آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری 39روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول2025“ کے 15ویں روز دو تھیٹر پلے، ڈانس ،میوزک ورکشاپ اور خصوصی نشست “Creative Freedom in Art” شرکاء کی توجہ کا مرکز

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری 39روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول2025“ کے 15ویں روز دو تھیٹر پلے، ڈانس ،میوزک ورکشاپ اور خصوصی نشست “Creative Freedom in Art” شرکاء کی توجہ کا مرکز
فلسطینی ڈانسر Rawan Sameer salamahکا ”فری فلسطین“ کا نعرہ ،کوفیہ پہن کر فلسطین کا روایتی رقص ”دبکہ“ بھی پیش کیا
کراچی;;آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول2025“ کے 15ویں روز کا آغاز بین الاقوامی فنکاروں کے مباحثے “Creative Freedom in Art” کے عنوان رکھے گئے ”اوپن مائیک سیشن“ سے کیاگیاجبکہ ”French Shorts “ پر فلم اسکریننگ، ڈانس میوزک ورکشاپ کا انعقاد جبکہ سندھی تھیٹر پلے”ہوجمالو” اور اردو تھیٹر پلے ”Kuttay“ پیش کیاگیا۔ ”فن میں تخلیقی آزادی “ کے عنوان سے منعقدہ اوپن مائیک مباحثے میں ارجنٹینا،ہانگ کانگ،ایران،کینیا،ملائیشیا،کروشیا،فرانس، تھائی لینڈ سمیت پاکستان کے فنکاروں کی شرکت کی۔ نشست میں نظامت کے فرائض پاکستان کے معروف گلوکار احسن باری انجام دیے۔ مباحثے میں ارجنٹینا کی موسیقار ڈیانانے کہاکہ زمانے کی جدت کے ساتھ سیکھنے کا عمل بھی اب آن لائن ہوگیا ہے، لوگ یوٹیوب سے سیکھ رہے ہیں، انسانوں کا کام بھی مشینوں نے سنبھال لیا ہے، ہم آہستہ آہستہ مرر ہے ہیں ۔ ہم سب کو مل کر اے آئی کو مات دینی ہے، نظم و ضبط قائم کرنے سے ہم اس دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ کینیا کے گٹارسٹ کومورا نے کہاکہ اے آئی انسانی تخلیقات کو ختم کررہا ہے جو چیز ہم آٹھ ماہ میں بناتے ہیں اے آئی وہ آٹھ سیکنڈ میں بنا دیتا ہے، آرٹ کے لیے اے آئی کی ضرورت نہیںاور جو اے آئی کا سہارا لے وہ آرٹسٹ نہیں۔کینیا کی گلوکارہ لیبوئی نے کہاکہ اے آئی عام لوگوں کی طرح ہم آرٹسٹوں کو بھی تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کررہا ہے۔ کروشیا کی کوریوگرافر ڈاکٹر ٹینا نے کہاکہ اے آئی ہماری نوکری اور فن کو ہم سے چھین رہا ہے، میں ایک کوریوگرافر ہوں اور میں اے آئی سے مدد نہیں لیتی کیونکہ اس سے میری اپنی تخلیقی صلاحیت ختم ہوجائے گی۔ ملائیشیا سے آئی تھیٹر کوچ بیلہ رحیم نے کہاکہ اگر اے آئی آپ کو وہ سب بتا رہا ہے جو آپ پہلے سے جانتے ہیں تو اس کا پیچھا چھوڑ دیں اور اپنی محنت اور تخلیق پر ڈٹے رہیں ایک کمیونٹی کے طور پر ہمیں ایک ساتھ ہونا پڑے گا۔کینیا کے مصور اوکامار انیمس نے کہاکہ انسانی زندگی مشینی ہوتی جارہی ہے، ہم کتابوں سے دور ہوتے جارہے ہیں، اے آئی کو بطور معلومات استعمال کرنا چاہیے مگر اس کا موازنہ بھی ضروری ہے ، کویت سے آئے گروپ میں فلسطینی فنکارہ Rawan Sameer salamahنے کہاکہ میں نے بہت سے آرٹ کے فن پارے دیکھے ہیں لیکن ان کے پیچھے کوئی کہانی اور احساس نہیں ہوتا۔