
کراچی/حیدرآباد 22نومبر ۔وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی سنگل ونڈو فیسلٹی کو کراچی کے بعد اب حیدرآباد تک بھی توسیع دے دی گئی ہے، جس کا مقصد صوبے کے ہر شہری کو تعمیراتی منظوریوں کے لیے جدید، تیز رفتار اور شفاف نظام فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2019 میں کراچی میں قائم کی جانے والی سنگل ونڈو فیسلٹی کے ذریعے اب تک 14,485 گھروں کے نقشوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جب کہ آٹومیشن کے نتیجے میں رہائشی منظوریوں کی شرح 99 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو پورے ملک میں ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ کراچی ماڈل کی کامیابی کے بعد حکومتِ سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ اسی طرز کی سہولت حیدرآباد میں بھی فراہم کی جائے، اور مستقبل میں سندھ کے تمام ریجنز میں سنگل ونڈو فیسیلیٹیشن سینٹر قائم کیے جائیں گے۔

سید ناصر حسین شاہ کے مطابق قوانین اور اندرونی طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرکے غیر ضروری رکاوٹیں ختم کی گئی ہیں، جس سے بلڈنگ اپروول کے عمل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ“شفافیت ہمارا بنیادی اصول ہے۔ آٹومیشن کے ذریعے ہر فیصلہ ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، نہ کہ سفارش یا شخصی صوابدید پر۔”
وزیر بلدیات نے مزید بتایا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کے تحت چار لاکھ سیلاب متاثرہ خاندانوں کو گھروں کی ملکیت کے حقوق فراہم کیے جا چکے ہیں، جس سے ان کی بحالی میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں اباد (ABAD) کے ساتھ کوآرڈینیشن مزید مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ کراچی کی طرح حیدرآباد میں بھی اجازت ناموں کا عمل تیز اور مؤثر ہو سکے۔
وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ تعمیرات کے شعبے میں ماحول دوست گرین بلڈنگ ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ کم لاگت رہائش کے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کر رہی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ سندھ کی یہ جدید اصلاحات صرف کراچی یا حیدرآباد تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پورے صوبے میں اس ماڈل کو توسیع دی جائے گی تاکہ عوام کو یکساں معیار کی سہولیات فراہم کی
ہینڈ آؤٹ نمبر 1312۔۔۔۔ایس ڈی























