چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا کی ریاض میں سعودی ہم منصب سے ملاقات ،باہمی سٹریٹجک امور،دفاعی معاہدے کے تحت تعاون کے فروغ پر گفتگو


راولپنڈی :پاک فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا نے دورہ سعودی عرب میں سعودی ہم منصب جنرل فیاض بن حمید الرویلی سے ریاض میں ملاقات کی ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی سٹریٹجک امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔بات چیت میں دونوں برادر ملکوں کے درمیان دفاعی معاہدے کے تحت تعاون کے فروغ کے حوالے پر بھی غور ہوا۔

ملاقات میں فریقین نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزیدمضبوط کرنے ، خطے میں امن و استحکام اور خودانحصاری کے حصول میں کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔

ریاض ہی میں پاکستان ، سعودی عرب دو طرفہ دفاعی صنعتی فورم کا بھی اجلاس ہواجس میں پاکستانی وفد کی قیادت لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا نے کی جبکہ سعودی عرب کے وفد کی قیادت معاون وزیر دفاع برائے انتظامی امور خالد البیاری نے کی ۔

اجلاس میں فریقین نے دفاعی تعاون کے منصوبوں میں پیشرفت کا جائزہ لیا۔اجلاس میں سعودی عرب کے وژن 2030کے مطابق ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں مشترکہ منصوبوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا نے سعودی شاہی دفاعی افواج کی استعداد کار بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی مسلسل معاونت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔سعودی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کو سراہا۔ سعودی قیادت نے کہا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان ایک اہم شراکت دار ہے ۔

=========================

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عدلیہ کا کردار بڑا تاریک رہا، ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا کل پارلیمنٹ کی ترمیم کے بعد 2 ججز کی غیرت جاگی، لیکن جب کینگرو کورٹس بنے اور نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا، اس وقت کسی جج کی غیرت نہیں جاگی۔ جس دن نواز شریف کیخلاف کیس ہوتا تھا یہ ججز اپنے گھر والوں کو بھی بلالیتے تھے کہ کیسے ہم نواز شریف کیخلاف فیصلہ دیتے ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آج ایوان میں بیٹھے ہوئے لوگ اپنا ماضی بھول گئے اور جمہوریت کے علمبرادار بنے بیٹھے ہیں۔ ماضی میں نواز شریف کو سازش کر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔خواجہ آصف نے اپوزیشن اور عدلیہ کو مخاطب کیا اور کہا کہ اِنہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ آئین کے وفادار ہیں یا ایک شخص کے؟ دہشت گردوں کو تحفظ دینے والے بھی یہی ہیں، اب کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائیگی۔