دسویں ادب فیسٹول کا شاندار اختتام
کراچی(23 نومبر 2025) کراچی ہیبٹ سٹی میں دسویں ادب فیسٹول کا اختتامی سیشن انتہائی جوش و خروش کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔فیسٹول کے دوسرے دن بھی مختلف سماجی، ادبی، فکری اور ثقافتی حلقوں سے تعلق رکھنے والے شرکاءنے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ فیسٹیول کے دوسرے دن شرکاءنے کتاب و ہنر میلہ، اسپانسرز کے اسٹالز اور بچوں کے ادب کی خصوصی اسٹرینڈ سے بھرپور لطف اٹھایا۔ پہلے دن کی طرح آج بھی بچوں کے لیے ٹیلنٹ شو، یاسمین معتصم کی کہانی گوئی، مہرین کامران کا پپٹ تھیٹر، امینہ سید کے ساتھ کتاب سازی کے سیشنز اور عاطف بدر کی زیرِ نگرانی تھیٹر کی سرگرمیوں نے بچوں اور والدین کو اپنی جانب متوجہ رکھا۔ نوعمروں کے لیے طحہ کہار کی تخلیقی تحریر کی ورکشاپ “دی اسٹوری میکرز اسٹوڈیو” نے آج خاص توجہ حاصل کی۔
دن کا آغاز مختلف فکری اور مکالماتی نشستوں سے ہوا جن میں ٹیکنالوجی و شناخت، ثقافتی ورثے، خواتین کی قیادت، تعلیم اور فنونِ لطیفہ سمیت کئی اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ دن کا پہلا سیشن “ڈیزائننگ ٹومارو وِد آرٹیفیشل انٹیلیجنس” تھا، جس میں جہان آرا، ڈاکٹر سلمان کھٹانی اور صدف بھٹی نے حصہ لیا جبکہ احسن صدیقی نے نظامت کی۔ اس گفتگو میں تخلیقی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کے تعلق اور نوجوانوں کے مستقبل پر اے آئی کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔
اسی دوران “لیڈرز آف ٹومارو: اے کنورسیشن وِد ینگ چینج میکرز” کے عنوان سے ایک اہم نشست بھی منعقد ہوئی جس میں ارسلان بخاری، نائل ابراہیم، ماہا حسن اور شعیب ارشد شریک تھے جبکہ عائزہ سلمان نظامت کررہی تھیں۔ اس سیشن میں نوجوان رہنماوں نے اپنی زندگی کی کہانیاں، چیلنجز اور رہنمائی کے پہلووں پر گفتگو کی اور نوجوان پاکستانیوں کے لیے حوصلہ افزائی اور استقامت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
تیسری نشست ارشد محمود کے خطاب پر مشتمل بعنوان “دی سگنیفیکنس آف دی میوزیکلائزیشن آف لٹریچر” تھی ‘اس میں ریکارڈ شدہ موسیقی بھی شامل تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح پاکستان کی ادبی روایت نے ہمیشہ موسیقی، تھیٹر اور فنونِ لطیفہ کو متاثر کیا ہے۔
طحہ کہار نے نادیہ چشتی مجاہد کی کتاب”پرینل کالج ٹیلز” پر مبنی ایک کتابی گفتگو بھی کی جس کے بعد “ایکوز آف موہنجودارو: آور لیگیسی، ایکسکویشنز اینڈ دی فیوچر” کے عنوان سے نشست ہوئی جس میں نسرین اقبال، عافیہ سلام اور ڈاکٹر اسماءابراہیم شامل تھیں جبکہ راحیلہ بقائی نے تعارف پیش کیا۔
اختتامی دن کی دوپہر میں دو اہم کتب کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی پہلی کتاب پیرزادہ سلمان کی”فیور لاگ اینڈ ادر اسٹوریز”تھی، جس پر امبر پراچہ نے مصنف سے سیر حاصل گفتگو کی۔ دوسری کتاب امبر رومیسہ ناگوری کی ” ٹیلز آ ف ایگنی مترااینڈ تمنا”تھی جس پر اطہر طاہر نے مصنفہ سے گفتگو کی، جس کی نظامت کمیلا حبیب نے کی۔ ہر مصنف نے قارئین کے ساتھ بات چیت کے دوران اپنے لکھنے کے عمل، موضوعات اور تحریکات کے بارے میں یاداشت شیئر کیں۔
اسی وقت ایک اور اہم سیشن “پاور ویمن آف پاکستان: ہر اسٹوری، آور فیوچر” شروع ہوا، جس میں مہتاب راشدی، سائرہ اعوان ملک، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی اور شیما کرمانی نے شرکت کی جبکہ ضرار کھوڑو نے نظامت کی۔ اس گفتگو میں خواتین رہنماوں نے اپنے کیریئر، چیلنجز اور معاشرتی اثرات پر روشنی ڈالی۔
