خوشی ہے کہ چھوٹے شہروں جیسے فیصل آباد، گھوٹکی اور لیہ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آیا ہے میرا مقصد پاکستان کے ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر روشناس کرانا ہے۔ بس انہیں اس قابل ہونا ہوگا کہ وہ بڑے اسٹیج کو سنبھالنا سیکھ جائیں

کراچی (محمد ناصر) پاکستان کی شان اور سروں کے بادشاہ راحت فتح علی خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ”پاکستان آئیڈل“ کے ٹاپ 3 فاتح گلوکاروں کو اپنے پلیٹ فارم سے بین الاقوامی سطح پر متعارف کرائیں گے اور انہیں اپنے ساتھ ورلڈ ٹور پر لے جا کر دُنیا بھر میں پرفارم کرائیں گے۔جیو اور جنگ سے خصوصی گفتگو میں راحت فتح علی خان نے کہا کہ“میرا مقصد پاکستان کے ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر روشناس کرانا ہے۔ بس انہیں اس قابل ہونا ہوگا کہ وہ بڑے اسٹیج کو سنبھالنا سیکھ جائیں، بغیر سیکھے پرفارم کرنا خود کو امتحان میں ڈالنے کے مترادف ہے، آرٹ اور کلچر کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔”اپنے بیٹے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ”پوری دنیا اس کے مداح ہیں، میرا بیٹا ہر وقت میرے ساتھ اسٹیج پر رہتا ہے“۔ راحت فتح علی خان نے کہا کہ ٹیلنٹ ہمیشہ پوشیدہ ہوتا ہے، اسے نکھارا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ“پاکستان آئیڈل میں پانچ سے چھ امیدوار بالکل نیچرل ہیں، وہ سیکھے ہوئے نہیں بلکہ فطری گلوکار ہیں،اپنی میوزک اکیڈمی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی پر کام جاری ہے۔انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ“پاکستان کے چھوٹے شہروں جیسے فیصل آباد، گھوٹکی اور لیہ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آیا ہے۔اپنے مستقبل کے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے راحت فتح علی خان نے کہا کہ وہ نئے گلوکاروں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے مشن پر ہیں۔”یاد رہے کہ ”پاکستان آئیڈل“ کے سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلے ”جیو ٹی وی“ پر جاری ہیں، جہاں نئے گلوکار اپنی آواز سے ناظرین کے دل جیتنے میں مصروف ہیں۔میوزک کے سب سے بڑے اس شو کا گالا راؤنڈ ہفتے سے شرو ع ہورہا ہے۔ 13 ویں قسط ہفتے کی شب 8 بجے ”جیو ٹی وی“سے نشر کی جائے گی۔

========================

صدر مملکت نے جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کرلیے,جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہرمن اللہ نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا تھا. جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ 27 ویں ترمیم کی منظوری سے پہلے میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ اس میں تجویز کردہ شقوں کا ہمارے آئینی نظام پر کیا اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرآنے والی نسلیں انہیں کسی مختلف نظر سے دیکھیں گی، تو ہمارا مستقبل ہمارے ماضی کی نقل نہیں ہو سکتا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ ججوں کا لباس آخری بار اتارتے ہوئے سپریم کورٹ جج کے عہدے سے رسمی استعفیٰ پیش کرتا ہوں جو فوری طور پر مؤثر ہوگا۔
===================

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین نے پہلا حکم جاری کردیا۔

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین ٰخان نے سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد حفیظ کو رجسٹرار آئینی عدالت لگا دیا۔

اس کے علاوہ مظہر بھٹی کو سیکرٹری ٹو چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت تعینات کردیا گیا ہے۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی منظوری کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے رجسٹرار کا نوٹیفکیشن جاری بھی کردیا گیا جس کے مطابق محمد حفیظ اللہ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے رجسٹرار ہوں گے۔

جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت مقرر

وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین نے عہدے کا حلف اٹھالیا