ایل این جی اسکینڈل :شاہدخاقان عباسی کا نیب میں پیشی سے انکار نیب نے سابق وزیراعظم کو19 فروری کو دوبارہ طلبی کا نوٹس جاری کردیا

ایل این جی اسکینڈل :شاہدخاقان عباسی کا نیب میں پیشی سے انکار نیب نے سابق وزیراعظم کو19 فروری کو دوبارہ طلبی کا نوٹس جاری کردیا

دو روز قبل نیب راولپنڈی نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی اسکینڈل میں آج طلب کیا تھا، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر فراڈ، دھوکہ بازی، بددیانتی، اختیارات کا غلط استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے.خیال رہے گذشتہ ماہ چیئرمین نیب کی زیرِصدارت ہونے والے اجلاس میں ایگزیکٹو بورڈ نے شاہد خاقان عباسی، سہیل انور سیال، سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم سمیت 20 افراد کے خلاف انکوائریوں کی منظوری دی تھی. اس سے قبل 12 جنوری کو ایل این جی اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش ہوئے تھے، جن سے ڈیڑھ گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی تھی.یاد رہے اکتوبر 2018 میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایل این جی اسکینڈل کیس دوبارہ کھولنے اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ نیب کی جانب سے وزارت پٹرولیم کو خط لکھ گیا تھا، جس میں متعلقہ وزارتوں سے ریکارڈ طلب کیا تھا. جون 2018 میں من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کے الزام پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزرائے اعظم و دیگر کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی تھی، ترجمان نیب کے مطابق ملزمان پر من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا 15 سال کے لئے ٹھیکے دینے، مبینہ طور پر ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے.واضح رہے سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور حکومت میں سابق وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطرکے ساتھ ایل این جی درآمد کے معاہدے پردستخط کیے تھے، جس کے تحت پاکستان ہرسال قطر سے 3.75 ملین ٹن ایل این جی خریدے گا جو کہ پاکستان کی قومی ضرورت کا کل 20 فیصد ہے. 

اپنا تبصرہ بھیجیں