
کرایا داری ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے عرفان صدیقی
کرایا داری ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے عرفان صدیقی
(87) Karaya-dari Act Kai Tehat Giraftar Honay Walay Irfan Siddiqui | Googly News TV – YouTube
Transcript:
(00:00) دنیا سے چلے جانے والوں کو اچھے الفاظ میں یاد کرنا چاہیے ہم سب میں بہت سی کمزوریاں ہوتی ہیں ہم سب غلطیاں اور کوتائیاں کرتے ہیں لیکن انسان کو ایسا کام ضرور کرنا چاہیے جسے اس کے مرنے کے بعد بھی یاد رکھا جائے سینئر صحافی اور تلزیہ کار حامد میر اپنی تازہ تحریر جو بچھڑ گئے میں مسلمی نون کے رہنما کالم نگار اور سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مرہوم ایک باوقار لکھاری استاد اور شفیق انسان تھے وہ کہتے ہیں کہ عرفان صدیقی کی وفات نے صحافت عدب اور سیاست تینوں دنیاوں کو ایک ساتھ سوگوار کر دیا ہے
(00:39) عرفان صدیقی ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے قلم اور کردار سے ہمیشہ وقار اور مطانت کا پرچم بلند رکھا وہ نہ صرف ایک دردبند لکھاری تھے بلکہ اپنی تدریسی صحافتی اور سیاسی زندگی میں اعتدال شرافت اور بردباری کی مثال بھی بنے رہے حامد ویر بتاتے ہیں کہ عرفان صدیقی سے ان کی پہلی ملاقات انیس سو ستانوے میں ہوئی سیاچن کے محاذ پر جانے کے دوران ایک فوجی ہیلیکاپٹر میں وہ میرے ہم سفر تھے اس وقت وہ ہفت روزہ تکبیر سے وابستہ تھے سکردو سے اسلام آباد واپسی کے دوران پرواز منسوک ہونے پر ہمیں سڑک کے ذریعے سفر کرنا پڑا اور وہی سفر ہماری گہری دوستی کا آغاز بن گیا
(01:20) گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ محض ایک صحافی نہیں بلکہ استاد مفکر اور ایک سنجیدہ قاری ہیں جنہیں اقبال منٹو اور کلاسیکی عدب سے گہرا شغف تھا حامد بیر بتاتے ہیں کہ عرفان صدیقی نے اتدامے سرسیت کالیج لاورپنڈی میں اردو پڑھائی بعد ادان تدریس چھوڑ کر صحافت سے وابستہ ہو گئے اور جلد ہی اپنی تحریر کے ذریعے محتبر مقام حاصل کیا بعد میں وہ صدر پاکستان محمد رفیق تارر کے پریس سیکٹری مقرر ہوئے جہاں انہوں نے اپنے وقار اور علمی انداز سے نمائی کردار ادا کیا پرویز مشرف کے دور حکومت میں جب وہ عودے سے الگ ہوئے تو کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا
(02:00) ان کے کالموں میں اقبال کا فلسفہ سماجی شعور اور سیاسی حقیقت پسندی نمائی رہتی تھی وہ مسلم لیگ نون کے قریب آئے اور پھر نواز شریف کے تقریر نویز بن گئے بعد ازا انہیں سینٹ آف پاکستان کا حکم بنایا گیا حامد میر کے بقول عرفان صدیقی کی خدمات صرف سیاست تک محدود نہیں رہی دوہزار پندرہ میں سپریم کورٹ کے حکم پر میڈیا کے لیے ذابطہ اخلاق کی تیاری کی ذمہ داری ان کے سپورٹ کی گئی انہوں نے نہائی سنجید کی اور مطانت کے ساتھ مختلف میڈیا اداروں اور صحافی نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایسا مصمودہ تیار کیا جو بعد ازاں سپریم کورٹ کے حکم سے نافذ
(02:38) ہوا آج پیمرہ کا جو ذابطہ اخلاق موجود ہے اس کی تشکیل میں عرفان صدقی کا کلیدے کردار تسلیم کیا جاتا ہے حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ دوہزار انیس میں جب عمران خان حکومت نے انہیں اپنے مالک مکان کی درخواست پر کرایہ داری ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تو پورے میڈیا نے اس اقدام پر احتجاج کیا اس واقعے نے ان کی شخصیت کی شرافت اور وقار کو مزید دمائی کر دیا انہوں نے جیل سے رہائے کے بعد بھی کسی کے خلاف تلخی نہیں دکھائی عرفان صدیقی کے عدوی ذوق اور حساس طبیعت کی سب سے بڑی مثال ان کے کتاب جو بچھڑ گئے ہیں اس مجموعے میں انہوں نے ان شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا
(03:19) جنہیں وہ اپنی زندگی کے قیمتی رشتوں میں شمار کرتے تھے اس کتاب میں ان کی والدہ پر لکھا گیا کولم آسمہ تیری لہت پہ شبنم افشانی کرے اردو نصر کا ایک خوبصورت مرسیہ سمجھا جاتا ہے علامہ اقبال سے ان کی عقیدت بھی انی کی والدہ کے ذریعے ان کے دل میں بسی جو اکثر ان سے اقبال کی نظم والدہ مرہومہ کی یاد میں سننے کی فرمائش کیا کرتی تھی حامد بیر کہتے ہیں کہ عرفان صدقی کی شخصیت میں علم شرافت نرم گفتاری اور فکری گہرائی ایک ساتھ نظر آتی تھی وہ اقبال کے فلسفے کے عاشق تھے اور ان کی فارسی ربائی تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
(03:57) ان کے دفتر کی دیوار پر آویزہ تھی وہ ہمیشہ آجزی دردمندی اور وقار کے ساتھ جیتے رہے حامد بیر کے بقول عرفان صدقی کے انتقال پر صحافتی عدوی اور سیاسی حلقے یقصہ طور پر افسردہ ہیں وہ ایک ایسے وقت میں رخصت ہوئے جب ملک کو ان جیسے متوازن اور صاحب وسیرت رہنماؤں کی ضرورت پہلے سے کئی زیادہ تھی ان کے زندگی یہ پیغام چھوڑ گئی کہ اختلاف رائے میں بھی وقار علم اور شائستگی برقرار رکھی جا سکتی ہے ان کے کتاب جو بچھڑ گئی کے اختلاف رائے میں بھی وقار علم اور شائستگی برقرار رکھی جا سکتی ہے ان کے کتاب جو بچھڑ گئے اب ان کی اپنی زندگی کا استحرار
(04:30) بن چکی ہے ایک ایسی کتاب جس نے ان کے قلم کو عمر کر دیا اور شاید آنے والی نسلیں عرفان صدیقے کو اسی تحریر کے ذریعے یاد رکھیں گی
========================
“ان ججز کیلئے افسوس ہے جو سیاسی مقصد کیلئے وجود میں لائی گئی آئینی عدالت کا حصہ بنیں گے”
“آئینی ترمیم ایسی حکومت نے کی جس کی اپنی آئینی حیثیت زیر جائزہ ہے” جسٹس منصور علی شاہ کے استعفے کا متن
