چین میں ایک حیران کن مقابلے میں ایک 25 سالہ خاتون نے اپنی ہمت، برداشت اور غیر معمولی طرزِ زندگی سے نئی مثال قائم کر دی۔
آن لائن ’’ژاؤ تیے ژو‘‘ کے نام سے مشہور اس لڑکی نے 35 دن صحرا جیسے ماحول میں گزار کر نہ صرف کانسی کا تمغہ جیتا بلکہ 14 کلو وزن بھی کم کیا۔
یہ مقابلہ یکم اکتوبر کو مشرقی چین کے صوبے جیجیانگ کے ایک دور دراز جزیرے پر شروع ہوا، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری تک پہنچ جاتا تھا۔ ژاؤ کو سخت دھوپ، کیڑوں کے حملوں، ہاتھوں پر سخت جلن اور ٹانگوں پر شدید سوجن جیسے مسائل کا سامنا رہا، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔
5 نومبر تک مقابلے میں رہنے پر اسے 7500 یوان (تقریباً 88 ہزار روپے) انعام دیا گیا۔ اس میں 6000 یوان 30 دن مکمل کرنے پر، جبکہ ہر اضافی دن پر 300 یوان شامل تھے۔
ژاؤ کی جنگل میں خوراک کا سب سے بڑا ذریعہ وہ جاندار تھے جو اسے آسانی سے مل جاتے۔ ژاؤ نے بتایا کہ اس کی خوراک میں سمندری کیکڑے، سی ارچن، ابیلون اور سب سے حیران کن طور پر چوہے شامل تھے۔
پورے مقابلے کے دوران اس نے خود شکار کیے گئے تقریباً 50 چوہے کھائے۔ وہ انہیں صاف کرتی، بھونتی اور پروٹین کے حصول کے لیے استعمال کرتی۔ یہاں تک کہ اس نے کچھ چوہوں کا ’’جرکی‘‘ بھی تیار کیا، جو وہ مقابلہ چھوڑنے کے بعد کھانے کا ارادہ رکھتی تھی۔
اس کا کہنا تھا کہ ”چوہے حیرت انگیز طور پر مزیدار ہوتے ہیں“۔
4 نومبر کو جزیرے پر طوفان آیا جس کے بعد ژاؤ نے مقابلہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ اپنا ہدف حاصل کرچکی تھی اور اب صرف بستر میں آرام چاہتی تھی۔
مقابلے کے منتظم نے بتایا کہ اب بھی دو مرد شرکا جزیرے میں موجود ہیں جو 50 ہزار یوان کی پہلی پوزیشن کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ چین میں ایسے سروائیول مقابلے تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور لاکھوں ناظرین انہیں لائیو دیکھتے ہیں۔
ہنان صوبے کے مشہور سیون اسٹار ماؤنٹین پر بھی ایک بڑا سروائیول مقابلہ جاری ہے، جہاں سب سے زیادہ دن زندہ رہنے والا شخص 2 لاکھ یوان (تقریباً 28 ہزار ڈالر) جیت سکتا ہے۔ منتظمین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ تربیت، حفاظتی انتظامات اور میڈیکل سپورٹ کے بغیر ایسے تجربے نہ کریں۔
ژاؤ تیے ژو کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ اس کی توقعات سے بہت بہتر ثابت ہوا۔ وہ آئندہ مزید ایسے سروائیول گیمز میں حصہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔























