ثاقب نثار پر طنزیہ تبصروں کی رپورٹ طلب

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی شادی کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز پر طنزیہ تبصروں کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
سابق چیف جسٹس کے حوالے سے عدالتی حکم اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نئے رولز پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک کیس کی لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔
درخواست گزار وکیل منیر احمد نے پہلے سے جاری مقدمے میں ایک متفرق درخواست دائر کی جس میں انہوں نے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے بیٹے کی شادی کی تقریب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری طنزیہ تبصرے کرنے اور پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کی درخواست کی گئی ہے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ایف آئی اے سے اس حوالے سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
درخواست گزار وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا پرسابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے صاحبزادے کی شادی اور ڈیم کی تعمیر پر طنزیہ تبصرے کئے جارہے ہیں۔ اور براہ راست کی ان کی ذات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی کابینہ نے یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، ٹویٹ اور ڈیلی موشن جیسے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے رولز کی منظوری دے دی ہے اور رولز میں تمام سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کو پاکستان میں رجسٹرڈ کرنے اور ان کے دفاتر کھولنے کا بھی کہا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق ابھی تک ان رولز پر عمل درآمد نہیں ہوا جس کی وجہ سے اس طرح کی صورت حال سامنے آئی ہے۔
وکیل نے مزید کہا کہ عدالت پی ٹی اے کو سوشل میڈیا رولز 2020ء اور سائبر کرائم ایکٹ پر عملدرآمد کرنے کا حکم دے۔
وکیل نے استدعا کی کہ عدالت پی ٹی اے اور وزارت داخلہ کو توہین آمیز مواد اپ لوڈ کرنے کے خلاف فلٹرز بھی لگانے کا حکم دے۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد ایف آئی اے سے سوشل میڈیا پر سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کے حوالے سے طنزیہ تبصروں کے بارے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
خیال رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ریٹائرمنٹ کے بعد سے ڈیم بنانے کے حوالے سے اپنی مہم پر تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ اور گذشتہ ہفتے ان کے بیٹے کی شادی کی تقریب کی تصاویر مختلف افراد نے سوشل میڈیا پر شائع کیں اور مختلف طرح کے تبصرے کئے۔ رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور



اپنا تبصرہ بھیجیں