کیس نمبر 9 اقساط پندرہ،سولہ تاخیری حربوں سے ڈرامے کو زبردستی طوالت دی جارہی ہے ۔ عدالت کے مناظر اتنے بچکانہ ہیں کہ لگتا ہے رائٹر ،ڈائریکٹرنے جونی ایل ایل بی کی ایک بھی فلم نہیں دیکھی ۔

کیس نمبر 9 اقساط پندرہ،سولہ
تاخیری حربوں سے ڈرامے کو زبردستی طوالت دی جارہی ہے ۔
عدالت کے مناظر اتنے بچکانہ ہیں کہ لگتا ہے رائٹر ،ڈائریکٹرنے جونی ایل ایل بی کی ایک بھی فلم نہیں دیکھی ۔
اب مجھ سے کاروبار کی حالت نہ پوچھئے
آئینہ بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں
(محمود سروش)
یہ بات ہے قسط نمبر پندرہ کی جو
شروع ہوتی ہے اس طرح کہ سحر کی وکیل کے بجائے جج خود کامران سے جرح شروع کردیتاہے ۔۔۔۔ بینش تو صرف شو پیس ہے ۔۔۔۔ حلف نامے کو بطور مذہبی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔۔۔۔ بار بار سب سے حلف لیا جاتا ہے ۔۔۔ (جس سے ڈرامے کے دورانیے کو بڑھانا مقصود ہے)ایک بات کسی کی بھی سمجھ نہیں آرہی کہ اس واقعے کا جو مسماۃ سحر بی بی کے ساتھ پیش آیا۔ اس کا ایک ہی موقع کا گواہ ہے۔ عدالت سب سے جرح کررہی ہے یا کرنے کی اجازت دے رہی ہے لیکن جو اصل گواہ ہے۔ روہت ۔اس کو نہیں بلارہی ۔۔۔ ظاہر ہے ڈرامے کو طول دینے کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے۔
بینش (وکیل صفائی)کا جاسوس گاؤں پہنچا ۔۔۔ بہت ہی بچکانہ لگ رہی ہے اس کی تفتیش ۔۔۔
مرید ۔۔۔۔ کے بھائی سے باتیں شروع کیں اور اور وہ بے وقوف طوطے کی طرح ایک اجنبی کو سب کچھ بتاتا چلا گیا ۔ (اس پوری سچویشن سے یہ یقین کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ ڈرامے والے ناظرین کو پوری طرح جاہل سمجھتے ہیں۔ جن کے پاس سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سرے سے موجود نہیں ہے۔پہلی بات تو یہ کہ کیا وکیل صفائی کو الہام ہوا تھا کہ مرید کے گاؤں کنڈیارو (کراچی سے چار پانچ گھنٹے کا فاصلہ ہے کم سے کم )انھیں اتنی قیمتی معلومات ملیں گی کہ وہ کیس کا پانسا پلٹ دیں گی ۔ اسی بنیاد پر موصوفہ وکیل نے عدالت کی چلتی ہوئی کارروائی کو رکوا کر دس منٹ کا وقت مانگا ۔ اس دیوی کو یہ معلوم تھا کہ اسی دورانیے میں اس کے جاسوس کا فون آئےگا اور وہ کیس میں پہلا چھکا مارنے میں کامیاب ہوجائے گی ۔ یعنی وکیل صفائی کیس کو ذہانت اور فطانت سے لڑنے کے بجائے کشف وکرامات سے لڑ رہی ہے ۔ اور واقعتاً اسی دس منٹ میں ان کے جاسوسی کا فون آجاتا ہے۔ اب بچوں سے بھی گئے گزرے پینترے استعمال کئے جاتے ہیں کہ پہلے بیٹری کمزور ہوگئی ۔۔ میاں جیمز بانڈ بھاگ کے پہنچے ایک ہوٹل پر چارجر پوچھا۔ جھٹ سے مطلوبہ چارجر مل بھی گیا۔ فون چارج پہ لگا ہوا تھا کہ لائٹ چلی گئی ۔۔۔ دو ہتھکنڈے اور تھے، انھیں بھی استعمال کرلیتے, مزید تاخیر کرنے کا آسرا ہوجاتا۔ ایک یہ کہ چارجر اس موبائل کا نہیں مل رہا جو جمیز بانڈ کے پاس ہے۔ دوسرا پینترا یہ چلا جاسکتا تھا کہ( بروئے کچھ واقعات) جس وقت جیمز بانڈ نے چارجنگ کے دوران کان سے فون لگا کر بات کی تو، فون پھٹ جاتا (اس نوع کے واقعات دنیا بھر میں کئی رونما ہوچکے ہیں) اور جیمز بانڈ جی موقع پر جاں بحق ۔۔۔
ایک قسط تو اس میں باآسانی نکل جاتی ۔ عقل کا ماتم کیجے کہ اس وکیل کو پتا ہے کہ کامران کے چاروں ملازموں میں ایک عورت بھی ہے ۔ ذراسی بھی ہوشیار وکیل ہوتی تو سب سے پہلے اس عورت فرزانہ کو بلواتی ۔ لیکن نہیں۔ کیونکہ ڈرامے کو بلاوجہ کی جھک جھک سے گھسیٹنا جو مقصود ہے ۔ مرید پر جرح ہونے کے بعد جب اس نے آخری میں یہ کہا کہ میں نے کامران سے پیسے ادھار لئے ہیں۔ اس بے پناہ سولڈ جواب کے بعد بھی اس تاثر کو ہوا دی گئی کہ وکیل بی بی نے کیس کا پانسہ پلٹ دیا ہے ۔۔۔ دھواں نکال دیا ہے ۔۔۔ مکالموں سے یہ تاثر تخلیق کرنے کی ناکام کوشش تھی۔ ورنہ عدالت کی کارروائی سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ بینش بی بی نے کوئی تیر مارا ہے ۔ پھر عدالت کے باہر کامران کو چیلنج کیا کہ میرے سوالوں کا سامنا کرو۔ کیا فلمی انداز ہے ۔ بہت ہی پُھسپُھسا اسکرپٹ ہے ۔ آمنہ شیخ ۔۔ بطور وکیل صفائی انتہائی فضول انتخاب ہے ۔۔۔ بیک گراؤنڈ میوزک اتنا ہولناک بجایا جارہا ہے کہ اسٹار پلس والے بھی کہہ رہے ہوں گے۔ ہم تو بے کار میں بدنام تھے ۔۔۔یہ کونسے عہد کا ڈراما ہے۔ پچیس ہزار تنخواہ تو اب کوئی نہیں لیتا ۔۔۔ انتہائی بچکانہ اسکرپٹ ۔۔۔ کسی وکیل سے ہی مشورہ کرلیتے ۔۔۔ تاکہ عدالت میں جرح وغیرہ زیادہ چوکس بنائی جاسکتی ۔
لگتا ہے رائٹر اور ڈائریکٹر نے جونی ایل ایل بی تک نہیں دیکھیں ۔ ورنہ عدالتی کارروائی کچھ تو بہتر انداز میں دکھائی جاسکتی تھی ۔فلموں میں ایسی عدالت اور جرح، دلیل اور رد دلیل کے مکالمے ہوتے ہیں کہ دیکھنے والوں کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔۔۔ عقل دنگ تو اب بھی ہے مگر یہ سوچ کر کہ کوئی اتنا پُھسپُھسا اسکرپٹ کیسے لکھ سکتا ہے ؟ اسی کارن سے ڈائریکٹر انتہائی لاؤڈ بیک گراؤنڈ میوزک بجاکر اس کمزوری پر حاوی ہونے کی کوشش کررہا ہے ۔۔ اور ناظرین کے کانوں میں صور پھونکاجا رہا ہے تاکہ وہ ایسی سامنے کی بڑی بڑی غلطیوں کو بھی نشان زد نہ کرسکیں۔
ایپی سوڈ سولہ میں وکیل صفائی نے کم سے کم دو بار یہ مکالمہ بولا کہ
وقت آنے پر سارے ثبوت پیش کردئے جائیں گے ۔۔۔ (کب پیش کردئے جائیں؟ اور وہ وقت کیوں نہیں آرہا؟)
فیصل قریشی کو خوامخواہ خواب دکھاکر کہ وہ وکیل بینش کی جرح کا سامنا کررہا ہے۔۔۔ یہ منظر ایک اور تاخیری حربےکے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔پھر فلیش بیک دکھایا گیا کہ بینش نے کامران کو سوالوں کے جواب دینے کا چیلنج دیا تھا ۔۔۔ (طول دینے کی کوشش)ایک عورت کی عزت کا جنازہ رکھ کے اس کا تماشا لگایا جارہا ہے ۔۔۔۔ اس احساس کو تقویت مل رہی ہے ۔
بار بار حلف کے الفاظ دوہرائے جاتے ہیں ۔۔۔ یہ بھی تاخیری حربے ہیں ۔۔۔۔ فلرٹ والی بات دوہرائی گئی۔
کرن عدالت میں منیشا کو روز دیکھتی ہے۔ مگر اس سے ملاقات نہیں کرتی، یہ کس قدر غیر حقیقی اور غیر سماجی عمل ہے ۔۔ کیا ناظرین کو ان غلطیوں کو معاف کرنا چاہیے ۔؟خود منیشا شوہر کے خلاف سحر کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے لیکن وہ بھی کرن سے مل کر اسے سچ بتانے کی کوشش نہیں کرتی۔ روہت نے اسے اگلے دن ہی بتادیاتھا کہ کامران نے سحر کا ریپ کیا ہے۔ کیوں منیشا یہ سچ کرن کو نہیں بتاتی۔؟ سیدھی بات ہے ناظرین کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے ۔
اگر آپ کو کراچی سے حیدرآباد جانا ہوتو کیا آپ پہلے پورا پاکستان گھومیں گے ۔۔۔ اور بن پڑا تو بنگلہ دیش بھی جائیں گے ۔۔۔پھر حیدرآباد جائیں گے ۔۔۔ یہاں ایسا ہی ہورہا ہے اصل گواہوں کو عدالت میں پیش ہی نہیں کیا جارہا نہ ہی عدالت انھیں بلارہی ہے ۔فلرٹ والے میسجز کی بات کون بے وقوف یہ کہے گا آبیل مجھے مار ۔۔۔ کامران نے خود یہ بات کہی۔ اب ذرا سوچئے کیا کامران لیول کے بندے کو یہ بات نہیں معلوم کہ موبائل کمپنیاں عدالت کو ڈیٹا فراہم کرسکتی ہیں ۔ پھر بھی وکیل صفائی نے اس ٹاپک پر فضول بحث کی۔ اور جج نے کرنے کی اجازت دی ۔اگلے ثانیے میں وکیل صفائی عدالت سے کہہ سکتی تھی کہ موبائل کمپنی کو ڈیٹا فراہم کرنے کا حکم دیا جائے ۔ پھر چاہے کامران نے میسجز ڈیلیٹ ہی کیوں نہ کردیے ہوں ۔ کامران کو اول تو یہ بات معلوم ہونی چاہیے تھی ۔ غلطی ہو بھی گئی تو وکیل صفائی کی ڈیٹا منگوانے کی درخواست کے بعدوہ ڈھیر ہوجاتا۔ لیکن اس کے بجائے اس بات کو لے کر لمبی اور فضول جرح کی گئی ۔ جس سے ڈرامے کو کھینچنے کے علاوہ اور کیا سمجھا جائے ۔وکیلوں کی آپس کی لڑائی بھی عقل سے خالی اور وقت کی بربادی ہی ہوتی ہے مگر یہ ہر ایپی سوڈ میں لازمی رکھی جاتی ہے ۔ انڈین فلم ہی دیکھ لیتے جہاں موبائل ڈیٹا متعدد فلموں میں پیش کیا جا چکا ہے ۔۔۔۔ پھر بھی اس بات کو ربڑ کی طرح گھسیٹا جارہا ہے ۔۔۔۔ کیا کیس نمبر 9 بنانے والوں کو یقین ہے کہ ان کا ڈراما ایک بھی صاحب دماغ انسان نہیں دیکھتا ؟