
خیبر یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر ضیا الحق ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر
سید محمد عسکری
ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ایڈہاک انتظامیہ نے مستقل چیئرمین کی عدم موجودگی میں نئے مستقل ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ای ڈی) کے تقرر کی منظوری دے دی۔
خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا الحق کو چار برس کے لے نیا ای ڈی مقرر کیا گیا ہے، اس تقرری کی منظوری ایچ ای سی کے اجلاس میں دی گئی۔
اجلاس میں چار امیدواروں سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر عباس، خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا الحق، اروڑ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر زاہد کھنڈ اور سائنس فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر شاہد بیگ شامل تھے۔
قائم چیئرمین/ وفاقی سیکریٹری تعلیم نے اجلاس میں بتایا کہ ڈاکٹر زاہد کھنڈ اور شاہد بیگ کے کلیئرنس مسائل تھے جس پر سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر عباس اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا الحق کے ناموں پر غور کیا گیا اور بطور ای ڈی ڈاکٹر ضیا الحق کے نام پر اتفاق کیا گیا۔
====================================
بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا اڈیالہ روڈ پر دھرنا، متعدد افراد زیر حراست
بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا اڈیالہ روڈ پر دھرنا، متعدد افراد زیر حراست
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے آج بھی کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں ملی، جس کے بعد بانی کی بہنوں نے اڈیالہ روڈ پر دھرنا دے دیا۔
راولپنڈی پولیس نے کریک ڈاؤن کرکے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
==================
لاہور، ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کا ملزم گرفتار
لاہور، ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کا ملزم گرفتار
لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کا ملزم گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نواز نے ذہنی معذور لڑکی کو نولکھا کے ایک ہوٹل میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
لڑکی کی حالت غیر ہوئی تو وہ اسے اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہو گیا، ملزم کو سی سی ٹی وی ویڈیو کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔
ملزم نے کوٹ لکھپت کے علاقے میں قریبی عزیز کے گھرمیں پناہ لے رکھی تھی، ملزم سے تفتیش شروع کر دی گئی۔
پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ لڑکی کے بھائی کے بیان پر درج کیا گیا تھا۔
=======================

لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کو خاتون نور بی بی کو ہراساں نہ کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کو خاتون نور بی بی کو ہراساں نہ کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ نے اسلام قبول کرنے کے بعد شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے نکاح کرنے والی بھارتی سکھ یاتری سربجیت کور (نور بی بی) کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے نور بی بی (سربجیت کور) اور اس کے شوہر کو ہراسانی سے روکنے کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار نے عدالت میں موقف اپنایا کہ مذہبی رسومات کےلیے آئی بھارتی سکھ خاتون نے قبول اسلام کے بعد ناصر سے نکاح کیا ہے۔
بھارت سے آئی خاتون کا واپسی سے انکار، اسلام قبول کرکے پاکستانی شخص سے شادی کرلی
درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ 8 نومبر کو پولیس نے درخواست گزار کے گھر پر غیرقانونی چھاپہ مارا اور خاتون پر شادی ختم کرنے کےلیے دباؤ ڈالا۔
درخواست کے مطابق خاتون نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور نکاح کیا ہے، پولیس حکام کے پاس درخواست گزار کے گھر چھاپہ مارنے کا اختیار نہیں۔
سماعت کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کو نور بی بی کو ہراساں کرنے سے روک دیا























