
کراچی ( ) چیئرمین واٹر کارپوریشن و میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ موجودہ شہری انتظامیہ پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کے تحت شہر کی بہتری کے لیے تین بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے لیے واضح وژن دیا ہے کہ یکسوئی کے ساتھ ترقیاتی اقدامات کئے جائیں، شہریوں کو ساتھ لے کر چلا جائے اور نفرت کے بجائے محبتوں کو پروان چڑھایا جائے،اسی تسلسل میں سیوریج نظام کی بہتری کے لیے 630 ملین روپے کی لاگت سے KWSSIP کے تحت اہم پیشرفت ہوئی ہے، پی ڈی عثمان معظم نے کارپوریشن کو 20 مزید سکشن اور جیٹنگ گاڑیاں فراہم کردی ہیں، جو عام زبان میں نیلی گاڑیوں کے نام سے جانی جاتی ہیں اور بارش کے دنوں میں لائنز کی صفائی میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہیں،پہلے 122 ایسی گاڑیاں کام کر رہی تھیں اور مزید 20 شامل ہونے سے یہ تعداد 142 ہوجائے گی جس سے سیوریج لائنوں کی مکینیکل صفائی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا،گاڑیوں کے فلیٹ میں اضافے سے کارکردگی میں بہتری آئے گی اور شہریوں کو فوری سروس مہیا کی جاسکے گی، KWSSIP کی معاونت سے تین مقامات پر جدید سروس سینٹرز قائم کیے جارہے ہیں جن میں کارساز، سخی حسن اور سائٹ انڈسٹریل ایریا/ہارون آباد شامل ہیں، ہارون آباد کسٹمر سینٹر کا تعمیراتی کام مکمل ہوچکا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے صدر دفتر میں کراچی واٹر کارپوریشن کے پہلے تھانے، سکشن مشینوں کی فراہمی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لئے چارجنگ اسٹیشن کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، چیف ایگزیکٹو آفیسر واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی اور دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کے سیوریج اور واٹر سسٹم کو بہتر بنانا اولین ترجیح ہے، جدید مشینری کی فراہمی کے بعد سسٹم کی بہتری کے ثمرات جلد شہریوں تک پہنچیں گے،انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں سیوریج نظام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں اور اس سلسلے میں سکشن اور جیٹنگ گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے نئے مقامات قائم کیے جارہے ہیں تاکہ عوام کو بروقت اور مؤثر خدمات فراہم کی جاسکیں،اس وقت تمام گاڑیاں کارساز ورکشاپ سے روانہ ہوتی ہیں اور شام میں واپس آتی ہیں جس سے فیول پر اضافی اخراجات اور سروس ٹائم میں تاخیر ہوتی ہے،
مقصد یہ ہے کہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر سہولیات مہیا کی جائیں اور گاڑیوں کو دور دراز سفر نہ کرنا پڑے، اسی تناظر میں شہر کے مختلف مقامات پر نئے یارڈز یا پارکنگ زون بنائے جارہے ہیں تاکہ گاڑیاں قریب ترین مقام سے فوراً روانہ ہوسکیں اور سیوریج لائنوں کی صفائی میں تاخیر نہ ہو،انہوں نے کہا کہ ضلع غربی اور کیماڑی کے درمیان ہارون آباد میں 25 سکشن مشینوں کے لیے بڑا پارکنگ زون قائم کیا جارہا ہے، جہاں سے منگھوپیر یا کیماڑی میں مسئلہ درپیش ہو تو گاڑیاں فوری حرکت میں آسکیں، اسی طرح ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے ملیر کے علاقے میں بھی سیوریج نظام کی بہتری کے لیے پارکنگ زون کی جگہ منتخب کی ہے تاکہ مقامی مسائل وہیں سے حل کیے جاسکیں،انہوں نے کہا کہ واٹر کارپوریشن لیاری اور ماڑی پوڑ کے قریب بھی ایک پارکنگ زون قائم کررہی ہے جس کا مقصد اولڈ سٹی ایریا، کلفٹن اور اطراف کے علاقوں تک بروقت رسائی ممکن بنانا ہے،ان تمام انتظامات کے بعد واٹر کارپوریشن کے سیوریج سسٹم میں نمایاں بہتری آئے گی ،میئر کراچی نے کہا کہ پانی کی چوری کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا اپنا ٹریبونل اور پولیس اسٹیشن موجود نہیں تھا، جس کے باعث ہر کارروائی کے لیے متعلقہ تھانوں اور پولیس افسران سے رجوع کرنا پڑتا تھا، اس عمل سے نہ صرف تاخیر ہوتی تھی بلکہ کارروائی میں مشکلات بھی پیش آتی تھیں،آج واٹر کارپوریشن اپنے پولیس اسٹیشن کا سنگ بنیاد رکھ رہی ہے


جو ادارے کی تاریخ میں اہم سنگِ میل ہے،انہوں نے کہا کہ نئے پولیس اسٹیشن میں کارپوریشن کی اپنی نفری تعینات ہوگی اور اینٹی تھیفٹ سیل جب پانی کی چوری کے خلاف کارروائی کرے گا تو اسے کسی دوسرے تھانے سے مدد لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی، پانی کی چوری کے خلاف بلا خوف و تاخیر کارروائی یقینی بنائی جائے گی اور لوگوں کو واضح پیغام دیا جائے گا کہ اس جرم پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی،انہوں نے کہا کہ ایف آئی آرز کے اندراج اور قانونی کارروائی کے لیے واٹر کارپوریشن کے اپنے کورٹس بھی فعال کیے جارہے ہیں، نئے قانون کے تحت ایک مخصوص ٹریبونل تشکیل دیا گیا ہے جس کے جج صاحب اور اراکین حکومت نے چیف جسٹس صاحب کی مشاورت سے تعینات کر دیے ہیں، اس ٹریبونل میں پانی چوری سے متعلق تمام مقدمات نمٹائے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ اگلے چند ہفتوں میں یہ خصوصی کورٹ بھی مکمل طور پر فعال ہوجائے گا جس کے بعد کارپوریشن کے معاملات مزید منظم، شفاف اور یکسوئی کے ساتھ چلائے جا سکیں گے، انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی بہتری اور کاربن اخراج میں کمی کے لیے شہر بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ضروری ہے، اسی مقصد کے تحت سب سے پہلے کے ایم سی میں رائیڈرز کو مرحلہ وار الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کیا گیا اور اب یہی ماڈل کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں بھی نافذ کیا جارہا ہے، واٹر کارپوریشن میں الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کے لیے باقاعدہ چارجنگ اسٹیشن قائم کردیا گیا ہے، جہاں ملازمین اپنی گاڑیاں ادارے میں ہی چارج کر سکیں گے، کے ایم سی میں شروع کی گئی اس پالیسی نے
کامیابی ثابت کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب واٹر کارپوریشن سمیت دیگر اداروں میں بھی اسے وسعت دی جارہی ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت شہر بھر میں سرکاری سطح پر چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے،میئر کراچی نے کہا کہ کے فور منصوبہ شہر کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے پہلے فیز پر تیزی سے کام جاری ہے،سرسید یونیورسٹی سے حسن اسکوائر تک 2.7 کلومیٹر طویل لائن بچھانے کا کام فیز ون میں مکمل کیا جائے گا، 96 انچ قطر کے نئے پائپ ڈالنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، ہماری بھرپور کوشش ہے کہ 31 دسمبر سے پہلے یہ کام مکمل ہو جائے جس سے یونیورسٹی روڈ پر لیکیج کے باعث ہونے والے نقصانات کا خاتمہ ہوگا،انہوں نے کہا کہ ایل ایس آر کے پرانے پمپ بدلنے کا کام بھی جاری ہے، جو پانی کی فراہمی کے نظام کو متاثر کر رہے تھے،
