
ٹھٹھہ(رپورٹ: علی گوہر قمبرانی) صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی نے کہا ہے کہ 21 نومبر کو ماہی گیروں کا عالمی دن ہر سال پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن ماہی گیری سے وابستہ افراد اور اُن لوگوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے جو مچھلی کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد ماہی گیر برادری کی اہمیت، اُن کی محنت اور معیشت میں ان کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کینجھر جھیل میں ماہی گیروں کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ آج ہم کینجھر جھیل میں مچھلی کا بیج بھی چھوڑ رہے ہیں تاکہ یہاں مچھلی کی افزائش ہو اور ساتھ ہی مقامی ماہی گیروں کے لیے آمدنی کا بہتر ذریعہ بھی پیدا ہو سکے۔ مچھلی ایک ایسی غذائیت رکھتی ہے جو انسان کے لیے نہایت فائدہ مند ہے اور غریب افراد کو بھی آسانی سے دستیاب ہو سکتی ہے- انہوں نے کہا کہ مناسب پالیسیوں، جدید تربیت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ساحلی آبادی کو سہولیات کی فراہمی کے ذریعے نہ صرف ماہی گیروں کی معاشی حالت بہتر ہوگی بلکہ صوبہ غذائی تحفظ (فوڈ سیکیورٹی) کے حوالے سے بھی زیادہ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کے وسائل کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے لیے ہم سب کو مل کر قدم اٹھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو پانی کی فراہمی کے سبب کینجھر سے مچھلی ختم ہونے کے مسئلے پر آبپاشی وزیر کے ساتھ اجلاس کر کے اس مسئلے کو حل کیا جائے گا تاکہ جھیل میں مچھلی کی بہتر نشوونما ممکن ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے ایک منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت چھوٹے چھوٹے
کوآپریٹو گروپس بنائے جا رہے ہیں۔ اگر ان میں خواتین کی شمولیت ہوگی تو مردوں کو جہاں 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے، وہاں خواتین کو 10 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل اے پروجیکٹ کے تحت بھی ایک یا دو ایکڑ کے تالاب تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ مقامی کمیونٹی وہاں مچھلی پال کر استعمال کرسکے، جس سے غذائیت کی کمی پوری ہو سکے گی اور بچوں میں غذائی قلت کے مسائل کم ہوں گے۔ مزید کہا کہ خواتین اگر فشریز سے متعلق کوئی کام اجتماعی طور پر کریں گی تو ان کی بھی ہر ممکن معاونت کی جائے گی تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت نے ماہی گیروں کے لیے سب سے بڑا قدم یہ اٹھایا کہ پہلے جھیلوں اور تالابوں کے ٹھیکے ہوا کرتے تھے، جنہیں ختم کر کے ہر ماہی گیر کو کم رقم میں لائسنس حاصل کر کے آزادانہ ماہی گیری کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سندھ حکومت ماہی گیروں کے تمام مسائل کے حل کے لیے پیش پیش ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہیچریز بنا رہے ہیں اور اس سال ماہی گیروں کو جال، آئس کریٹ، کشتیاں، انجن اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27 یا 28ویں ترمیم سے سندھ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، سندھ کے لوگ باشعور ہیں اور پیپلز پارٹی کسی بھی سندھ دشمن منصوبے کو قبول نہیں کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں قید سندھ کے ماہی گیروں کی رہائی کے لیے وفاقی حکومت کو مسلسل لکھ رہے ہیں، اور پالیسی کے تحت بھارت ہمارے ماہی گیروں کو جبکہ پاکستان بھارتی قیدیوں کو آزاد کرتا ہے – تقریب سے پی پی ضلع ٹھٹھہ کے صدر اور ایم این اے صادق علی میمن، سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری، عرفانہ ملاح اور دیگر معزز شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں ڈبل اے پروجیکٹ، ڈائریکٹر فشریز ڈاکٹر غلام قادر جمالي، مصباح بی بی، احمد علی بروہی کے علاوہ ماہی گیروں، سندھ یونیورسٹی کے پروفیسرز، فیکلٹی ممبران، طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔























