
سید سردار شاہ — سندھ کے تعلیمی نظام کی اصلاح کا اصل چہرہ
تعلیم کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، اور سندھ کے تعلیمی نظام کو برسوں سے سنگین مسائل، کرپشن، غیرحاضری، تباہ حال انفراسٹرکچر اور نااہلی کا سامنا رہا۔
مگر گزشتہ روز سید سردار شاہ سے ہونے والی تفصیلی ملاقات نے مجھے یہ احساس دلایا کہ یہ وہ وزیر ہیں جنہوں نے “تعلیم” کو سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھ کر اپنایا ہے۔
انہوں نے نہ صرف مشکلات کی نشاندہی کی بلکہ حل پیش کرکے انہیں عملی جامہ پہنایا ہے۔
اہم نکات اور سردار شاہ کے عملی اقدامات
بند اسکولوں کو دوبارہ فعال کرنا (2889 اسکول)
کئی دہائیوں سے بند اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کا اعلان سب کرتے رہے۔
مگر سردار شاہ نے حقیقی ایکشن لے کر تقریباً 2889 اسکول دوبارہ فعال کیے۔
اسٹاف کی تعیناتی، فرنیچر، کلاس رومز کی بحالی — سب کچھ عملی بنیادوں پر کیا گیا۔
300 ماڈل اسکول—سندھ میں تعلیم کا نیا معیار
سندھ حکومت کی منظوری سے 300 جدید ماڈل اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔
جدید لیبز، اسمارٹ کلاس رومز، لائبریریز اور تربیت یافتہ اساتذہ اس منصوبے کا حصہ۔
یہ اسکول ہر ضلع کے لیے “ریفرنس پوائنٹ” بنیں گے۔
SSEIP — صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا سیکنڈری ایجوکیشن پراجیکٹ
اس میں شامل ہیں:
اساتذہ کی جدید تربیت
سائنسی و ٹیکنیکل ایجوکیشن کی بہتری
امتحانی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن
روڈ میپ 2030 کے مطابق ریفارمز
پہلی بار تعلیم کو پالیسی بیسڈ ڈائریکشن ملی ہے۔
تعلیم کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن
سندھ پہلا صوبہ بننے جا رہا ہے جہاں:
حاضری فیس ریگنیشن ایپ سے ہوگی
ٹیچر پوسٹنگ آن لائن
اسٹوڈنٹس کا ڈیجیٹل ریکارڈ
اسکولز مانیٹرنگ سسٹم موبائل پر
کرپشن، جعلی حاضری اور “گوٹھ اسکول” کلچر کے خاتمے کی طرف بڑا قدم۔
سیلاب کے بعد تباہ شدہ اسکولوں کی ریکارڈ رفتار بحالی
2022 کے سیلاب میں ہزاروں اسکول متاثر ہوئے۔
سردار شاہ نے ان کی مرمت، ری کنسٹرکشن اور ریفربشمنٹ کو ٹاپ پرائرٹی بنایا۔
کئی اضلاع میں اسکول پہلے سے بہتر حالت میں فعال ہوچکے ہیں۔
شفافیت پر زیرو ٹالرنس — کوئی سفارش نہیں، کوئی کرپشن نہی
ملاقات کے دوران واضح ہوا کہ سردار شاہ کے لیے سفارش، ناجائز بھرتی، یا کرپشن ناقابل برداشت ہے۔
میں نے خود مشاہدہ کیا کہ:
ایک کیس جس میں “جوائننگ” کے نام پر پیسے مانگے گئے تھے—
انہوں نے فوراً انکوائری اور معطلی کا حکم دیا۔
خواتین اساتذہ کی شکایات کو سنجیدگی سے سنا۔
عام شہریوں کو وہ سلام کے ساتھ رسپیکٹ دیتے ہیں — جو آج کم ہی نظر آتا ہے۔
اساتذہ اور خواتین اسٹاف کے لیے خصوصی ریفارمز
خواتین ٹیچرز کے لیے علیحدہ ہیلپ ڈیسک
پوسٹنگ میں آسانیاں
ورکنگ ماحول بہتر بنانا
سیفٹی میکانزم
ٹرانسپورٹ سہولت کی پالیسی پر کام جاری
ایگزامینیشن سسٹم کی تاریخی اصلاح
کاپی چیکنگ، فزیکل اسکروٹنی، اور بورڈز میں کرپشن کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات
ڈیجیٹل مارکنگ سسٹم کی طرف منتقلی
امتحانات کے دوران “سیل فون دروباز” اور لیکیج کے خلاف سخت ایکشن
نوجوانوں کے لیے مواقع — سردار شاہ کا بڑا وژن
مم
ٹیکنیکل ایجوکیشن بڑھانے کی پالیسیاں
اسکولوں میں اسپورٹس، آرٹس اور کلچر کی واپسی
نوجوانوں کے لیے 2030 روڈ میپ
بیکورڈ علاقوں میں تعلیم کو “ایمرجنسی بنیادوں” پر لانا
شخصیت—سید سردار شاہ کا انسان دوست پہلو
میرا ذاتی مشاہدہ:
انہوں نے اپنے دفتر میں ہر آنے والے فرد کو عزت دی۔
بات کو توجہ سے سنا، حل نکالا۔
“ٹیبل ٹاک” میں صاف گوئی، سچائی، اور عاجزی نمایاں تھی۔
یہ وہ مینجریئل اٹیچیوٹ ہے جو کم وزیروں میں ہوتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ اگر سندھ کے دوسرے وزراء ان جیسا کام کرنا شروع کر دیں،
تو پورے صوبے میں تعلیم حقیقی معنوں میں نئی زندگی پا سکتی ہے۔
سردار شاہ — ایک بصیرت مند، ریفارمر اور حقیقی لیڈر
ان کے اقدامات یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ تعلیم کو سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قومی خدمت سمجھتے ہیں۔
میری دعا ہے کہ ان کا یہ مشن پورے سندھ کے بچوں کے مستقبل کو روشن کرے۔
حمید بھٹو























