کمپیوٹر اور پرنٹر کمپنی ایچ پی نے منگل کے روز ایک وسیع پیمانے پر ڈھانچے میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کمپنی 2028 تک دنیا بھر میں 4000 سے 6000 ملازمتیں ختم کرے گی۔
ایچ پی کے مطابق یہ اقدام کمپنی کے ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایچ پی کو زیادہ ہلکا، لچکدار اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی مارکیٹ کے لیے تیار کرنا ہے۔
کمپنی کے سربراہ انریک لوئرس نے اس اقدام کو کمپنی کی مقابلہ بازی برقرار رکھنے کے لیے ضروری قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی ایچ پی کے عالمی کارروائیوں کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرے گی۔
ایچ پی کے مطابق یہ تبدیلی 2028 تک سالانہ تقریباً دس ارب پاکستانی روپے کے برابر بچت ہوگی، جس کا زیادہ تر سہرا مصنوعی ذہانت کے اوزاروں کے کاروبار میں گہرے انضمام کو جاتا ہے۔
لوئرس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو مصنوعات کے ڈیزائن، فروخت، صارفین کی خدمات اور تیاری میں شامل کیا جائے گا، اور کمپنی اسے عارضی حل نہیں بلکہ طویل مدتی ترقی کے لیے ایک کلیدی عنصر سمجھتی ہے۔
کمپنی کے مطابق اکتوبر 31 کو ختم ہونے والی چوتھی مالی سہ ماہی میں ایسے کمپیوٹر کل ترسیلات کا تیس فیصد سے زیادہ تھے، اور یہ شعبہ مستقبل میں بھی آمدنی کا اہم ذریعہ بھی رہے گا۔