شام کا آغاز “اردو ادب میں تخلیق کی نئی لہر”کے عنوان سے منعقد ہونے والے ایک کتابوں کی گفتگو کے سیشن سے ہوا۔ پہلی کتاب جس پر گفتگو ہوئی وہ انعام ندیم کی “تصویر میں چلتا آدمی”تھی، جس میں شاعر کے ساتھ افضال احمد سید اور جوہر مہدی نے گفتگو کی۔ دوسری کتاب ناصرہ زبیری کی “بے موسمی خواہشیں”تھی، جس پر شاعرہ کے ساتھ فراست رضوی نے گفتگو کی۔ تیسری کتاب نجیبہ عارف کی “مخوطہ”تھی، جس پر مصنفہ کے ساتھ کرن سنگھ نے بات چیت کی۔ آخری کتاب سید کاشف رضا کی “گلِ دوگانا” تھی، جس میں مصنف کے ساتھ تنویر انجم نے گفتگو کی۔
شام کا اگلا سیشن “یاسمین لاری:اینڈنگ پورٹی ان پوسٹ فلڈ کمیونٹیز، ون ملین ایٹ آ ٹائم”کے عنوان سے منعقد ہواجس میں سید رفیع احمد اور شیما سید نے یاسمین لاری کے ساتھ حصہ لیا۔ شاید دوسرے دن کا سب سے مقبول سیشن تھا “مرر ٹو سوسائٹی، دی جرنی آف پاکستانی فلم اینڈ ٹی وی ڈراماز” جس میں مشہور شخصیات بشمول حنا بیات، ارشد محمود، علی خان، عائشہ طور، جنید خان اور مصباح خالد نے حصہ لیاجبکہ خالد انعم نے نظامت کی۔ سیشن کے اختتام کے بعد بھی مداح ستاروں کے ساتھ تصاویر کھنچواتے دیکھے گئے ۔
دوسرے دن کی ایک منفرد نشست”ٹائڈنگ فرام دی ٹریز” تھی جو انگریزی، اردو اور پنجابی میں منعقد ہوئی اور اسے راحیلہ بقائی نے متعارف کرایا۔ فیصل بینک کی سرپرستی میں منعقد ہونے والا یہ سیشن کثیر لسانی اظہار کی خوبصورت مثال ثابت ہوا۔ اسی دوران میاں رضا ربانی کی کتاب”دی اسمائیل اسنیچرز:آ ٹائم لیس ٹےل آف چلڈر، ریزسٹنس اینڈ ہوپ ان غزہ”پر ایک بک ٹاک ہوئی جس میں حمید ہارون نے مصنف کے ساتھ گفتگو کی۔
یومِ اختتام کی آخری نشست”اینٹی سوشل اسٹیئر آن سوشل میڈیا” تھی جس میں ندیم ایف پراچہ، ضرارکھوڑو اور شہزاد غیاث نے طنز، سیاسی تبصرے اور ڈیجیٹل دور کا جائزہ لیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح طنز اظہار اور تنقید کا ایک موثر ذریعہ بنتا گیا ہے۔ کانٹینٹ کریئیٹرز اور مبصرین نے آن لائن دنیا میں کام کرنے کے اپنے تجربات اور الگورتھمز اور وائرل ہونے کے اس دور میں اپنی اصلیت برقرار رکھنے کے طریقے بھی شیئر کیے۔
اسی وقت “دی گل جی میوزیم، دی ہینڈ بک” کی رونمائی بھی ہوئی جسے جان مک کیری نے مرتب کیا ہے۔ اس سیشن میں نسرین خواجہ، نیلوفر فرخ، بینا شاہ، ایڈم فاہی-مجید، تارہ عذرہ داود اور جان مک کیری نے شرکت کی۔ نشست میں پاکستان کے عظیم ترین مصوروں میں سے ایک گل جی کے فنّی ورثے کے تحفظ کی اہمیت پر ایک نہایت دلچسپ اور فکرانگیز گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر جمال عاشقین، امینہ خان، فاران قریشی اور فاروق شہاب نے ایک دلکش لائیو پرفارمنس بھی پیش کی جس نے حاضرین کوبے حد محظوظ کیا۔ سیشن کی نظامت باصلاحیت امین گل جی نے خود کی۔
فیسٹیول کا اختتام سیف سمیجو کے پرجوش میوزک کنسرٹ پر ہواجس نے شرکاء، فنکاروں اور مہمانوں کو ایک خوبصورت جشن میں یکجا کیا۔
امینہ سید اور مرحوم آصف فاروقی کی قائم کردہ دسویں ادب فیسٹیول پاکستان نے ایک بار پھر شہر کے نوجوانوں اور بزرگوں میں مطالعے، مکالمے، تخلیقی سرگرمیوں اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے اپنے مشن کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ فیسٹیول کے دوسرے دن نے ایک بار پھر اس بات کی توثیق کی کہ یہ ادبی میلہ پاکستان میں خیال، اظہار اور کمیونٹی کی شمولیت کے لیے ایک نہایت اہم اور فعال پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
مزید معلومات اور تازہ خبروں کے لیے براہِ کرم ادب فیسٹیول کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں:
www.adabfest.com
کسی بھی قسم کی مزید معلومات کے لئے تراب علی رمزی سے درج ذیل ای میل اور موبائل نمبر پر رابطہ کریں۔
turab.ramzi@starlinks.pk 0300 2000144























