پاکستان سپر لیگ کی توسیع کا طویل انتظار اب اختتام کے قریب ہے، کیونکہ پی سی بی نے تصدیق کی ہے کہ اسے دو نئی پی ایس ایل ٹیموں کے سلسلے میں آزادانہ اسیسمنٹ رپورٹس موصول ہو گئی ہیں۔ یوں لیگ 2017ء کے بعد پہلی مرتبہ نئی فرنچائزز شامل کرنے کے بالکل قریب پہنچ گئی ہے، اور اس مقصد کے لیے شہروں کے ساتھ ابتدائی فائنلائزیشن بھی مکمل ہو چکی ہے۔
یہ پیش رفت ایک جامع مالیاتی جائزے کے بعد سامنے آئی ہے، اور پی ایس ایل کے نقشے میں نئے شہروں کو شامل ہوتا دیکھنے کے خواہش مند شائقین کے لیے یہ اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ لیگ کی توسیع اب تصور سے نکل کر حقیقت بننے جا رہی ہے۔ پی ایس ایل انتظامیہ پہلے ہی بتا چکی تھی کہ وہ دو نئی ٹیموں کے لیے ممکنہ شہروں کو شارٹ لسٹ کرے گی، تاہم ان کے نام ابھی تک منظرِ عام پر نہیں لائے گئے تھے۔
پی سی بی کے مطابق نئی ٹیموں کا اسیسمنٹ عمل EY MENA نے مکمل کیا ہے، جو فی الوقت موجودہ فرنچائزز کے جائزے کی بھی ذمہ دار ہے۔ ان رپورٹس کے بعد اب اگلا مرحلہ دو نئی فرنچائزز کی فروخت کے لیے باضابطہ ٹینڈر جاری کرنا ہے۔ شائقین اور ممکنہ سرمایہ کاروں کے لیے سب سے اہم بات ان چھ شہروں کی فہرست ہے جن میں سے انتخاب ممکن ہوگا:
حیدرآباد
سیالکوٹ
مظفرآباد
فیصل آباد
گلگت
راولپنڈی
ہر شہر اپنی منفرد کرکٹ ثقافت اور تجارتی حیثیت کا حامل ہے، اور حتمی انتخاب پی ایس ایل کے جغرافیائی ڈھانچے کو نمایاں طور پر بدل سکتا ہے۔ برسوں سے فیصل آباد، سیالکوٹ اور راولپنڈی کے شائقین لیگ میں اپنے شہر کی نمائندگی کے لیے مطالبہ کرتے آئے ہیں، جبکہ گلگت اور مظفرآباد جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹیں برانڈنگ اور فین انگیجمنٹ کے نئے امکانات فراہم کر سکتی ہیں۔
ٹینڈر ونڈو جلد کھلنے والی ہے، اور اسی کے ساتھ سرمایہ کاروں اور شائقین کے لیے ایک اہم الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ پی ایس ایل کی توسیع نہ صرف ٹیموں کی لائن اپ تبدیل کرے گی، بلکہ نئی دشمنیوں اور نئے مقابلوں کو بھی جنم دے گی، جس سے لیگ کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہونے کے ساتھ مزید آمدنی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ پی سی بی کے لیے یہ اسیسمنٹ عمل مکمل ہونا ایک عالمی سطح پر مسابقتی اور مالی طور پر مضبوط پی ایس ایل کی جانب بنیادی قدم ہے۔
شائقین کے لیے اس پیش رفت کا مطلب ہے: نئی ٹیمیں، نئے رنگ، نئی روایتی دشمنیاں، اور پہلے سے زیادہ جوش و خروش۔























