
اداکار فیروز خان کی اہلیہ ڈاکٹر زینب اور سابق اہلیہ علیزہ سلطان کے درمیان انسٹاگرام پر چپقلش ہوگئی، جس پر صارفین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
فیروز خان کی سابق اہلیہ علیزہ سلطان نے انسٹاگرام پوسٹ پر کمنٹ کیا کہ ’برائے مہربانی سردیوں کے کپڑے اور یونیفارم بھجوا دیں‘۔
ان کی جانب سے انسٹاگرام کی پوسٹ پر کمنٹ کیے جانے کے بعد فیروز خان کی حالیہ اہلیہ ڈاکٹر زینب کو غصہ آگیا اور انہوں نے شوہر کی سابق بیوی کو کھری کھری سنادیں۔
ڈاکٹر زینب نے علیزہ سلطان کو جواب دیا کہ ایسی باتیں عام پلیٹ فارم پر اس طرح نہیں کی جاتیں اور یہ کہ وہ پہلے ہی فیروز خان کو اس طرح کے حربوں سے پریشان کر چکی ہیں، ان کی ذہنی صحت داؤ پر لگا چکی ہیں، اب انہیں مزید ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے علیزہ سلطان کو جواب دیا کہ وہ اپنے والد اور بھائی کے فون نمبرز استعمال کرکے فیروز خان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرنا بند کردیں، انہیں میسیجز بھیجنا بند کردیں، وہ پہلے ہی اداکار کو ذہنی طور پر پریشان کر چکی ہیں۔
ڈاکٹر زینب نے ایک اور کمنٹ میں علیزہ سلطان کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ اب ان کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ فیروز خان سے رابطہ کریں، انہیں پیغامات بھیجیں، انہیں پریشان کریں۔
انہوں نے انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنے ذاتی مسائل بھی فیروز خان کو بتانا بند کریں، وہ اپنے ہارمونز کی تبدیلی کے مسائل کو خود حل کریں۔
ڈاکٹر زینب نے شوہر کی سابق اہلیہ کو تجویز دی کہ وہ شادی کرلیں، ان کے مسائل شادی سے ہی حل ہوں گے۔
فیروز خان کی اہلیہ نے شوہر کی سابق بیوی کو دھمکی بھی دی کہ اگر وہ باز نہ آئیں اور ایسے ہی عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسے کام کرتی رہیں تو وہ بھی عوام کے سامنے ان کا اصل چہرہ بے نقاب کردیں گی۔
خیال رہے کہ علیزہ سلطان اور فیروز خان کے درمیان 2022 میں طلاق ہوگئی تھی، دونوں نے 2018 میں شادی کی تھی اور انہیں دو بچے بھی ہیں جو اب والدہ کے ساتھ رہتے ہیں اور والد بچوں کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔
فیروز خان نے دوسری شادی ڈاکٹر زینب سے جون 2024 میں کی تھی اور دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن دونوں ہمیشہ ایسی خبروں کو مسترد کرتے رہے ہیں
===============================
پیپلزپارٹی ایک خاندان اور 40 وڈیروں کا نام ہے،اس نے عوام کو محکوم بنایا ہوا ہے
چوہدریوں، سرداروں اور خاندانوں نے قوم کو غلام ابن غلام بنا رکھا ہے، افسرشاہی اور ظلم کے نظام میں عوام جکڑی ہوئی ہے، انگریز کی خدمت پر انہیں جاگیریں ملیں، امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن
پیپلزپارٹی ایک خاندان اور 40 وڈیروں کا نام ہے،اس نے عوام کو محکوم بنایا ..
