(KMH) نے دل کے امراض کے علاج میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے نومبر 2025 تک 400 سے زائد کارڈیک پروسیجرز — جن میں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی اور کارڈیک بائی پاس شامل ہیں

(KMH) نے دل کے امراض کے علاج میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے نومبر 2025 تک 400 سے زائد کارڈیک پروسیجرز — جن میں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی اور کارڈیک بائی پاس شامل ہیں — کامیابی سے مکمل کر لیے۔ صرف دو برس کے عرصے میں اسپتال نے ایک مکمل فعال اور قابلِ اعتماد کارڈیک پروگرام قائم کیا ہے، جو کراچی اور اس کے مضافات کے مریضوں کے لیے اہم سہولت بن چکا ہے۔پروفیسر سید اشتیاق رسول کی سربراہی میں کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے انتہائی مہارت رکھنے والی ٹیم تیار کی ہے، جس میں جونیئر ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، تکنیکی ماہرین اور ایمرجنسی کیئر یونٹ شامل ہیں۔ اسپتال 24/7 کارڈیک ایمرجنسی، CCU مینجمنٹ، ETT، ایکو کارڈیوگرافی اور جدید کیتھ لیب میں مداخلتی طریقہ کار فراہم کر رہا ہے، انتظامیہ کی جانب سے مؤثر باہمی تعاون کے نظام نے دل کے مریضوں کے لیے معیاری علاج کی فراہمی ممکن بنائی ہے۔اسی سلسلے میں کتیانہ میمن اسپتال کی جانب سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں ڈاکٹر اقرا حسن نے کمپئرنگ کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر سی ایم او ڈاکٹر اختر عزیز نے بتایا کہ گزشتہ 30 برس میں انجیوپلاسٹی اور انجیوگرافی سمیت دل کے علاج میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں اور آج 400 سے زیادہ دل کے آپریشن کامیابی سے ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں مریض کا علاج اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ اس کے پاس پیسہ ہے یا نہیں۔پروفیسر اشتیاق رسول نے کہا کہ یہ کامیابی کسی خواب کا نہیں بلکہ مسلسل محنت اور فنانس ڈپارٹمنٹ سمیت پوری ٹیم کی بے لوث کاوشوں کا نتیجہ ہے، اور اب ہمارے پاس ایک مضبوط اور فعال ٹیم موجود ہے۔ ڈاکٹر عدنان علی کھیڑو نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں ہر تین میں سے ایک موت دل کے امراض کے باعث ہوتی ہے، ایسے میں کتیانہ میمن اسپتال کا کارڈیک پروگرام زندگیوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال کا آغاز 1993 میں ہوا، کارڈیو وارڈ نے 2003 میں کام شروع کیا اور 2019 میں پہلی کارڈیک سرجری کی گئی۔تقریب سے ڈاکٹر وجاہت واسطی، سلیم رومی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرجری کبھی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری ٹیم کا مشترکہ کام ہے اور کتیانہ میمن اسپتال نے اس میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ معروف سماجی رہنما احمد چنائے نے کہا کہ ہمارا سفر 1990 میں شروع ہوا اور آج میمن برادری کے بھرپور تعاون سے یہ اسپتال انڈس ہسپتال کے طرز پر ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں روزانہ تقریباً 5000 افراد آتے ہیں اور کارڈیک سروسز سمیت علاج کی بہت سی سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں یہ اسپتال ایسا ہو جہاں ہماری اپنی فیملیز بھی معیاری علاج کروائیں، اور سندھ حکومت سے اپیل ہے کہ صحت کے شعبے میں مزید تعاون کرے تاکہ ڈائلیسس، تھیلیسیمیا اور دیگر یونٹس کو بھی مزید مضبوط بنایا جاسکے