“ان ججز کیلئے افسوس ہے جو سیاسی مقصد کیلئے وجود میں لائی گئی آئینی عدالت ..
اسلام آباد ۔ 13 نومبر2025ء) سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے کے متن میں کہا ہے کہ “ان ججز کیلئے افسوس ہے جو سیاسی مقصد کیلئے وجود میں لائی گئی آئینی عدالت کا حصہ بنیں گے، آئینی ترمیم ایسی حکومت نے کی جس کی اپنی آئینی حیثیت زیر جائزہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا، سپریم کورٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے”۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکرے کر دیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم کرکے عدلیہ کی آزادی کو پامال کرنے سے ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا، اس نازک موڑ پر میرے لیے دو ہی راستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگی ہے اور انصاف عام آدمی سے دور،کمزور اور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے، 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
آئینی ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترمیم سےانصاف عام آدمی سے دور اور کمزور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ استعفے کے متن میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا۔
استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا ہےکہ ان تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئین پاکستان سے تھا، 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پر کیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔
======================
آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا
آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں، جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے کا متن
آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا
اسلام آباد 13 نومبر2025ء) سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے کے متن میں کہا ہے کہ آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفے میں کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، 27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکرے کر دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمان داری اور دیانت کےساتھ خدمت کی، میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچتاوا نہیں ہے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم کرکے عدلیہ کی آزادی کو پامال کرنے سے ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا، اس نازک موڑ پر میرے لیے دو ہی راستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے، ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگی ہے اور انصاف عام آدمی سے دور،کمزور اور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے، 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
آئینی ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترمیم سےانصاف عام آدمی سے دور اور کمزور طاقت کے سامنے بےبس ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ کے دوسرے جسٹس اطہر من اللہ نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ کا کہناہےکہ 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، چار سال بعد اسی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا، مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے طور پر حلف اُٹھایا۔
استعفے میں جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا ہےکہ ان تمام حلفوں کے دوران میں نے ایک ہی وعدہ کیا آئین سے وفاداری کا، میرا حلف کسی فرد یا ادارے سے نہیں، بلکہ آئین پاکستان سے تھا، 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل میں نے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھا تھا، خط میں اس ترمیم کے ممکنہ اثرات پر آئینی تشویش ظاہر کی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق اُس وقت کے خدشات، خاموشی اور بے عملی کے پردے میں آج حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، ہمیشہ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینےکی کوشش کی، آج وہی حلف مجھے اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اپنا استعفیٰ پیش کروں۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ آئین، جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا، اب موجود نہیں رہا، خود کو یہ یقین دلانے کی کتنی ہی کوشش کروں، حقیقت یہی ہے آئین کی روح پر حملہ ہو چکا ہے، نئے ڈھانچے جن بنیادوں پر تعمیر ہو رہے ہیں، وہ آئین کے مزار پر کھڑے ہیں، جو عدالتی چُغے ہم پہنتے ہیں، وہ محض رسمی لباس نہیں، یہ اُس مقدس اعتماد کی علامت ہیں جو قوم نے عدلیہ پر کیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے اکثر اوقات یہ لباس خاموشی اور بے عملی کی علامت بن گیا، آنے والی نسلوں نے ان کو مختلف طور پر نہ دیکھا تو ہمارا مستقبل بھی ہمارے ماضی جیسا ہی ہوگا، امید ہے آنے والے دنوں میں عدل کرنے والے سچائی کے ساتھ فیصلے کریں گے، اسی امید کے ساتھ میں آج یہ چُغہ آخری بار اتار رہا ہوں، سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے عہدے سے اپنا استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں، اللہ کرے، جو انصاف کریں، وہ سچائی کے ساتھ کریں۔























