٹ تیار کر رہے ہیں۔ اب تک 2000 بلیک لسٹ گاڑیوں کا پول تیار ہوچکا ہے۔ شہری جو ای چالان سے بچنے کیلئے نمبر پلیٹ چھپارہے ہیں یا نہیں لگاتے وہ جرم کا ارتکاب کررہے ہیں۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگیا ہے ، ممکن ہے چالان کی قیمت کم کی جائے۔ لیکن مشرق وسطی اور دیگر مغربی ممالک کی طرح بھاری جرمانے ہی قوانین کے بہتر اطلاق میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ پیر محمد شاہ نے کہا کہ بھاری گاڑیوں میں ٹریکر نصب کرنے کا قانون نافذ کردیا گیا ہےاور ٹرانسپورٹ کے نظام میں بھی آٹو میشن لایا جارہا ہے۔ قبل ازیں صدر کاٹی محمد اکرام راجپوت نے خطاب میں کہا کہ ای چالان کے نفاذ کے بعد سڑکوں پر کافی نظم و ضبط آیا ہے، اکثر موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ استعمال کر رہے ہیں، لوگ از خود زیبرا کراسنگ پر رک رہے ہیں،ٹریفک نظام میں واضح بہتری نظر آرہی ہے۔ لوگوں کی اکثریت نے سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کا استعمال شروع کردیا ہے، سگنل توڑنے کا سلسلہ بھی رک گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے لئے آگاہی مہم میں اضافہ کیا جائے تاکہ عوام کو ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کرنے میں آسانیاں پیدا ہوسکیں۔اکرام راجپوت نے کہا کہ ای چالان کی رقم بہت زیادہ ہے ، جسے کم کرنے کی فوری ضرورت ہے ۔صدر کاٹی نے کہا کہ ای چالان کے بعد حادثات کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے ، جو کہ خوش آئند ہے۔ای چالان کے نفاذ سے جرائم پیشہ افراد کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کو پولیس میں ڈپیوٹ کیا جارہا ہے جس سے سڑکوں پر نفری کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے، ڈیپوٹیشن کو روکا جائے۔ محمد اکرام راجپوت نے مزید کہا کہ کراچی میں سیف سٹی پروجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے کہا کہ ماس ٹرانزٹ کی عدم موجودگی کے باعث ٹریفک کا نظام خراب ہوا۔ کالے شیشوں کے خلاف کارروائی ہر ایک کیلئے برابر اور مساوی ہو۔ زبیر چھایا نے کہا کہ ڈمپر اور بھاری ٹریفک کی خلاف ورزیوں کو روکنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کاای چالان کا اقدام قابل تعریف ہے اور اس پر تنقید بلا جواز ہے۔ سندھ پولیس اپنا کام ایمانداری سے کر رہی ہے ، یہ نیا نظام ہے کچھ خامیاں ضرور ہیں لیکن امید ہے وقت کے ساتھ وہ سب درست کرلی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی ٹریفک کے نظام ، انکروچمنٹ سگنلز کی تعداد میں اضافہ چاہتی ہے تاکہ شہر ایک منظم نظام سے چلتا نظر آئے جس سے بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں پر اچھا تاثر قائم ہو۔

فوٹو کیپشن: کاٹی کے صدر اکرام راجپوت، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کو شیلڈ پیش کر رہے ہیں،زاہد حمید، محمد طلحہ، جوہر قندھاری، خرم گلزار بھی موجود ہیں۔