
پاکستان کے صحرائی دیہاتوں میں زندگی کیسی ہے؟ | پانی کے لیے روزانہ کی جنگ | تھر کی صحرائی زندگی
What’s Life Like in Pakistan’s THAR Desert Villages? | Daily Battle for Water | Thar Desert Life
پاکستان کے صحرائی دیہاتوں میں زندگی کیسی ہے؟ | پانی کے لیے روزانہ کی جنگ | تھر کی صحرائی زندگی
=========================
ٹی ٹونٹی ٹرائی نیشن سیریز میں پاکستان نے زمباوے کو 5 وکٹوں سے ہرا دیا ہے۔ میڈیا کے مطابق پاکستان نے 148 رنز کا ہدف آخری اوور میں 4گیند پہلے حاصل کیا۔فخر زمان نے 45 رنز کی اننگز کھیلی ،عثمان خان نے ناقابل شکست 37رنز بنائے۔ صائم ایوب نے 22 رنز بنائے، محمد نواز نے 20 رنز، اور فرحان نے 16رنز بنائے۔
سلمان علی آغا ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے اور بابر اعظم کھاتہ نہ کھول سکے۔ پاکستان کی دعوت پر زمباوین نے پہلے بیٹنگ میں 8وکٹوں پر 147رنز اسکور کئے تھے۔
یاد رہے اس سے قبل سہ ملکی ٹی ٹونٹی سیریز کے پہلے مقابلے میں پاکستان نے زمبابوے کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے باولنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سہ ملکی سیریز کا پہلا میچ آج شام پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلا جائے گا۔
سیریز کے تمام میچز راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ موجودہ سیزن میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی تین ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز اور جنوبی افریقا کے خلاف دو طرفہ ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتی ہے جبکہ ایشیا کپ کا فائنل کھیلا ہے۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان21 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے جاچکے ہیں جن میں پاکستان نے 18 جیتے ہیں جبکہ تین میں زمبابوے نے کامیابی حاصل کی ہے۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ابتک 24 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے جا چکے ہیں جن میں پاکستان نے 14 جیتے ہیں اور 10 میں سری لنکا نے کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستانی سکواڈ سلمان علی آغا (کپتان)، فخرزمان، صائم ایوب، بابراعظم، صاحبزادہ فرحان، عثمان خان، عبدالصمد، فہیم اشرف، محمد نواز، ابراراحمد، وسیم جونیئر، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، سلمان مرزا اور عثمان طارق پر مشتمل ہے۔
سیریز کا پہلا میچ آج 18 نومبر پاکستان بمقابلہ زمبابوے، دوسرا میچ 20 نومبر سری لنکا بمقابلہ زمبابوے، تیسرا میچ 22 نومبر پاکستان بمقابلہ سری لنکا، چوتھا میچ 23نومبر پاکستان بمقابلہ زمبابوے، پانچواں میچ 25 نومبر زمبابوے بمقابلہ سری لنکا، چھٹا میچ 27 نومبر پاکستان بمقابلہ سری لنکا جبکہ فائنل 29 نومبر کو کھیلا جائے گا۔
======================
بنگلادیش: شیخ حسینہ کے حامی اساتذہ کو فوری ہٹانے کا مطالبہ
بنگلادیش کی 4 بڑی یونیورسٹیز کی طلبہ یونینز نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے حامی اساتذہ کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔
شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) نے گزشتہ روز سزائے موت سنائی ہے۔ ان کے حق میں بیان دینے والے اساتذہ کو فوری طور پر ہٹانے کا طلبہ نے مطالبہ کردیا ہے۔
اسٹوڈنٹ یونینز نے شیخ حسینہ کے حامی اساتذہ کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کیلئے یونیورسٹی انتظامیہ کو 10 دن کی ڈیڈلائن دی ہے۔
حسینہ واجد کی سزائے موت کے فیصلے پر ڈھاکا یونیورسٹی میں مٹھائیاں تقسیم، جشن منایا گیا
یہ مطالبہ ڈھاکا یونیورسٹی، جہانگیر نگر، راج شاہی اور چٹاگانگ یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ یونینز کے عہدیداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا ہے۔
طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ’پروگریسیو ٹیچرز آف بنگلادیش پبلک یونیورسٹیز‘ کے نام سے اکٹھے ہونے والے اساتذہ کا ایک مجرم کے حق میں بیان دینا عدالت کے فیصلے کی ’’براہِ راست توہین‘‘ اور جولائی کی بغاوت میں جان دینے والوں کی ’’سنگین توہین‘‘ ہے۔
اسٹوڈنٹ یونینز نے یونیورسٹی انتظامیہ سے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اُن اساتذہ سے کلاسز اور امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
شیخ حسینہ کی سزائے موت کا فیصلہ، آج کے دن خاص بات کیا؟
خیال رہے کہ گزشتہ روز جسٹس غلام مرتضیٰ موجمدار کی سربراہی میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم کی سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا۔ ٹریبونل کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس شفیع العالم محمود اور جج محیط الحق انعام چوہدری شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش کی مقامی جنگی جرائم کی عدالت انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمات کا 453 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔
عدالت نے بنگلادیش کے سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال کو بھی سزائے موت کا حکم دیا جبکہ سابق انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری عبداللّٰہ المامون کو 5 سال قید کی سزا کا حکم دیا۔
بنگلادیشی عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ لیک فون کال کے مطابق حسینہ واجد نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے قتل کے احکامات دیے، ملزمہ شیخ حسینہ واجد نے طلبہ کے مطالبات سننے کے بجائے فسادات کو ہوا دی، انہوں نے طلبہ کی تحریک کو طاقت سے دبانے کیلیے توہین آمیز اقدامات کیے























