وسط مدتی الیکشن؟ | 28 ترمیم | پی ٹی آئی کا احتجاج | اڈیالہ جیل | 26 نومبر

وسط مدتی الیکشن؟ | 28 ترمیم | پی ٹی آئی کا احتجاج | اڈیالہ جیل | 26 نومبر

وسط مدتی الیکشن؟ | 28 ترمیم | پی ٹی آئی کا احتجاج | اڈیالہ جیل | 26 نومبر
Mid-term Election? | 28 Amendment | PTI Protest | Adiala Jail | 26 November
==========================

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان جارحیت کا جواب ضرور دیتا ہے لیکن عام شہریوں پر حملہ کرنا ہماری پالیسی نہیں، ہماری فورسز انتہائی ڈسپلن ہیں،ہم طالبان جیسا کوئی گروہ نہیں ہیں۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جارحیت کا جواب ضرور دیتا ہے لیکن سویلین پر حملہ کرنا ہماری پالیسی یا وطرہ نہیں، پاکستان کی ایک ڈسپلن فورس ہے، جس کی روایات ہیں، پاکستان کی فورسز کا ایک کوڈ آف کنڈکٹ ہے، ہم کوئی ایسے ہی ریگ ٹیگ گروپس نہیں ہیں جن کا کوئی نظم مذہب ہے اور نہ ہی کوڈآف کنڈکٹ ہے، 20 یا 40 سال کی جو بھی تاریخ ہے، انہوں نے جب کابل واپس لیا تھا، میں نے ان کو ویلکم کہا تھا، اچھائی کی امید رکھنی چاہیئے جب تک کوئی سبھی حدیں پار نہ کرجائے۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آج پاکستان کو افغان طالبان سے بالکل اچھائی کی امید نہیں ہے، ان کا دور دور تک اسلام ، مذہب یا قومیت یا کوئی طور طریقوں سے تعلق نہیں ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا کے کس مذہب اور معاشرے میں ایسے ہے کہ اگر آپ کسی ملک میں 40 سال گزاریں نمک کھایا ہو، پھر انہی کے ساتھ دشمنی کریں، ان کے مردوخواتین بچوں کا قتل عام کریں، سکولوں مساجد میں بم دھماکے کریں ، وہاں پر لوگوں کو شہید کریں ، یہ کسی قوم ہے؟ کیا مذہب ہے ان کا؟ جو ان کو سکھاتا ہے کہ جس گھر میں رہیں وہاں خون ریزی کریں، کیا دین ہے ان کا؟ ہماری نظر میں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں ہیں، طالبان کی کون سی شریعت ہے جس کے تحت لوگوں کو ڈکٹیٹ کرتے ہیں؟دہشتگردوں میں کوئی تفریق نہیں ہے۔
ہم افغان طالبان کے خلاف جب کاروائی کریں گے تو واشگاف الفاظ میں بتائیں گے۔
=======================

علیمہ خان کا گورکھ پور ناکے پر دھرنا 10 گھنٹے بعد ختم

علیمہ خان کا گورکھ پور ناکے پر دھرنا 10 گھنٹے بعد ختم
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر علیمہ خان نے اپنی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں کے ساتھ راولپنڈی کے گورکھ پور ناکے پر جاری دھرنا تقریباً 10 گھنٹے بعد ختم کردیا۔

ذرائع کےمطابق پولیس کے علیمہ خان اور علامہ ناصر عباس سے مذاکرات کامیاب ہوجانے کے بعد علیمہ خان نے پولیس کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کردیا۔

نورین نیازی نے کہا کہ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگلے ہفتے ملاقات کرائی جائے گی، اگر اگلے ہفتے ملاقات نہیں کرائی گئی تو احتجاج ختم نہیں کرینگے۔

ہمیں گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں ہم نہیں ڈرتے، علیمہ خان

واضح رہے کہ منگل کو علیمہ خان اپنے بھائی عمران خان سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچی تو پھر انہیں ملاقات کی اجازت نہ ملی۔

علیمہ خان نے کارکنوں کے ہمراہ جیل کی طرف جانے کی کوشش کی، پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔

اس موقع پر علیمہ خان عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے قریب گورکھ پور ناکے پر دھرنا دے کر بیٹھ گئی تھیں۔