کراچی 14 نومبر 2025ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک خاندان اور چالیس وڈیروں کانام ہے، گاؤں دیہاتوں میں عوام کو محکوم بنایا ہوا ہے،اب شہروں پر قبضہ کررہے ہیں۔ اسی طرح چوہدریوں، سرداروں اور خاندانوں نے قوم کو غلام ابن غلام بنارکھاہے، انگریزکی خدمت کے صلے میں جاگیریں لینے والے اور ان کی اولادقوم پر مسلط ہے، افسر شاہی، استحصال اورظلم کے نظام میں عوام کو جکڑا ہوا ہے، صرف اپنے اقتدار اور تسلط کو قائم رکھنے کے لیے تعلیم، معیشت، پارلیمنٹ، عدالت ہر شعبے کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے، تمام پارٹیاں خاندان، وراثت اوروصیت کے نام پر چل رہی ہیں، تمام پارٹیوں نے وڈیروں اور جاگیرداروں کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے، صرف جماعت اسلامی عوام کی حقیقی نمائندہ اور ترجمان ہے اور اس ظلم کے نظام کو ختم کرسکتی ہے، ملک میں نظام کی تبدیلی کی ایک بڑی تحریک اور جدوجہد کی ضرورت ہے،21تا 23نومبر مینار پاکستان لاہور میں جماعت اسلامی کاکل پاکستان اجتماع عام”بدل دو نظام“کی تحریک اور جدوجہد کا نکتہ آغاز ہوگا، اجتماع میں اس گلے سڑے نظام کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع شرقی کے تحت پروفیسر عبدالغفور احمد روڈ گلستان جوہر میں ”بدل دو نظام عوامی کنونشن“میں شریک مردو خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کنونشن سے امیر ضلع شرقی نعیم اختر،سیکریٹری پبلک ایڈ کمیٹی کراچی نجیب ایوبی نے بھی خطاب کیا، کنونشن میں کو آپریٹوہاؤسنگ سوسائٹیز پر حکومتی سرپرستی میں قبضوں اور اصل الاٹیز کو ان کی زمینوں سے محرومی کے خلاف اور بی آر ٹی ریڈ لائن پروجیکٹ کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر،منصوبے کی لاگت میں اضافہ و مالی بے ضابطگیوں اور شہریوں،تاجروں اور طلبہ وطالبات کو درپیش مشکلات وپریشانیوں کے حوالے سے قراردادیں بھی منظور کی گئیں، جن میں مطالبہ کیاگیا کہ ریڈ لائن کی تکمیل کی حتمی تاریخ کا اعلان کیاجائے اور کو آپریٹو سیکٹر کے معاملات کی تحقیقات کے لیے اعلی عدلیہ کے ججوں پر مشتمل کمیشن قائم کیاجائے، اس موقع پر نائب امیر کراچی مسلم پرویز، نائب امیر ضلع عزیز الدین ظفر، ڈپٹی سیکریٹری کراچی ابن الحسن ہاشمی، سیکریٹری اطاعات زاہد عسکری ٹاؤن چیئر مین ڈاکٹر فواد احمد،وائس ٹاؤن چیئرمین محمد ابراہیم اور پبلک ایڈ کمیٹی کے محمد قطب سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے، قبل ازیں حافظ نعیم الرحمن کی آمد پر ان کا شاندار استقبال کیاگیا، پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اورپرجوش نعرے لگائے گئے، حافظ نعیم الرحمن نے اسٹیج پر کھڑے ہوکر شرکائ سے اظہار یکجہتی کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں اسلام کے عادلانہ و منصفانہ نظام کے قیام،آئین و قانون کی حکمرانی،عدلیہ کی آزادی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوامی رائے کے احترام سے ہی مسائل حل اورملک وقوم بحرانوں سے نکل سکتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی گود میں پرورش پانے والی پارٹیوں نے مل کر آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، پارلیمنٹ کو بے توقیر اور عدلیہ کواپنا دست نگر بنایا جارہا ہے، 26ویں ترمیم کے بعد جو رہی سہی کسررہ گئی تھی وہ 27ویں ترمیم نے پوری کردی، آئین اور جمہوریت کو پامال کیا جارہا ہے، معیشت تباہ اور ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے،اسٹاک ایکسچینج کا بڑھنا معیشت کی بہتری نہیں بلکہ سٹے کی نشاندہی کرتا ہے، مزدور،کسان،طلبہ اور غریب ومتوسط طبقے کی حقیقی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں ہے،پارلیمنٹ میں بھی مخصوص طبقات اور اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ دینے والے بیٹھے ہیں، فیکٹریوں میں قائم ٹھیکیداری نظام میں ملازمین بالخصوص خواتین اپنے حقوق سے محروم ہیں، حکمران پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کوبھی ایماندار اور دیانتداروں کے بجائے چور اور ڈاکو ہی پسند آتے ہیں، نعمت اللہ خان کی امانت ودیانت کے اثرات اور کام اہل کراچی نے دیکھے ہیں، اس کے بعد کیا ہوا اورآج کراچی کہاں کھڑ ا ہوا ہے، سب کے سامنے ہے، پیپلز پارٹی کم وبیش 40سال سے سندھ پر مسلط ہے اور ایم کیوایم بھی شریک اقتدار رہی ہے لیکن اہل کراچی آج پینے کے پانی اور بنیادی شہری سہولتوں تک سے محروم ہیں، جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی عوام کی خدمت کی ہے اورآئندہ بھی عوام کے مسائل حل کرسکتی ہے، ہمارے منتخب نمائندے آج بھی سندھ حکومت کی طرف سے اختیارات ووسائل نہ دینے کے باوجود عوامی خدمت اور مسائل حل کروانے میں مصروف ہیں اور ہمارے 9ٹاؤنز کی صورتحال دیگر ٹاؤنز سے کہیں زیادہ بہتر ہے، ہم نے وعدہ کیاتھا کہ اختیارات ووسائل سے بڑھ کر کام کریں گے وہ ہم کررہے ہیں اور باقی اختیار ات بھی حاصل کرکے رہیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ جماعت اسلامی عوام کو اپنے ساتھ ملاکر ملک میں حقیقی تبدیلی اور انقلاب کی جدوجہد کررہی ہے، نوجوانوں کا رجوع ہماری طرف مسلسل بڑھ رہا ہے،کراچی سے شروع ہونے والے بنو قابل کے پروگرام میں ملک بھر میں 12لاکھ نوجوانوں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔خواتین کے دائرے میں بھی جماعت اسلامی آگے بڑھ رہی ہے،الخدمت کی عوامی خدمات ملک بھر میں سب سے زیادہ ہیں اور عوام اور اہل خیر جماعت اسلامی اور الخدمت پر اعتماد کرتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ ان کا دیا گیا ایک ایک پیسہ امانت اور دیانتداری کے ساتھ خرچ ہوگا۔
نعیم اختر نے کہا کہ آج ہم جس جگہ جمع ہیں یہ سڑک پروفیسر عبدالغفور احمد کے نام سے منسوب ہے، پروفیسر غفور کا 1973کے دستور کی تشکیل میں اہم اور کلیدی کردار رہا ہے، افسوس کہ آج اس متفقہ دستو ر کا حلیہ بگاڑ دیاگیا ہے، 1973کا دستور اگر اپنی اصل حالت میں بحال اور نافذ رہتا تو ملک اورقوم ان حالات کا شکار نہ ہوتے جو آج ہیں،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ضلع شرقی میں 250عوامی کمیٹیاں بنادی ہیں جو منتخب نمائندوں کے تعاون سے مسائل حل کروانے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔
نجیب ایوبی نے کہا کہ جماعت اسلامی کی پبلک ایڈ کمیٹی نے اہل کراچی کو درپیش ہر مسئلے پر آواز اٹھائی ہے،کے الیکٹرک کی لوٹ مار اور ظلم کے خلاف عوام کا ساتھ دیا، نادرا کی ایس اوپیز کی تبدیلی کے لیے قانون سازی کروائی اور بلا امتیاز و تفریق شہریوں کے شناختی کارڈ کے حصول کو آسان بنایا، بحریہ ٹاؤن اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے متاثرین کی داد رسی کی اور ان کو ان کے حقوق دلوائے، آج بھی ادارہ نور حق میں عوامی مسائل بیٹھک میں ہزاروں شہری ہم سے رجوع کرتے ہیں اور ہم ان کو ہر ممکن مددفراہم کرتے ہیں۔























