
دینی تعلیم کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ مربوط کرنا ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے، وزیراعلیٰ سندھ
کراچی (22 نومبر): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جامعۃ الرشید کے سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ادارے کے اس ترقی پسندانہ طرزِ عمل کو سراہا جس کے تحت دینی اور عصری تعلیم کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ تقریب میں جامعۃ الرشید کے سرپرست مفتی عبد الرحیم، الجامعۃ الغزالی کے چانسلر، پرووائس چانسلر ڈاکٹر ذیشان احمد، وائس چانسلر مفتی احسان وقار اور دیگر روحانی و تعلیمی رہنماؤں نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے دعوت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے اسے آئندہ کے علماء سے خطاب کرنا اپنا اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے کنونشن کے مقاصد کا خیرمقدم کیا، جنہیں انہوں نے اساتذہ اور علماء کی قوم کو درپیش موجودہ چیلنجز سے آگہی اور انہیں حل کرنے کے عزم کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے کہ ہم ایسے علماء تیار کریں جو نہ صرف عصری مسائل سے واقف ہوں بلکہ انہیں حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔‘‘ اسلامی مدارس کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے یاد دلایا کہ اسلامی تاریخ میں مدارس دنیا کے جدید ترین تعلیمی ادارے تھے جہاں سے عظیم سائنس دان، مفکر اور مورخ پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب نے مسلمانوں کی تحقیقات اور دریافتوں کی بنیاد پر علمی ترقی حاصل کی۔ ہم، جو اس علم کے بانی تھے، پیچھے رہ گئے۔ وزیراعلیٰ نے نشاندہی کی کہ ابتدائی مدارس کے نصاب میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ طب (حکمت)، فلکیات، جہاز رانی اور ریاضی جیسے مضامین شامل تھے، جس کے باعث فارغ التحصیل افراد ہر میدان میں مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعد میں پیدا ہونے والے ’’جمود‘‘ نے ان اداروں کی ترقی روک دی اور دینی تعلیم اور عملی زندگی کے درمیان فاصلے پیدا ہوگئے۔ مراد علی شاہ نے جامعہ اور الجامعۃ الغزالی کے بیک وقت فعال کردار پر مسرت کا اظہار کیا جو درسِ نظامی کو جدید تعلیم کے ساتھ مربوط کر رہے ہیں۔ انہوں نے بی ایس اور ایم ایس ڈگریوں کے ساتھ چار بین الاقوامی زبانوں (عربی، انگریزی، ترکی اور چینی) اور ٹیکنالوجی کورسز کی فراہمی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ علماء اپنا گھریلو نظام تک نہیں چلا پاتے۔ جب یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ اعلیٰ ڈگریوں اور مہارتوں کے حامل ہوں گے تو نہ انہیں بے روزگاری کا سامنا ہوگا اور نہ ہی دوسروں کی طرف دیکھنا پڑے گا۔‘‘ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جدید دنیا سے تعلق رکھنے کے لیے سائنس کو چھوڑنا نہیں بلکہ اس میں مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بنیادی سائنسی اصولوں کی بنیاد خود مسلمانوں نے رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے بزرگوں کی اس علمی میراث کو اپنی صلاحیت کے ذریعے دوبارہ حاصل کرنا ہوگا۔ پاکستان کو ترقی کی راہ پر لانے کے لیے ہمیں تعلیم، معاشی استحکام اور ٹیکنالوجی کا راستہ اپنانا ہوگا۔‘‘ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ موجودہ دور میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، ادب اور فلسفہ کی تعلیم کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ سب سے اہم بات انہوں نے تربیت (کردار سازی) پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی بہتری کے لیے بہترین ذہنوں کے ساتھ بہترین انسانوں کی ضرورت ہے۔ جہاں مدارس اللہ سے تعلق قائم کرنے کا درس دیتے ہیں، وہیں انہیں اللہ کی مخلوق کے حقوق کی تعلیم بھی دینی چاہیے۔ ایسا کرنے سے ہم معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ























