بتیاں بھجا کر ٹھکائی ! اڈیالہ سے تہلکہ


بتیاں بھجا کر ٹھکائی ! اڈیالہ سے تہلکہ

بتیاں بھجا کر ٹھکائی ! اڈیالہ سے تہلکہ

======================

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان جارحیت کا جواب ضرور دیتا ہے لیکن عام شہریوں پر حملہ کرنا ہماری پالیسی نہیں، ہماری فورسز انتہائی ڈسپلن ہیں،ہم طالبان جیسا کوئی گروہ نہیں ہیں۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جارحیت کا جواب ضرور دیتا ہے لیکن سویلین پر حملہ کرنا ہماری پالیسی یا وطرہ نہیں، پاکستان کی ایک ڈسپلن فورس ہے، جس کی روایات ہیں، پاکستان کی فورسز کا ایک کوڈ آف کنڈکٹ ہے، ہم کوئی ایسے ہی ریگ ٹیگ گروپس نہیں ہیں جن کا کوئی نظم مذہب ہے اور نہ ہی کوڈآف کنڈکٹ ہے، 20 یا 40 سال کی جو بھی تاریخ ہے، انہوں نے جب کابل واپس لیا تھا، میں نے ان کو ویلکم کہا تھا، اچھائی کی امید رکھنی چاہیئے جب تک کوئی سبھی حدیں پار نہ کرجائے۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آج پاکستان کو افغان طالبان سے بالکل اچھائی کی امید نہیں ہے، ان کا دور دور تک اسلام ، مذہب یا قومیت یا کوئی طور طریقوں سے تعلق نہیں ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا کے کس مذہب اور معاشرے میں ایسے ہے کہ اگر آپ کسی ملک میں 40 سال گزاریں نمک کھایا ہو، پھر انہی کے ساتھ دشمنی کریں، ان کے مردوخواتین بچوں کا قتل عام کریں، سکولوں مساجد میں بم دھماکے کریں ، وہاں پر لوگوں کو شہید کریں ، یہ کسی قوم ہے؟ کیا مذہب ہے ان کا؟ جو ان کو سکھاتا ہے کہ جس گھر میں رہیں وہاں خون ریزی کریں، کیا دین ہے ان کا؟ ہماری نظر میں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں ہیں، طالبان کی کون سی شریعت ہے جس کے تحت لوگوں کو ڈکٹیٹ کرتے ہیں؟دہشتگردوں میں کوئی تفریق نہیں ہے۔
ہم افغان طالبان کے خلاف جب کاروائی کریں گے تو واشگاف الفاظ میں بتائیں گے۔