کیا چُڑیل واقعی دنیا میں موجود ہے؟

چُڑیل ایک مشہور دیومالائی مخلوق ہے جو عورت کی شکل رکھتی ہے اور بھارت، پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش، اور جنوب مشرقی ایشیا کی روایات میں برسوں سے بیان کی جاتی ہے۔ روایات کے مطابق چُڑیل وہ عورت بنتی ہے جو ظلم، تکلیف یا غیر فطری موت کا شکار ہو، خاص طور پر زچگی یا حمل کے دوران۔ اسے اکثر بدصورت، الٹے پاؤں والی اور شکل بدلنے کی صلاحیت رکھنے والی مخلوق کے طور پر دکھایا جاتا ہے جو خوبصورت عورت بن کر مردوں کو لالچ میں پھنسا لیتی ہے۔

دیومالائی پسِ منظر:
کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی عورت تکلیف دہ یا غیر فطری موت مرے تو وہ انتقام کی نیت سے چُڑیل بن کر لوٹ آتی ہے۔ بعض روایات میں اسے درختوں اور قبرستانوں سے جڑا ’’درخت کی روح‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ مختلف علاقوں میں یہ مختلف ناموں سے مشہور ہے، جیسے پنجاب میں پچھل پیری، بنگال میں پیٹنی و شَکشنی، اور ملائشیا میں پونتیانک۔

ظاہری خصوصیات:
چُڑیل کی اصل شکل نہایت خوفناک بتائی جاتی ہے—الٹے پیر، بگڑی ہوئی صورت، نوکیلے دانت، لمبے بکھرے بال اور بدبودار جسم۔ مگر وہ شکل تبدیل کرکے ایک خوبصورت عورت بن سکتی ہے جو مردوں کو تنہائی میں بہکا کر ان کی طاقت یا جان چوس لیتی ہے، یہاں تک کہ وہ بڑھاپے کی حالت تک پہنچ جاتے ہیں۔

حرکات اور حملے:
چُڑیل اکثر قبرستانوں، سنسان مقامات، درختوں، اور گھنے جنگلات کے پاس دیکھی جاتی ہے۔ اگر اس پر ظلم ہوا ہو تو وہ اپنی ہی خاندان کے مردوں سے انتقام شروع کرتی ہے۔ کئی کہانیوں میں وہ نوجوان لڑکوں یا تنہا مسافروں کو نشانہ بناتی ہے، انہیں راتوں کو بلاتی، بہکاتی اور پھر ختم کر دیتی ہے۔

بچاؤ اور روایتی طریقے:
لوگوں کا ماننا ہے کہ چُڑیل بننے سے روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حاملہ عورتوں اور زچگی کے دوران خواتین کا خاص خیال رکھا جائے۔ جس عورت کے چُڑیل بننے کا خطرہ ہو، اس کی تدفین مخصوص طریقوں سے کی جاتی ہے—قبر میں کانٹے ڈالنا، پتھر رکھنا، یا سرسوں کے بیج بکھیرنا تاکہ وہ باہر نہ نکل سکے۔ بعض علاقوں میں عامل، باگیا یا دیسی حکیم تعویذ اور منتروں سے چُڑیل دور کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

ادب اور کہانیوں میں مقام:
چُڑیل کی کہانیاں صدیوں سے جنوبی ایشیا کے ادب، لوک کہانیوں، فلموں اور ریڈیو پروگراموں کا حصہ رہی ہیں۔ رڈیارڈ کِپلنگ، ٹیگور، اور ستیہ جیت رے جیسے مصنفین نے بھی چُڑیل پر لکھا۔ جدید دور میں فلم بلبل (2020) نے چُڑیل کو نئے زاویے سے پیش کیا۔