جس سے شہر میں چالیس سے پچاس لاکھ گیلن اضافی پانی کی سپلائی ممکن ہو سکے گی۔ اس اضافی پانی کا براہ راست فائدہ لیاری، جمشید روڈ، اولڈ سٹی ایریا، دھوراجی اور گلشن اقبال کے رہائشیوں کو پہنچے گا،انہوں نے کہا کہ یہ تمام ترقیاتی اقدامات پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں کیے جا رہے ہیں اور حکومت سندھ اس سلسلے میں بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہے، پائپ لائنوں کی تنصیب اور دیگر تکنیکی سرگرمیوں کے باعث بعض مقامات پر کھدائی سے شہریوں کو تکالیف کا سامنا ہے، تاہم یہ کام شہریوں کی طویل المیعاد بہتری کے لیے ناگزیر تھے،انہوں نے کہا کہ مکمل ہونے کے بعد یہ منصوبہ شہر کے واٹر نیٹ ورک میں انقلابی بہتری لائے گا اور کراچی کے لاکھوں شہریوں کو مستحکم اور بہتر پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، میئر کراچی و چیئرمین واٹر کارپوریشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حالیہ پانی کی قلت دراصل دھابیجی میں بجلی کے بریک ڈاؤن اور تکنیکی مسائل کے باعث پیدا ہوئی، جسے دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور ہمیں پوری امید ہے کہ جلد اس چیلنج پر قابو پا لیا جائے گا اور پانی کی فراہمی معمول پر آ جائے گی،انہوں نے کہاکہ شہری مسائل کے حل کے لیے صرف پانی کا نظام بہتر بنانا ہی کافی نہیں بلکہ تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائی بھی ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ اینٹی انکروچمنٹ کارروائیوں کو شفاف، منظم اور تیز رفتار بنانے کے لیے ایک خصوصی میکنزم تیار کیا جا رہا ہے تاکہ کیسز جلد نمٹ سکیں اور فیصلے بلا تاخیر سامنے آئیں،انہوں نے واضح کیا کہ اگر اینٹی انکروچمنٹ عملہ کسی غلط اقدام کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی اگر کوئی شہری سڑک، فٹ پاتھ، سرکاری زمین یا کسی بھی عوامی جگہ پر قبضہ کرتا ہے تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی،انہوں نے کہا کہ شہر میں قانون کی بالادستی اور شفافیت کے بغیر ترقی ممکن نہیں، تجاوزات کے خاتمے اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے سخت لیکن منصفانہ کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ کراچی کو بہتر اور منظم شہر بنایا جا سکے،انہوں نے واضح کیا کہ کے ایم سی کسی بھی کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے سے ٹیکس وصول نہیں کرتی، نہ ہی اس حوالے سے کے الیکٹرک کو کوئی ہدایت جاری کی گئی تھی، انہوں نے کہا کہ ٹیکس اکٹھا کرنے میں ایک تکنیکی غلطی ہوئی تھی جس کی مکمل اصلاح کردی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کا ایک روپیہ بھی کے ایم سی کے پاس نہیں آرہا اور نہ ہی کے ایم سی ایسا چاہتی ہے، کے ایم سی کی حدود میں کے الیکٹرک جو ٹیکس اکٹھا کر رہی ہے، اکتوبر کے مہینے میں اس مد میں ساڑھے 37 کروڑ روپے کے ایم سی کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو چکے ہیں، ان میں سے 9 کروڑ روپے بجلی کے بل کی ادائیگی پر خرچ کیے گئے ہیں جس سے ادارے کی مالی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے،کراچی کے عوام کا ہر پیسہ امانت ہے اور اس امانت میں خیانت نہیں ہوگی، انہوں نے یقین دلایا کہ یہ رقوم مکمل دیانت اور شفافیت کے ساتھ شہر کی گلیوں اور محلوں کی بہتری پر خرچ کی جائیں گی۔