معروف پاکستانی گلوکاراحسن باری نے کہاکہ آج دنیا بھر سے آئے فنکار ایک چھت تلے بیٹھے ہیں یہ جان کر خوشی ہورہی ہے کہ انسانیت کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔”French Shorts “ فلم اسکریننگ میں 4 فلمیں دکھائی گئیں جس میں فرانس کی جانب سے ڈائریکٹر Abdul Alim. Musyafa کی لوسی ، Fabien Araکی ” A young Sofiane “جبکہ نبہان شاہ شاہ کریم کی پاکستانی فلم ”فرشتہ“ ، ڈائریکٹر نادر شاہ خان اور ابن آس محمد کی ” کاریگر عورت“ شامل تھیں۔ کویت کی لاپا(Lapa) ڈانس کمپنی نے کی جانب سے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، ڈانس اکیڈمی کے ڈائریکٹر مانی چاﺅ، جہانزیب شاہ اور گلوکار ارمان رحیم سمیت فلسطینی فنکارہ Rawan Sameer salamah، اور کروشیا کی کوریوگرافر ڈاکٹر ٹینا نے بھی شرکت کی۔ تربیتی ورکشاپ میں چیف کوریوگرافر ڈاکٹر ٹینا نے اپنے گروپ کے ہمراہ طلباءکو ڈانس کے پیشہ وارانہ گُر سکھائے، کوریوگرافر ڈاکٹر ٹینا نے بتایا کہ ہمیشہ رقص شروع کرنے سے پہلے اپنی باڈی کو ڈھیلا چھوڑ دینا چاہیے ،رقص سے پہلے جسم کو زیادہ مشقت میں نہ ڈالیں، ہمیں ڈانس کرتے وقت ڈانس کو محسوس کرنا ہوتا ہے، فلسطینی ڈانسر Rawan Sameer salamahنے ورکشاپ کے دوران ”فری فلسطین“ کا نعرہ لگایا اور فلسطینی کوفیہ پہن کر فلسطین کا روایتی رقص ”دبکہ“بھی کرکے دکھایا۔ شرکاءنے فلسطینی ثقافت اور مزاحمتی رقص میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔فیسٹیول میں ایوب گاد لطیف کا لکھا ہوا تھیٹر پلے ”ہو جمالو“ پیش کیا گیا جس کے ڈائریکٹر علی گل ملاح تھے جبکہ فنکاروں میں امجد گل سومرو،واحد رضا،فہیم مغل (پاکھی) لائبہ بلوچ اور علی گل ملاح شامل تھے ، ”ہو جمالو“ کی کہانی ایک ایسے مڈل کلاس شخص کی تھی جو محنت کرنے سے کتراتا ہے مگر چاہتا ہے کہ اس کا نام بھی دنیا بھر میں ویسے ہی مشہور ہو جائے جیسے مشہور ”جمالی“ کا ہے، باپ کے طعنوں سے تنگ آکر یوٹیوب چینل بناتا جس اپنی بیوی سے گانے ماڈل کراتا ہے جس پر سسر ناراض ہوکر بیٹی کو اپنے گھر لے جاتا ہے، جس پر جمالو خودکشی کرتا ہے مگر لوگ اسے بچا لیتے ہیں۔ فیسٹیول کے 15روز کا اختتام تھیٹر پلے ”Kuttay“ پر ہوتا ہے جس کے ڈائریکٹر محمد علی جبکہ فنکاروں میں رشید احمد، زبیر بلوچ، متی مختلف ، فیصل خلیق،علی رضا،بھرت کمار اور عبداللہ ڈار شامل تھے، تھیٹر پلے ”کتّے“ کی کہانی معاشرتی و سیاسی طنز پر مبنی تھی جو انسانوں کے اندر چھپی طاقت، لالچ اور بقا کے حیوانی جذبات کی عکاسی کرتا ہے، تھیٹر میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح جابرانہ نظام کے نیچے انسانیت ٹوٹ جاتی ہے اور پھر لوگ اپنی عزت اور اصول صرف زندہ رہنے کے لیے قربان کر دیتے ہیں، یہ پلے انسان اور نظام کے درمیان اس کشمکش کو بے نقاب کرتا ہے جہاں بقا کی جنگ میں انسان خود انسانیت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ورلڈ کلچر فیسٹیول کے تحت روزانہ کی بنیاد پر مختلف ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں اہلیان کراچی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ عالمی ثقافتی فیسٹیول 7 دسمبر تک آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری رہے گا۔