پیرس کی روشنیوں کی دنیا کے نیچے ایک ایسی پراسرار سرنگیں چھپی ہوئی ہیں جہاں وقت رک سا گیا ہے، اور لاکھوں ہڈیاں ایک خاموش داستان سناتی ہیں۔ یہ ہیں پیرس کے کیٹاکومبز یعنی ایک زیرِ زمین شہر، جو تاریخی کانوں اور قدیم قبرستانوں کے ملاپ سے وجود میں آیا ہے۔
ان سرنگوں میں، جہاں 60 لاکھ افراد کی ہڈیاں موجود ہیں، ہر موڑ پر تاریخ کی گونج سنائی دیتی ہے، ہر دیوار پر زندگی اور موت کا راز چھپا ہے، اور ہر قدم پر انسانیت کی نازک حقیقت کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر آپ نے کبھی پیرس کے رومانوی راستوں کے نیچے چھپی اس خاموش دنیا کا تصور کیا ہے، تو یہ کیٹاکومبز آپ کو ایک ایسا سفر کرائیں گے جو خوف، حیرت اور تاریخی حقیقت کا عجیب امتزاج ہے۔
دراصل پیرس کے کیٹاکومبز (Catacombs of Paris) ایک زیرِ زمین ہڈیوں اور سرنگوں کا پیچیدہ نیٹ ورک ہے، جو شہر کے نیچے پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک مشہور تاریخی اور سیاحتی مقام ہے اور دنیا کی سب سے بڑی زیر زمین قبرستانوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ کیٹاکومبز پیرس کے 14 ویں اور 5 ویں ضلعوں کے نیچے موجود ہیں۔ زیرِ زمین سرنگوں کا کل نیٹ ورک تقریباً 300 کلومیٹر طویل ہے، لیکن اس کا صرف ایک چھوٹا حصہ عوام کے لیے کھلا ہے۔
اس کی تاریخ یوں ہے کہ 17 ویں صدی کے آخر میں پیرس کے پرانے قبرستان بھرنے لگے تھے، تو شہر کی زمین کی کمی اور صحت کے مسائل کی وجہ سے حکومت نے ہڈیوں کو زیر زمین سرنگوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ منتقلی 1786 میں باقاعدہ شروع ہوئی اور کئی دہائیوں تک جاری رہی۔ اور یوں کیٹاکومبز میں تقریباً 6 ملین سے زائد ہڈیوں کو ترتیب وار رکھا گیا۔
یہ کیٹاکومبز ایک پرانے پتھر کی کان سے تیار کی گئی ہیں، سرنگوں کی بلندی اور چوڑائی عام طور پر 1.8 سے 2 میٹر ہے، ہڈیاں اکثر ڈیزائن کے ساتھ رکھی گئی ہیں، جس سے ایک منفرد فنکارانہ شکل پیدا ہوئی ہے۔ یہاں قدیم نقوش، تحاریر اور پتھروں پر کندہ معلومات بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
کیٹاکومبز کا عوام کے لیے کھلا حصہ صرف 1.5 کلومیٹر کے قریب ہے۔ داخلہ ٹکٹ کے ذریعے ہوتا ہے اور یہاں گائیڈ کے ساتھ یا خود دورہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ پیرس کے قدیم ترین اور سب سے پراسرار مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ اسے فلموں، دستاویزی پروگراموں اور ہارر کہانیوں میں بھی موضوع بنایا گیا ہے۔
سیاحوں کو اکثر مشورہ دیا جاتا ہے کہ یہاں گرمیوں یا چھٹیوں کے دوران رش زیادہ ہوتا ہے، اس لیے پہلے سے ٹکٹ بک کرنا بہتر ہے، زیر زمین سردی اور نمی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے گرم کپڑے پہن کر جانا بہتر ہے۔























