آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول2025“ میں بلوچی لوک فنکار استاد نور بخش کے بینجو کی دھنوں نے میلہ لوٹ لیا

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول2025“ میں بلوچی لوک فنکار استاد نور بخش کے بینجو کی دھنوں نے میلہ لوٹ لیا

فیسٹیول کے 22 ویں روز میورل آرٹ کا افتتاح، فلم اسکریننگ، 3تھیٹر پلے بھی پیش کیے گئے

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول2025“ کے 22 ویں روز میورل آرٹ کا افتتاح، فلم اسکریننگ، 3تھیٹر پلے ”Heroes of the fourth turning“، ”خودکشی سے پہلے“ اور لبنان کی جانب سے تھیٹریکل پرفارمنس پر مبنی ”Stories from the room“ پیش کیاگیا جبکہ بینجوکی دھنوں پر معروف بلوچی لوک فنکار استاد نور بخش نے اپنی شاندار پرفارمنس سے شائقین کو جھومنے پر مجبور کردیا ۔ فیسٹیول کے 22ویں روز کا آغاز فرانس اور پاکستانی مصوروں کی جانب سے آرٹس کونسل کی بیرونی دیوار پر بنائے گئے میورل آرٹ کے افتتاح سے کیا گیا۔ میورل آرٹ کا افتتاح فرانس کے قونصل جنرل Alexis chahtahtinsky اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کے ہمراہ کیا۔ فرانسیسی آرٹسٹ Nasty, Sety Globe اور پاکستانی مصور عفان طارق (اSpray Therapy) نے آرٹس کونسل کی دیواروں کو عالمی معیار کے میورل آرٹ سے رنگوں میں ڈھالا ہے۔ مصوروں نے میورل آرٹ میں اسپرے کے خوبصورت رنگوں کا استعمال کیا ہے۔ میورل آرٹ کی تھیم ”امن اور آزادی“ پر تھی۔ اس موقع پر فرانسیسی قونصل جنرل Alexis chahtahtinsky نے کہاکہ ورلڈ کلچر فیسٹیول میں فرانس کے فنکاروں کا آنا اعزاز کی بات ہے، ورلڈ کلچر فیسٹیول میں پاکستان اور فرانس کے فنکاروں نے مل کر کام کیا ہے جو کراچی کی عوام کے لیے ایک تحفہ ہے۔میورل آرٹ کا مطلب دیوار کی خالی جگہ کو پُر کرنا ہوتا ہے، میورل آرٹ لوگوں کی زندگیوں کو بدل سکتا ہے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ کراچی خوبصورت شہر ہے اس کو ہم اپنے گھر میں چھپا کر رکھتے ہیں ، کراچی کی دیواروں پر بے ہودہ پیغامات اور اشتہارات نظر آتے ہیں ، جو ہمارے ملک کی ثقافت ہے وہ چھپ رہی ہے، کراچی والوں آپ کو پان اور گٹکے والی دیواریں چاہئیں یا ایسی رنگوں سے بھری دیواریں، ہم یہ چیزیں ختم کرنا چاہتے ہیں ، کے ایم سی اور آرٹس کونسل شہر کی خوبصورتی کے لیے مل کر کام کررہے ہیں، میں کراچی کے نوجوان آرٹسٹوں سے کہتا ہوں کہ وہ آئیں اور ہمارے ساتھ مل کر کام کریں، میرا تعاون آپ لوگوں کے ساتھ ہے۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ فرانس کا سفارتخانہ ورلڈ کلچر فیسٹیول میں مسلسل اپنی دلچسپی کا اظہار کررہا ہے، فرانس کے تین آرٹسٹ یہاں موجود ہیں، ہم نے تھیٹر فنکار اور مصوروں کے ساتھ مل کر مشترکہ کام کیا ، یہ ایک عالمی سطح کا فیسٹیول ہے۔ یہ شہر ہمارا گھر ہے، جیسے ہم اپنے کمرے کو صاف رکھتے ہیں ویسے ہی ہمیں اپنے شہر کو صاف رکھنا ہوگا، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے شہر کی خوبصورتی میں اپنا حصہ ڈالنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ”فلم اسکریننگ“ میں لبنان کی جانب سے دو فلمیں دکھائی گئیں جن میں ”Lebanon by Night“ اور ”In Out“ شامل تھیں۔ ڈائریکٹر Bonnie J. Evansکا تھیٹر پلے ”Heroes of the Fourth Turning“ پیش کیاگیا جس میں Hannah DiBella, Sarah Dillamore, Alex Liu, Kyle Scudder, Erica Lauren Wise نے بہترین اداکاری کے جوہر دکھائے۔ لبنان کی جانب سے تھیٹریکل پرفارمنس پر مبنی تھیٹر پلے ”Stories from the Room“ پیش کیا گیا جس میں Sahar Assaf سلیمان رومی، شہریار، علیزے، فیصل، ایم علی دانیہ اور ماتی مختلف نے حقیقی کہانیوں، انٹرویوز اور دستاویزات کو تھیٹر پرفارمنس میں بدل دیا۔ آڈیٹوریم I میں اردو تھیٹر پلے ”خود کشی سے پہلے“ پیش کیاگیا تھیٹر کی مصنفہ بی گل اور ڈائریکٹر خالد احمد تھے جبکہ فنکاروں میں نذرالحسن ، طارق راجا ، حنیف خان اور سمیرا علی نے بہترین اداکاری کی۔ ”خودکشی سے پہلے“ ایک کثیر جہتی تھیٹر تھا جس میں مکالمے، رقص، موسیقی اور شاعری کو شامل گیا۔ ورلڈ کلچر فیسٹیول کے 22ویں روز کا اختتام بلوچی لوک فنکار استاد نور بخش کی میوزیکل پرفارمنس پر ہوا، جہاں استاد نور بخش نے بینجو کی دلکش دھنوں پر شائقین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔ جون ایلیا لان میں بلوچی ثقافت سے محبت رکھنے والے شائقین کا جمع غفیر موجود تھا جنہوں نے جوش و خروش کے ساتھ بلوچی ثقافت کا معروف رقص ”دوچاپی“ پیش کیا۔